ہتھین اسمبلی کے گاؤں آلی میو کی ڈھائی سال کی لاپتہ بچی کو بہین پولیس نے چند گھنٹوں کے اندر ڈھونڈ لیا۔

62

گاوں کے معزز لوگوں نے پولیس کو پگڑی باندھ کر اعزاز سے نوازا

ہتھین اسمبلی کے تحت آنے والے گاؤں کی ڈھائی سالہ لڑکی عائشہ گذشتہ شام اپنے کنبے کے ساتھ کپاس توڑنے جنگل گئی اور وہاں سے اچانک لاپتہ ہوگئی ڈھائی سالہ بچی عائشہ کے چچا عارف نے بہین تھانے میں شکایت درج کروائی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے لاپتہ بچی کی تلاش شروع کردی۔اور ایک رات گزرنے کے بعد عائشہ کو پولیس نے بازیافت کرکے اپنے کنبہ کے افراد کے حوالے کردیا۔ رتن دیپ بالی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ہتھین نے بتایا کہ پیر کی شام متاثر عارف ساکن آلی میو نے بہین تھانے میں شکایت درج کروائی کہ اس کا کنبہ روئی توڑنے کے لئے کھیت میں آیا تھا۔ اس کی بھتیجی عائشہ بھی کھیت میں ساتھ آئی تھی۔ جو کھیتوں میں کھڑا ٹریکٹر کے قریب کھیلنے لگی جب گھر والوں نے عائشہ کو دوپہر کے وقت ٹریکٹر کے پاس دیکھا تو لڑکی وہاں سے غائب تھی کافی دیر تلاش کرنے کے بعد بھی جب بچی کا پتہ نہ چل سکا تو عارف نے بہین تھانے کی پولیس کو شکایت دی۔پولیس نے معاملہ درج کرکے لڑکی کی تلاش شروع کردی، مکمل تلاشی کے بعد لڑکی عائشہ کو آلی میو گاؤں کے کھیتوں سے ہی برآمد کیا گیا، پولیس نے لڑکی عائشہ کو اس کے اہل خانہ کے حوالے کردیا۔ گاؤں آلی میو کے معزز لوگ آج تھانہ پولیس اسٹیشن پہنچے اور اظہار تشکر کیا ڈی ایس پی ہتھین رتن دیپ بالی اور ایس ایچ او درگا پرساد نے کہا پولیس کا یہ اہم کام تھا کہ اسے لاپتہ ہونے والے بچے کے بارے میں اطلاع ملتے ہی اسے ترجیحی بنیادوں پر تلاش کرنا شروع کردیا اور پولیس نے اس میں کامیابی حاصل کی، پولیس نے لاپتہ بچی کو اس کے اہل خانہ کے حوالے کردیا، گاؤں آلی میو کے معزز لوگوں نے تھانہ انچارج درگا پرساد اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ہتھین رتندیپ بالی کا پگڑی باندھ کر استقبال کیا ہے،ڈی ایس پی رتندیپ بالی اور ایس ایچ او درگا پرساد کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے ۔درگا پرساد نے کہا کہ یہ ہمارا فرض تھا جو ہماری پولیس نے سرانجام دیا ہے۔ وہیں لڑکی کے ملنے سے اہل خانہ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا، شکر اللہ سرپنچ آلی میو، دین محمد ٹھیکیدار آلی میو، شیر محمد پردھان آلی میو نے پولس محکمہ کو اس کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہیں