ہجومی تشدد سے وفات پانے والے کے اہل خانہ سے تعزیت کے لئے پہنچا امارت شرعیہ کا وفد

181

ارریہ(توصیف عالم مصوریہ) نوائے ملت
مورخہ 28جون 2021 بروز سوموار حضرت مولانا محمدشمشاد رحمانی نائب امیر شریعت امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کے حکم سے امارت شرعیہ ارریہ کا چھ رکنی وفد قاضی شریعت ارریہ مفتی عتیق اللہ رحمانی کی قیادت میں چکئی گاؤں بلاک جوکی ہاٹ ضلع ارریہ پہنچا, جہاں گزشتہ 26 جون کی رات ایک نوجوان اسماعیل ولد شعیب کی ہجوم نے بے رحمی سے پٹائی کی تھی حتی کہ وہ مرگیا۔
امارت شرعیہ کے وفد نے مقتول اسماعیل کے والد شعیب عالم سے تعزیتی کلمات کہے اور وہیں شعیب عالم اور دیگر مقامی لوگوں سے معاملے کی جانکاری بھی لی, معلوم ہوا کہ اسماعیل بجلی مستری تھا وہ ایک محنتی اور صاف کردار کا نوجوان تھا کبھی اس کے خلاف چوری وغیرہ کی شکایت درج نہیں ہوئی ہے جیسا کہ قاتلوں نے الزام لگایا ہے اور بعض ہندی اخبارات میں بغیر تحقیق کے شائع بھی ہورہا ہے, واقعہ یہ ہے کہ 25.26 جون کی درمیانی شب کو متوفی اسماعیل بجلی مستری گھر میں اکیلا تھا جب پڑوس کے یادو ٹولہ سے روپیش کمار یادو اور نتیش کمار یادو اس کو بجلی ٹھیک کرنے کے بہانے بلا کرلے گئے اور, یادو ٹولہ میں رات بھر اس کے ساتھ مذکورہ دونوں اشخاص کے علاوہ متعدد جنونیوں نے اذیت ناک تشدد کیا اور صبح جب کہ اسماعیل نزع کے عالم میں تھا اس کو ایک بائک میں لاد کر روپیش اور نتیش نے جوکی ہاٹ ریفرل اسپتال میں ڈال دیا اور یہ الزام لگایا کہ اسماعیل چوری کرنے آیا تھا اس لئے انہوں نے مارپیٹ کی. اس واقعہ کی خبر پھیلتے ہی مقتول کے رشتہ دار وہاں پہنچے اور پھر تھانے جاکر ایف آئی آر درج کروائی جس کی بنیاد پر پولیس نے پندرہ نامزد ملزمین میں سے دو لوگوں روپیش کمار یادو اور نتیش کمار یادو کو گرفتار کیا تاہم باقی ملزمان کو پولیس نے تاہنوز گرفتار نہیں کیا ہے, مقامی لوگوں کے مطابق نفرت کا سارا کھیل سستانند یادو ولد نتیا نند یادو کے حکم پر کھیلا جاتا ہے جس کا تعلق ایک بڑے نیتا سے ہے,سستا نند یادو ایف آئی آر میں ملزم اول ہونے کے باوجود پولیس کی گرفت سے باہر ہے اور اپنے گھر میں دیکھا جارہا ہے.

مقامی باشندوں نے مزید بتایا بتایا کہ اس سے پہلے بھی ایوب نامی شخص پر الزام لگاکر اسی طرح بھیڑ نے ماردیا تھا، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو بہت ہی زیادہ کسی نہ کسی کی پشت پناہی حاصل ہے.

اسماعیل کے والد نے بتایا کہ چوری کا الزام بے بنیاد ہے، یہاں پر کسی بھی تھانہ میں اسماعیل کے خلاف چوری کا معاملہ درج نہیں ہے، ہم لوگ یہاں پر اکثریت میں ہیں اگر چاہتے تو معاملہ بگڑ جاتا، لیکن ہم لوگوں نے قانون کا پاس ولحاظ رکھا، قانون سے کھلواڑ نہیں کیا، لیکن ان لوگوں نے قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اسماعیل کو پوری منصوبہ بندی کے تحت مار ڈالا، ان لوگوں کو معلوم تھا کہ اسماعیل گھر میں اکیلا ہے اس کے والد اپنی بیٹی کے یہاں گئے ہوئے ہیں اور دونوں بیویاں مائکے میں ہیں رات بھر گھر سے غیر حاضری کا کوئی نوٹس لینے والا نہیں ہے ,تبھی قتل کی منصوبہ بندی کرنے والوں نے اس کو بجلی ٹھیک کرنے کے بہانے سے بلاکر مار ڈالا .نفرت کے سوداگر ہم لوگوں کو آپس میں لڑانا چاہتے ، یہاں کی پرامن فضا کو مکدر کرنا چاہتے ہیں.

امارت شرعیہ کی ٹیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام شرپسندوں کے خلاف کاروائی کرے جو آپسی بھائی چارہ کو ملیامیٹ کرنے میں لگے ہیں اور انہیں کیفرکردار تک پہونچاۓ جنہوں نے بے گناہ اسماعیل کو مارڈالا.
امارت شرعیہ کی ٹیم نے نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی صاحب کی جانب سے مہلوک کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کی، ان کو تسلی دیا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں امارت شرعیہ آپ سبھوں کے ساتھ ہے
امارت کے وفد میں قاضی شریعت ارریہ مفتی محمد عتیق اللہ رحمانی، مفتی حسین احمد ہمدم، امتیاز انیس عرف لڈو، مولانا محمود ندوی، حافظ معراج خالد اور صحافی عارف اقبال وغیرہ موجود تھے.