بدھ, 30, نومبر, 2022
ہومبریکنگ نیوزہماری زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جہاں پر اللہ کے...

ہماری زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جہاں پر اللہ کے رسول نے ہماری رہبری نہ کی ہو : مولانا محمد آدم مصطفیٰ 

کانپور (شکیب الاسلام) شہری جمعتہ علماء کانپور کے زیر اہتمام صدیق فیض عام انٹر کالج مکھنیا بازار میں جلسہ” اصلاح معاشرہ و اجتماع خواتین” کا انعقاد ہوا قاضی شہر حافظ و قاری عبدالقدوس ہادی کی صدارت میں منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد آدم مصطفیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جہاں پر اللہ کے رسول نے ہماری رہبری نہ کی ہو اس وقت سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جو شخص داڑھی ٹوپی وغیرہ پہنتا ہو نماز وغیرہ کا پابند ہو یعنی دیکھنے میں مسلمان نظر آتا ہو تو ہم اسے دین دار سمجھتے ہیں، اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو دیندار سمجھتا ہے،جبکہ دین ایک مکمل مجموعہ کا نام ہے جن میں سب سے پہلی چیز ہے عقائد، عبادات، معاملات معاشرت اور اخلاق لہٰذا دیندار وہ ہوا جس کی زندگی میں یہ تمام شعبے کامل درجے پر موجود ہوں دین میں جس طرح عبادات اور وضع قطع ضروری ہے اسی طرح معاملات کا درست ہونا بھی ضروری ہے مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے نماز کو عبادات کو اور وضع قطع کو دین تو سمجھا ہے اور معاملات اخلاقیات کو ہم نے دین نہیں سمجھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت کا مقصد بتایا کہ اللہ نے مجھے اخلاقیات کو بلندی پر پہنچانے کے لئے بھیجا ہے، دین صرف عبادات کا نام نہیں ہے الحمدللہ دعوت و تبلیغ کی برکت سے دین کا ایک شعبہ تو زندہ ہو گیا لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ معاشرے میں بہت خرابیاں پیدا ہورہی ہیں معاشرے کی تبدیلی میری اپنی تبدیلی کے اوپر موقوف ہے یہ خرابیاں آپ اور ہم کر رہے ہیں ہم صحیح ہوجائیں گے تو معاشرہ صحیح ہو جائے گا۔ معاشرہ اس لئے صحیح نہیں ہو رہا ہے کیونکہ معاشرے کی تبدیلی گھریلو نظام  کو دین سے وابستہ نہیں کیا گیا ہے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ معاشرے کی تبدیلی اور گھریلو نظام کی تبدیلی ایک سماجی کام ہے، میری بیوی سے میرے تعلقات کیسے ہونے چاہیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک سوشل کام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میاں اور بیوی ایک دوسرے کو محبت سے مسکرا کر  دیکھتے ہیں تو اللہ ان کو مسکرا کر دیکھتا ہے میاں بیوی کے تعلقات اچھے ہوں اس کا قرآن میں بھی حکم بتایا گیا  ہے قرآن میں آ یا ہے کہ مردوں تم عورتوں کے لئے لباس کی جگہ پر ہو اے عورتوں تم مردوں کیلئے لباس کی جگہ ہو یعنی تم ایک دوسرے کے عیبوں کو چھپا لو جب تم ایک دوسرے کو چھپا لو گے تو گھریلو زندگی خود بخود خوبصورت ہو جائے گی شوہر پر فرض ہے کہ وہ بیوی کی ضرورتوں کو پورا کرے اور اس کی حفاظت کرے جس طرح ہم جوا اور سٹہ کو گناہ سمجھتے ہیں اسی طرح سمجھیں گے تبھی معاشرہ تبدیل ہوگا مولانا نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ قرآن ہم کو حکم دیتا ہے کہ معاملات کرو تو لکھ لیا کرو، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک دنیا کا طریقہ ہے کہ ایگریمنٹ ہونا چاہئے لیکن یہ اللہ کا حکم ہے اور  رسول اللہ کا طریقہ ہے اور یہ دین کا ایک جز ہے مولانا نے کہا کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ اے لوگو اللہ کی عبادت کرو جس نے تم کو پیدا کیا ہے اور اس آگ سے اپنے آپ کو بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ اللہ سے ڈرو اپنے آپ کو سود سے بچاو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کا رسول تم سے لڑنے کے لئے تیار ہے سود سے چلنے والی چیزیں زیادہ دن چلنے والی نہیں ہیں اپنے کاروبار کو سود سے بچا لینا بھی دین ہے، کیا کوئی نمازی سود کا کاروبار کر سکتا جبکہ تمام شعبہ جات کو اپنی زندگی میں اسلام کے مطابق زندہ کرنے کا نام دین ہے جب وہ زندہ ہوں گے تو معاشرہ خود بخود صالح ہو جائے گا جلسہ کی صدارت کر رہے قاضی شہر حافظ و قاری عبدالقدوس ہادی نے کہا کہ ہمارے پاس شریعت کا طریقہ موجود ہے لیکن ہمارے بچے دین نہیں جانتے ہیں اس لئے ہمارے سامنے مسائل کا انبار ہے، اپنے بچے بچیوں کے اندر خوف خدا پیدا کیا جائے اور کبھی کوئی مسئلہ پیدا ہو تو اپنے علاقہ کے قریب کے علماء کرام یا معزز شخصیات سے دین کے مطابق اپنے مسئلے حل کریں کورٹ کچہری میں حل کرنے سے پرہیز کریں عدالتوں وکیلوں کے چکر میں پڑ کر اپنی زندگی برباد نہ کریں، بے پردگی اور موبائل کے غلط استعمال نے معاشرہ میں مزید پیچیدگیاں پید ا کردی ہیں بے پردگی اور موبائل کے ذریعہ لڑکے لڑکیوں کے درمیان غیر اخلاقی روابط پید ہو رہے ہیں جو معاشرے کے لئے تباہ کن ہے، والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچے بچیوں کی شادی میں ان کی مرضی کا احترام کریں بچوں اور بچیوں کی دین کے مطابق تربیت کریں،اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے مولانا یحییٰ نعمانی نے کہا کہ اس وقت ہمارے ملک ہی نہیں پوری دنیا کے مسلمانوں کے کے معاشرہ اور گھریلو حالات صحیح نہیں ہیں جب تک گھر یلو معاملات صحیح نہیں ہوں گے معاشرہ نہیں صحیح ہوگا  گھریلو معاملات کو صحیح کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اپنی انا کو ایک دوسرے سے ٹکرانے نہ دیں آج کا نظام تعلیم، نظام تمدن اور میڈیا انا کو بڑھاوا دے رہا ہے جبکہ دین کی تعلیم یہ ہے کہ ایک دوسرے کے لئے صبر کر لیں، ایک دوسرے کو معاف کر دیا کریں مولانا نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ لڑکے لڑکیوں کی دینی تربیت ہونا چاہیے علماء اور دیگر لوگ جو ان معاملات سے واقف ہوں وہ سر جوڑ کر بیٹھیں، ان مسائل کو روکنے کا کیا طریقہ ہو سکتا ہے اس پر غور کریں اور اس کے لئے ورکشاپ منعقد کرنا چاہیے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ جب آپ عورتوں سے بات کرتے تھے تو ان کو توجہ دلاتے تھے کہ عورتوں پر مردوں کا کیا حق ہے اور لڑکوں سے بات کرتے تھے تو ان کو حکم دیتے تھے کہ ان کو اپنی بیویوں کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے، تمہیں ان کے ساتھ احسان کرنا ہے کتنا برداشت کا رویہ اختیار کرنا ہے۔ ہمارے گھروں میں اسکا بالکل الٹ ہے والدین اپنے لڑکے لڑکیوں کو ان کے حق بتانے کے بجائے  انھیں غلط باتیں سکھاتے ہیں کہ ایسا کرنا ویسا کرنا، والدین کو ایسا نہیں کرنا چاہیے،والدین لڑکیوں کی تربیت کریں کہ سسرال کو اپنا گھر کیسے سمجھنا ہے وہاں کا ماحول کیسے سازگار بنانا ہے بیٹوں کی تربیت کیجئے کہ اللہ کی ایک امانت تمہارے پاس بیوی کی شکل میں آ رہی ہے۔ اللہ کے رسول ؐنے کہا کہ مرد عورتوں اور اپنی بیویوں کے سلسلے میں اللہ سے ڈرو تم جو اس لڑکی کو بیاہ کر لائے ہو ہو تو ایسے نہیں لائے بلکہ اللہ کی طرف سے وعدہ کرتے ہو کہ اللہ میں آپ کی ایک بندی کو اپنے گھر پرلا رہا ہوں اس پر زیادتی نہیں ہوگی انہوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کے دلوں میں آخرت کی جوابدہی کا خوف پید کریں، اپنے گھروں میں آخرت کا تذکرہ جنت کا تذکرہ جہنم کے عذاب کا تذکرہ کریں تاکہ ہمارا معاشرہ ایک صالح معاشرہ بن سکے ۔جلسہ کا ختتام حضرت مولانا محمد شکیل صاحب امام عید گاہ کی دعاء پر ہوا۔
توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے