ہمسا یہ کے حقوق

94

ہمسایہ اورپڑوسی وہ دو آدمی ہیں۔ جو ایک دوسرے کے قریب رہتے اور بستے ہیں ۔انسانیت اور اس کے تمدن کی بنیاد باہمی اشتراک عمل تعاون اور موالات پر قائم ہے۔
اس دنیا میں ہر انسان دوسرے انسان کی مدد کا محتاج ہے۔ اگر ایک بھکا ہے ۔تو دوسرے پر حق ہے کہ اپنے کھانے میں سے اس کو بھی کھلا ئے۔
اگر ایک بیمار ہے تو جو تندورست ہو اس کی تیمار داری
کرے ایک پر کو ئی موصیبت آئے تو دوسرا اس کا شریک اور ہمدرد بنے اور اس اخلاقی نظام کے ساتھ انسانوں کی مجموعی آبادی باہمی محبت اور حقوق کی ذمہ داریوں کی گرہ میں بندھ کر ایک ہو جائے، ہر انسان بظاہر جسمانی اور مادی حیثیت سے جتنا ایک دوسرے سے علاحدہ اور بجائے خود مستقل ہے ۔اخلاقی اور روحانی حیثیت سے فرض ہے کہ وہ اتنا ہی زیادہ ایک دوسرے سے ملا ہوا ۔اور ایک کا وجود دوسرے کے وجود سے اتنا ہی پیوستہ ہو ۔اسی لیئےہر مزہب نے ان دونوں انسانوں پر جو ایک دوسرے کے قریب آبادہوں آپس میں محبت اور امداد کی ذمہ داری رکھی ہے
کہ وہی وقت پر اوروں سے پہلے ایک دوسرے کی مددکو پہنچ سکتے ہیں۔
ایک اور نکتہ یہ ہے کہ انسان کو اسی سے تکلیف اور دکھ پہونچنے کا اندیشہ بھی زیادہ ہو تا ہے جو ایک دوسرے سے زیا دہ قریب ہو تے ہیں۔ اس لیے انکے با ہمی تعلقات خشگوار اور ایک کو دوسرے سے ملائے رکھنا ایک سچے مزہب ۔کا سب سے بڑافرض ہے ۔
تاکہ برائیوں کا سد باب ہوکر یہ پڑوس دوزخ کے بجائے بہشت کا نمو نہ ہو۔ اور ایک دوسرے کی محبت اور مدد پر بھروسہ کرکے گھرسے باہر نکلے اور گھرمیں قدم رکھے اور ہم سب کو چاہے کہ اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے
کے ساتھ ساتھ ہر مخلوق کی دل سے خدمت کرے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو غریب لاچار اور مجبورکی خدمت کرنے کی توفیق دے۔

خدمت سے خدا ملتا ہے اور عبادت سے جنت۔