ہانگ کانگ: جمہوریت نواز پبلشنگ ٹائیکون گرفتار، تین سرگرم کارکنوں کو سزائیں

38

ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز اور میڈیا کی ایک بڑی شخصیت جمی لائی کو دھوکہ دہی کے الزامات پر گرفتار کر لیا گیا ہے، جب کہ تین سرگرم کارکنوں کو سزائیں سنا دی گئی ہیں۔

جمعرات کے روز 73سالہ جمی لائی ہانگ کانگ کی ایک عدالت میں پیش ہوئے۔ جمی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی کمپنی ‘نیکسٹ ڈیجیٹل’ کے دفتر کیلئے لیز پر دی گئی جگہ کی شرائط کی خلاف ورزی کی۔ ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے اور اگلی پیشی آئندہ سال اپریل میں ہو گی۔

جمی لائی کو اس سال اگست میں چین کے نافذ کردہ قومی سلامتی سے متعلق نئے قانون کے تحت اس شبہ پر گرفتار کیا گیا تھا کہ وہ ایک بیرونی ملک کے ساتھ ساز باز کر رہے ہیں۔ اُن کی گرفتاری کے چند گھنٹوں کے بعد، سو سے زیادہ پولیس اہل کاروں نے ان کی نیکسٹ ڈیجیٹل کمپنی کے دفتر پر چھاپا مارا تھا، جہاں سے وہ “ایپل ڈے” نامی اپنا اخبار شائع کرتے ہیں۔ اخبار نے اپنی ویب سائٹ پر اس چھاپے کو براہ راست نشر کیا تھا جس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ پولیس اہل کار لائی کو ہتھکڑیاں لگا کر نیوز روم میں گھماتے پھر رہے ہیں۔

لائی ایک ہی روز میں گرفتار کیے جانے والے ان کم از کم 10 افراد میں سے ایک ہیں جن ان کا ایک بیٹا بھی شامل تھا۔

تین جمہوریت پسند کارکنوں کو جیل کی سزا

ہانگ کانگ کے تین جمہوریت نواز کارکنوں کو گزشتہ برس جون میں شہر کے پویس ہیڈکوارٹر کے سامنے مظاہرہ کرنے پر، بدھ کے روز جیل بھیج دیا گیا۔

سزا پانے والے تین جمہوریت نواز کارکن، (بائیں سے دائیں) ایگنس چاؤ، آئیون لیم اور جوشوا وونگ

 

سزا پانے والے تین جمہوریت نواز کارکن، (بائیں سے دائیں) ایگنس چاؤ، آئیون لیم اور جوشوا وونگ

سب سے سخت سزا 24 سالہ جوشوا وونگ کو دی گئی ہے، جنہیں ایک غیر قانونی اجتماع کو منظم کرنے اور اس کیلئے اکسانے پر ساڑھے 13 ماہ کیلئے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

23 سالہ ایگنس چاؤ کو مظاہرے میں شریک ہونے اور دوسروں کو اس کیلئے اکسانے پر 10 ماہ، جب کہ 26 سالہ آئیون لیم کو اس مظاہرے میں شرکت کیلئے دوسروں کو ترغیب دینے پر سات ماہ کی سزا سنائی گئی۔

گزشتہ ماہ تینوں نے اپنے وکلا کے مشورے پر عائد الزامات کو تسلیم کر لیا تھا۔

گزشتہ برس 21 جون کو ہزاروں مظاہرین نے پولیس کے صدر دفتر کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس متنازع قانون کو واپس لے جس کے تحت مشتبہ مجرموں کو قانونی کارروائی کے لیے چین کے حوالے کیے جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

اس قانون کے خلاف وسیع پیمانے پر بڑے بڑے مظاہرے ہوئے جو بعض اوقات متشدد ہو گئے تھے۔

‘ایشیا پیسیفک’ خطے کیلئے ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی ریجنل ڈائریکٹر یامینی مشرا نے اپنے ایک بیان میں سزا کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہانگ کانگ میں عمومی طور پر کسی قیادت کے بغیر چلنے والی احتجاجی تحریک کے معروف کارکنوں کو ہدف بنا کر حکام یہ انتباہ کر رہے ہیں کہ اگلا نشانہ حکومت پر تنقید کرنے والا کوئی بھی فرد ہو سکتا ہے۔