جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالات   ہر گستاخ رسول کا یہی انجام ہونا ہے۔

   ہر گستاخ رسول کا یہی انجام ہونا ہے۔

🖊  ظفر امام

      سال ۲۰۰۷؁ء کے ایک دن کی یاد پر کچھ دھند سی چھاگئی تھی،کل جب اچانک ایک گردش کن خبر نظر سے اس سرخی ” معروف سویڈش کارٹونسٹ گستاخِ رسول لارس ویلکس کار حادثے کا شکار ہوکر واصلِ جہنم ہوگیا “ کے ساتھ گزری تو اس یاد پر چھائی دھند ایک دم سے صاف ہوگئی اور وہ دن نکھر کر سامنے آگیا جب ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں نے جن میں ہم بھی شامل تھے اس ملعون و مردود کے خلاف شہر کے وسط سے چل کر ڈی ایم آفس میں جاکر احتجاجی مظاہرہ درج کروایا تھا۔

  بےشعوری کا زمانہ ہی کیا ہوتا ہے،نہ کوئی جذبہ نہ جنون،نہ کوئی جوش نہ خروش،اس دن ہمیں جب معلوم ہوا کہ آج لوگوں کا ایک جم غفیر شہر کے بیچ سے ہائی وے کو کراس کرتے ہوئے ڈی ایم آفس جائےگا تو ہم بھی جذبہ سے عاری اور مقصد سے نابلد اس جم غفیر میں اضافے کی غرض سے چل نکلے،یہ پہلی مرتبہ تھا جب ہم کسی احتجاج یا ریلی میں شامل ہوئے تھے اور کارٹون کا لفظ سنے تھے،لیکن اس کے بعد ہوا کیا؟یا اس احتجاج نے کیا رنگ دکھایا؟کبھی اس کی پرتوں کو کھنگالنے کا موقع نہ ملا،کل اچانک یہ خوش کن خبر گردش کرتی نظر آئی تو دل بے ساختہ جھوم اٹھا اور خدائی اعلان”اِنَّا کَفَیْنَاکَ الْمُسْتَہْزِئِْینَ“ (ہم آپ کی طرف سے تمسخر اڑانے والوں کے لئے کافی ہیں) پر یقین مزید مستحکم ہوگیا کہ خدائے قہار دیر سویر اپنے رسولؐ کی اہانت کرنے والوں کو آخری انجام تک پہونچا کر ہی دم لیتا ہے۔

    ۷۵/ سالہ لارس ویلکس سویڈن کا ایک مشہور کارٹونسٹ تھا،نئے نئے کارٹون کی تخلیق کرنا اس کا فن تھا،تاہم وہ اپنے اس فن کی وجہ سے اس وقت شہہ سرخی میں آیا اور اس ہنر نے اسے اس وقت بام عروج پر پہونچایا جب اس نے پیغمبر اسلام جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے اوپر توہین آمیز کارٹون تخلیق کیا، جس کی وجہ سے عالمِ اسلام لرز اٹھا اور پوری دنیائے اسلام میں اس ملعون کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے،اور دنیا کے گوشے گوشے سے اسے قتل کی دھمکی دی گئی،اور اس کے قتل کرنے والے کے لئے ایک گراں قدر انعام مقرر کیا گیا،جب سے وہ اپنی حفاظت کے لئے ہر وقت پولیس کے دو افسروں کو ساتھ لئے پھرتا تھا جس کی وجہ سے وہ انسانی وار سے تو بچ گیا مگر خدائی وار سے نہ بچ سکا،نہ اس کا حفاظتی دستہ اس کو ہلاکت سے بچا سکا اور نہ ہی اس کا فن اسے شعلوں کی لپٹ سے بہ حفاظت باہر نکال سکا۔

    ۳/ اکتوبر ۲۰۲۱؁ء بروز اتوار وہ کار پر سوار اپنے حفاظتی دستے کے ہمراہ کہیں جا رہا تھا کہ سامنے سے ایک بےقابو ٹرک نے دوراہے پر کھڑے ریلنگ کو توڑتے ہوئے اس کی کار کے پرخچے اڑا دئے،ٹرک کا کار سے ٹکرانا تھا کہ کار سے فلک بوس شعلے بھڑک اٹھے جنہوں نے لارس ویلکس کے ساتھ اس کے حفاظتی دستے کو جلا کر خاکستر کرتے ہوئے اسے رہتی دنیا تک کے لئے نشانِ عبرت بنا دیا کہ گستاخ رسول بھلوں حفاظتی دستے میں رہ کر ہلاکت سے آنکھ مچولی کھیلتا رہے مگر خدا اسے ایک نہ ایک دن نشان عبرت بنا ہی ڈالتا ہے۔

     لارس ویلکس کا رسولِ خدا ﷺ کی جنابِ اقدس میں گستاخی کے بعد ہلاک ہونا دنیا والوں کے لئے کوئی نیا اور البیلا واقعہ نہیں ہے، اس سے پہلے خدائی کرشمے نے یہ کارنامہ ان گنت بار کر دکھایا ہے کہ جب جب بھی کسی گستاخِ رسول نے سر ابھارا ہے تب تب خدا نے اسے نشانِ عبرت بنایا ہے،ابھی گزشتہ سال ایک ایسا ہی گستاخ جس کا نام کملیش تیواری تھا اور جنہوں نے سال ۲۰۱۵_۱۶ میں رسول خدا ﷺ کے خلاف گستاخی کی تھی پُراسرار طریقے پر قتل ہوکر واصل جہنم ہوا تھا۔

     یہ تو عہدِ رواں کی باتیں ہیں، اگر آپ تاریخی اوراق کھنگالیں گے تو آپ کو اس طرح کے بےشمار لرزہ خیز اور بصیرت انگیز واقعات پڑھنے کو ملیں گے،مثال کے طور پر جب اللہ رب العزت نے اپنے پیارے حبیب جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو تبلیغ توحید کا حکم دیا اور آپؐ اپنے رب کے فرمان کے بموجب کوہِ صفا کی چوٹی پر کھڑے ہوکر لوگوں کو پکارنا شروع کیا،آپ کی آواز کا مکہ کی گلیوں میں گونجنا تھا کہ لوگ جوق در جوق آپ کے ارد گرد جمع ہوگئے،آپ نے اس مجمع کے سامنے خدائی وحدانیت کا اعلان کیا،بت پرستی اور اصنام سازی کی تردید کی تو لوگ بھڑک اٹھے، وہی لوگ جو ابھی چند ثانیے پہلے آپؐ کو صداقت و سچائی کا علمبردار اور راست بازی اور درست گفتاری کا پیکر کہہ رہے تھے آپ کی اس بات کی وجہ سے آپ سے بالکل متنفر گئے، آپ کا سگا چچا ابولہب تو کچھ زیادہ ہی برافروختہ ہو اٹھا،غصے کے مارے اس کا چہرہ سرخ گلاب ہوگیا،زبان جھاگ پھینکنے لگی،وہ اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکا، اسی غصے کے عالم میں اس نے آپ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے کہا ” تَبًّا لَکَ یَا مُحمَّدُ أَلِہذَا جَمَعْتَنَا“ ( اے محمد تجھ پر بربادی برسے، کیا تونے اسی لئے ہمیں یہاں جمع کیا تھا) اپنے چچا کی نشتر زن بات سن کر اللہ کے اس داعی کا دل ٹوٹ کر کانچ کی طرح بکھر گیا،اپنے حبیبؐ کی تسکینِ خاطر کے لئے خدا نے ایک پوری سورت سورۂ ابی لہب نازل کر دی، جس میں ابولہب اور اس کی بیوی کی ہلاکت اور خسران کا تذکرہ کیا۔

     زمانہ اڑتا چلا گیا، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب ؓ پر مکہ کی زمین اپنی کشادگی کے باوجود تنگ پڑگئی اور آپؐ اپنے اصحابؓ کے ہمراہ مدینہ ہجرت کر گئے،پھر اس کے ایک ہی سال بعد اسلام اور کفر کی پہلی جنگ بدر کے میدان میں لڑی گئی،ابولہب ان دنوں پھوڑوں کی بیماری سے جوجھ رہا تھا جس کی وجہ سے وہ لڑائی میں شریک نہ ہوسکا، کچھ ہی دنوں بعد ابولہب کے کانوں میں قریش کی شکست کی خبر گونجی جس نے ابولہب کے زخموں میں نمک پاشی کا کام کیا، ابولہب کے پھوڑے دن بہ دن بڑھتے چلے گئے، نوبت یہاں تک جا پہونچی کہ اس کے پھوڑوں میں پیپ سڑگئی، ان میں کیڑے لگ گئے،گوشت کے لوتھڑے موسم خزاں کے پتوں کی طرح ان سے جھڑ جھڑ گرنے لگے،تعفن اتنا بڑھ گیا کہ گھر میں اس کا رکھنا محال ہوگیا، اس کے بیٹوں نے تنگ آکر اس کے پیروں میں رسیاں ڈالی اور اسے گھسیٹ کر جنگل میں پھینک آئے، جہاں وہ انتہائی بے کسی اور کسمپرسی کے عالم میں کتے کی موت مرا،اور اس کی سڑی گلی لاش چیل کوؤں کا نوالہ بنی،یہ تو دنیا کی ہلاکت تھی آخرت کی ہلاکت اس سے کہیں بڑھ کر ہے اور دائمی ہے۔

     یہ تو ابولہب کی ہلاکت کا تذکرہ تھا،اس کے ایک بیٹے عتیبہ کا انجام بھی کچھ اسی طرح ہوا،اس نے بھی رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی،ایک دفعہ وہ اپنے باپ ابولہب کے ساتھ ملکِ شام تجارت کی غرض سے جارہا تھا تو عین اس وقت جب قافلہ ملک شام کے لئے پا بہ رکاب تھا عتیبہ نے اپنے باپ سے کہا ” ابو جان! کیا چلنے سے پہلے ذرا محمد سے کھیل نہ آؤں؟ “ باپ بھی تو اسی قماش کا آدمی تھا بلکہ بیٹے کو سبق تو باپ ہی سے ملا تھا، مسکرا کر کہا ” ہاں ہاں کیوں نہیں،جاؤ ذرا اپنا دل بہلا آؤ “ بدبخت باپ کا یہ بدبخت بیٹا اٹھا اور محمد رسول اللہ ﷺ کے چاند سے زیادہ روشن چہرے پر تھوکنے کی جسارت کر آیا، اور ایک روایت میں ہے کہ اس نے آپ کے پیراہن کو اس زور سے جھٹکا دیا کہ آپ کا پیراہن مبارک شق ہوگیا، اس کے اس فعل سے رسول اللہ ﷺ کے دل پر نہایت ناگواری گزری اور بےساختہ آپ کی زبان مبارک سے یہ بددعا نکل گئی ” أَللّٰہُمَّ سَلِّطْ عَلَیْہِ کَلْباً مِّنْ کِلَابِکَ“(اے اللہ اپنے کتوں میں سے کسی کتے کو اس کے اوپر مسلط فرما دیجیے) وہ وہاں سے فاتحانہ انداز سے اٹھا اور اپنے باپ کو پورا واقعہ کہہ سنایا، جونہی باپ نے سنا کہ محمد نے میرے بیٹے کو بد دعا دی ہے تو اس کے چہرے کا رنگ فق ہوگیا، ایک ان جانے خوف نے اس کے دل کو اپنی گرفت میں جکڑ لیا، اسے یقین ہوگیا کہ اب میرے بیٹے کو ہلاکت سے کوئی چیز بچا نہیں سکتی۔

    الغرض وہ خوف و ہراس کے بادل میں گھرا ہوا قافلے کے ساتھ سوئے منزل روانہ ہوا، اثنائے راہ قافلے نے مقام زرقا نامی جگہ پر ایک راہب کے پاس پڑاؤ کیا،راہب نے قافلہ والوں کو خبر دار کیا کہ یہ جگہ جنگلی درندوں کی آماجگاہ ہے، ذرا ہوشیاری سے سونا،یہ سن کر ابولہب نے قافلہ والوں کو اپنے پاس جمع کیا اور کہا ” اے لوگو! میرے اس بیٹے کو محمد نے گھر سے نکلتے ہوئے ہلاکت کی بد دعا دی ہے،اے لوگو! مجھے خطرہ صاف نظر آرہا ہے کہ میرے بیٹے کو محمد کی بد دعا سے کوئی چیز بچا نہیں سکتی، اس لئے اے لوگو اگر تم میرے بڑھاپے پر ترس کھاؤ ( کہ بڑھاپے میں ایک بوڑھے باپ کو اپنے بیٹوں کے سہارے ہی پر بھروسہ ہوتا ہے) تو یوں کرو کہ اپنا سارا سامان ایک جگہ اکٹھا کرو اور ان کے اوپر میرے بیٹے عتیبہ کا بستر لگاؤ اور تم اس کو اپنے گول دائرے میں لے لو“ ابولہب کے بڑھاپے پر ترس کھا کر قافلہ والوں نے اس کی بات مان لی، اور سب نے مل کر اپنے سامان کا ایک اونچا مچان بنایا جس پر عتیبہ کا بستر لگایا، اس کے بعد خود سب مچان کے نیچے اس طرح سوگئے کہ عتیبہ ان میں محصور ہوگیا۔

     رات دبے پاؤں سرکتی رہی، یہاں تک قافلہ کے لوگوں کے خراٹوں سے جنگل لرزنے لگا، اچانک ایک شیر کہیں سے نکلا اور باری باری قافلہ والوں کے منہ سونگھنے لگا، مگر ان میں اسے اپنا مطلوب شکار نظر نہ آیا ، وہ چند قدم پیچھے کو ہٹا اور یک بارگی چھلانگ مار کر مچان کے اوپر جا پہونچا جہاں اس نے سوتے ہوئے آدمی کو پہلے سونگھا اور چند ہی ثانیے میں اسے چیر پھاڑ کر جنگل کی نمناک رات میں غائب ہوگیا، ابولہب کے فرشتے کو بھی معلوم نہ ہوسکا کہ رات جس وقت وہ خوابِ خرگوش میں مدہوش تھا اس وقت اس کے بیٹے کی چیخیں شیر کے جبڑے میں جاکر ساکت ہوگئی تھیں، صبح کو قافلہ والوں نے دیکھا تو وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ مچان کے اوپر عتیبہ کا جسم چھلنی ہوا پڑا ہے، انہوں نے درندے کی بہت تلاش کی مگر انہیں اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

    یہ تو صرف نمونے کے طور پر دو مثالیں پیش کی گئی ہیں ورنہ تاریخ اور سیر کی کتابوں میں گستاخانِ رسول اور دریدہ دہنوں کے ایسے عبرت ناک انجام لکھے ہوئے ہیں کہ انہیں پڑھ کر کسی بھی باشعور آدمی کا جسم مرتعش ہو سکتا ہے،خاص کر گستاخانِ رسول ابوجہل، عاص بن وائل، کعب بن اشرف، ابورافع، ابوعامر، اربد، عقبہ بن ابی معیط، ابی بن خلف، ولید بن مغیرہ،اسود بن مطلب اور ان جیسے دوسرے دریدہ دہنوں کا جو سبق آموز،چشم کشا اور بدتر انجام ہوا وہ انسانی زندگی کی کایا پلٹنے کے لئے کافی ہے۔

     یاد رکھئے!رسول اللہ ﷺ کی شان میں ہجوگوئی،بدکلامی،دریدہ دہنی اور کارٹون بازی کو اللہ ہرگز برداشت نہیں کرتا،کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی ذات وہ ذات ہے جو وجہِ تخلیق کون اور باعثِ تخلیق مکاں ہے،اسی ذات کے صدقے میں خدا نے آسمانوں کو بلندی،زمین کو پستی،دریاؤں کو روانی اور پہاڑوں کو کرختگی عطا کی ہے،اب بھلا خدا کی ذات کیسے برداشت کر سکتی ہے کہ کوئی ایسی عظیم ہستی کی شان میں گستاخیاں کرتا پھرے،ایسے بدکلام اور دریدہ دہنوں کو خدا دیر سویر کیفرِ کردار تک پہونچا کر ہی دم لیتا ہے، آج لارس ویلکس ہلاک ہوا کل کو کوئی اور گستاخ اس انجام کو پہونچے گا،اور یہ خدائی سلسلہ اس دن تک جاری رہے گا جس دن تک اس روئے زمین پر ایک بھی گستاخ زندہ رہےگا۔

      ایسی جسارت سے خدا ہماری حفاظت فرمائے، آمین یا رب العالمین

                        ظفر امام، کھجور باڑی

                       دارالعلوم بہادرگنج

                          ۵/ اکتوبر ۲۰۲۱؁ء

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے