ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتگودی میڈیا اور بی جے پی گٹھ جوڑ میں طالبان کے نام...

گودی میڈیا اور بی جے پی گٹھ جوڑ میں طالبان کے نام پر اتنی بوکھلاہٹ کس لئے ہے ؟

یوگی کو یوپی الیکشن جتانے کے کھیل میں افغانستان میں بھارت نہ ہار دیا جائے ۔!

اور اقوام متحدہ نے دہشت گردوں کی فہرست سے طالبان کا نام نکال دیا ۔!

تحریر —————— عبدالرحمن عابد

بھارت سرکار نے طالبان کو نہ پہلے دہشت گرد قرار دیا تھا اور نہ ہی اب دہشت گرد قرار دیا ہے ، اسکے باوجود بی جے پی کی ریاستی حکومتوں نے طالبان کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے ، عالمی شیطان سے لڑ کر طالبان کی کامیابی پر سوشل میڈیا میں پوسٹ لکھنے والوں مبارکباد دینے والوں اور طالبان کی فتح کو لائک کرنے والوں پر ملک کے خلاف سازش اور بغاوت جیسے خطرناک من گھڑت فرضی مقدمات اور گرفتاریاں کرکے عملاً یہ ثابت کر رہی ہیں کہ بی جے پی’ ہمارے ملک کی جمہوریت کو روندنے اور اظہار رائے کی آزادی کو بزور طاقت کچلنے پر یقین رکھتی ہے ، ہندو ووٹوں کو پولرائز کرکے الیکشن جیتنے کی خاطر بی جے پی ریاستی حکومتوں کی مسلمانوں کو طاقت سے کچلنے کی پالیسی دنیا بھر میں بھارت کو اقلیت دشمن ملک ثابت کرنے والوں کے الزامات کو درست ثابت کرنے میں مدد گار ہوگی۔!
دوسری طرف حکومت ہند کے کسی واضح فیصلے سے پہلے ہی بی جے پی لیڈروں اور گودی میڈیا اسلام دشمنی کے شعلے بھڑکاتے ہوئے طالبان کو دہشت گرد قرار دینے کا زبردست پروپیگنڈا کرہے ہیں ، گودی میڈیا چینلز پر سارے چھنٹے ہوئے گوڈسے وادی دہشتگردوں کو بیٹھا کر یہ مہم کس کی شہ پر چلائی جا رہی ہے اور کس بنیاد پر بھارت کو افغان طالبان کے دشمن کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے یہ بڑی تشویشناک بات ہے اور بہت افسوس ناک بھی ۔!
ایسا نہ ہوکہ بی جے پی اور یوگی آدتیہ ناتھ اتر پردیش اسمبلی الیکشن جیتنے کے چکر میں افغانستان طالبان مسئلہ کو گودی میڈیا کے ذریعہ سیاسی فٹبال بناکر یوپی تو جیت لیں مگر افغانستان میں بھارت کو ہار جائیں ، یہی وہ تشویشناک پوائنٹ ہے جس پر وزیراعظم نریندرمودی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوال کو خاص طور پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی ، اور یہ بھی خیال رکھنا ہوگا کہ پاکستان سے ڈپلومیسی کی جنگ جیتنے کی ضد اور ہندوتوا کے سخت گیر عناصر کو خوش کرنے کے کی جستجو میں بھارت کی بین الاقوامی ساکھ نہ گنوا بیٹھیں ، جسکا گودی میڈیا کے رویہ سے شدید اندیشہ ہے ، ملک کو درپیش ایک بین الاقوامی مسئلہ پر گھریلو سیاسی نفع نقصان سے بلند ہوکر فیصلہ کرنے کی امید مودی حکومت سے کرنا کتنا صحیح /غلط ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔!

یہ ایک حقیقت ہے کہ اب افغانستان پر طالبان کا تقریباً مکمل کنٹرول ہوچکا ہے اور چند روز کے اندر وہاں طالبان کی حکومت ہوگی، بیس سال کی ناکامی کے بعد امریکہ افغانستان سے کسی طرح جان چھڑا کر نکل بھاگا ، چین ، روس ، پاکستان ، ایران اور خود امریکہ سے جو واضح اشارے مل رہے ہیں ان میں صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ ممالک افغانستان کی طالبان حکومت کو تقریباً تسلیم کر چکے ہیں یا بہت جلد تسلیم کرنے والے ہیں، انہیں فقط اس بات کا انتظار ہے کہ کب طالبان باضابطہ اپنی حکومت کی حلف برداری کرتے ہیں۔ بھارت کی صورتحال بالکل مختلف ہے۔ وزیراعظم مودی کی صدارت میں منعقد گھنٹوں کی میٹنگوں کے باوجود ابھی تک بھارت سرکار یہ واضح نہیں کر پائی کہ آخر اس سلسلہ میں ہمارا فیصلہ کیا ہوگا ؟ شاید حکومت ابھی مزید دیکھو اور انتظار کرو کے فارمولے پر عمل کررہی ہے۔ لیکن یہ صورت حال زیادہ دنوں تک جاری نہیں رکھی جا سکتی۔ شاید وزیراعظم مودی کے سکوت کی وجہ افغانستان میں پاکستان کا بڑھتا اثر و رسوخ ہو ، لیکن ہمیں یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ: پاکستان ہندوستان کے خارجی ٹکراؤ کی وجہ سے اس نئی صورت حالات میں ہم اتنی تاخیر نہ کردیں کہ آنے والے وقت میں افغانستان سے وابستہ ہمارے مفادات کو نقصان پہونچنے کے مزید مواقع پیدا ہوجائیں ۔
عجیب بات یہ ہے کہ بھارت سرکار تو ابھی تک طالبان حکومت کے سلسلے میں اپنا کوئی واضح موقف طے نہیں کرسکی ہے لیکن اترپردیش اور آسام کی بی جے پی سرکاروں نے ان لوگوں کے خلاف غداری کے مقدمے درج کرا دیئے ہیں جنہوں نے یہ کہا تھا کہ طالبان نے امریکہ جیسے دنیا کے بڑے شیطان سے لڑ کر اپنے ملک کو آزاد کرایا ہے۔ یوپی کے سنبھل سے لوک سبھا ممبر ڈاکٹر شفیق الرحمن برق اور منور رانا کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرایا گیا ، آسام میں کانگریس چھوڑ کر بی جے پی کے وزیراعلیٰ بنے ہیمنت بسوا سرما کی سرکار نے تو ان سولہ لوگوں پر دہشت گردی کی حمایت کرنے کا الزام لگاتے ہوئے "یو اے پی اے” ہی لگوا دیا ، جنہوں نے سوشل میڈیا پر طالبان سے متعلق پوسٹ کو شیئر کردیا تھا انکو بھی نہیں بخشا سب کو ایک ساتھ لپیٹ کر بتا دیا کہ آسام کے مسلمانوں کو جمہوری حقوق حاصل ہیں نہ اظہار رائے کی آزادی ، اسکا ایک مطلب یہ بھی کہ طالبان کے متعلق بھارت سرکار کا موقف کلئیر ہو نہ ہو لیکن اترپردیش اور آسام کی سرکاروں نے طے کرلیا ہے کہ طالبان ایک دہشت گردتنظیم ہے۔ آسام کے اسپیشل ڈی جی پولیس لاء اینڈ آرڈر جی پی سنگھ نے کہا کہ اقوام متحدہ نے جن تنظیموں پر پابندی لگائی ہے ان میں طالبان بھی شامل ہے۔ اس لئے ہم انہیں دہشت گرد ہی مانیں گے۔ یعنی بھارت سرکار کچھ کہے یا نہ کہے آسام کے اسپیشل ڈی جی اقوام متحدہ کے مطابق ہی بھارت کے مسلمانوں کے خلاف کاروائی کریں گے۔ آسام کے وزیراعلیٰ بھی مسلمانوں کے معاملے میں اسی خیال کے ہیں۔ جن دس اضلاع سے پندرہ مسلمانوں کو غداری اور یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے ان سبھی کے پولیس کپتان بھی اپنے اسپیشل ڈی جی لاء اینڈ آرڈر جی پی سنگھ کی ہی زبان بول رہے ہیں۔
اترپردیش میں اگر طالبان کے سلسلہ میں کوئی کچھ بولے گا یا سوشل میڈیا پر پوسٹ ڈالے گا تو اس کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی اس بات کا واضح اشارہ تو اسی دن پولیس اور انتظامیہ کو مل گیا تھا جب اسمبلی میں بغیر کسی ریفرنس کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہہ دیا تھا کہ کچھ لوگ بڑی بے شرمی کے سا تھ طالبان کی حمایت کررہے ہیں۔ دراصل یوگی آئندہ الیکشن میں ہندوؤں کو پولرائز کرنے کا کوئی بھی متوقع حربہ چھوڑنا نہیں چاہتے ، ان کا خیال ہے کہ طالبان کے حوالے سے بھی ہندوؤں کو پولرائز کیا جاسکتا ہے۔ انہی کی طرح گودی میڈیا کو بھی میسج دیا گیا ہے کہ طالبان کا مسئلہ ہر حال میں گرم رکھنا ہے۔ اسی لئے غلام ٹی وی چینلوں نے روزانہ طالبان پر ہی گھنٹوں کے پروگرام دکھانے شروع کر دیئے ہیں۔ اینکرز اپنے پروگراموں میں مسلمانوں سے بار بار یہی سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ آپ طالبان کو دہشت گرد مانتے ہیں یا نہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ بی جے پی کی یوپی آسام مدھیہ پردیش سرکاروں کے ساتھ ساتھ سارا گودی میڈیا طالبان کو دہشت گرد مانتا ہے اینکرز دن رات گلے پھاڑ پھاڑ کر چلا رہے ہیں تب کیا انہوں نے طالبان کا بال بانکا کرلیا ؟ یا آگے کچھ کرسکتے ہیں ؟ ظاہر ہے یہ لوگ طالبان کا کچھ بھی تو نہیں کر سکتے ، پھر اپنے ملک میں طالبان کے بہانے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکانے کی کوشش کیوں ؟ آپ کہینگے کہ سب ملکر یوگی کو الیکشن جتانا چاہتے ہیں ؟ بھئی الیکشن کے لئے نفرت پھیلانے کے تو ان کے پاس اور بہت سے حربے موجود ہیں تو بین الاقوامی مسئلہ پر اتنا ہنگامہ کیوں ؟ کل اگر مودی سرکار نے طالبان کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کرلیا تو کیا یہ گودی میڈیا کا منفی پروپیگنڈا بین الاقوامی برادری کے درمیان’ بھارت سرکار کے لئے شرمندگی کا سبب نہیں بنے گا ؟
کہیں کسی کے اشارے پر گودی میڈیا کی اس طالبان مخالف مہم کا مقصد مودی کو ہی نیچا دکھانا تو نہیں ہے ؟
سوال یہ ہے کہ یوگی کے الیکشن پولرائزیشن کے علاوہ بھارتی مسلمانوں کے طالبان کو دہشت گرد نہ ماننے سے فرق کیا پڑتا ہے۔ فرق تو بھارت سرکار کے فیصلے سے پڑ سکتا ہے اگر سرکار طے کرلے کہ بھارت طالبان کو دہشت گرد مانتا ہے تو دنیا بھر میں وہ سارے ملک کا فیصلہ مانا جائے گا ، لیکن بھارت سرکار کے کسی فیصلے سے پہلے مسلمانوں سے یہ سوال کرنا اور مسلمانوں کو کٹگھرے میں کھڑا کرنا خود ملک سے غداری کے مترادف ہے اور ملک کے باشندوں کو مذہب کے عنوان سے بانٹنے کی سازش ہے ۔ یہ سوال تو وزیراعظم مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر خارجہ ایس جئے شنکر اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوبھال سے کیا جانا چاہئے۔!

اب رہی بات شفیق الرحمن برق کی جس میں انہوں نے کہا کہ طالبان نے بھی لمبی لڑائی لڑ کر اپنے ملک کو امریکہ اور اس سے پہلے سوویت یونین سے آزاد کرایا انہوں نے امریکہ اور سوویت یونین کے ساتھ اسی طرح اپنی آزادی کی لڑائی لڑی جس طرح ہم نے انگریزوں کے خلاف لڑی تھی۔ اس پر غداری کا کا مقدمہ درج کرنے والوں کی متی ماری گئی اسے کورٹ میں کیسے جائز ثابت کریں گے بلکہ ڈاکٹر کفیل کے کیس کی طرح بہت جلد کورٹ کا طمانچہ ان کے منہہ پر پڑے گا ۔۔ کیا یہ سچائی نہیں ہے کہ: طالبان نے امریکہ اور سوویت یونین کے خلاف لڑ کر اپ نے ملک کو بیرونی طاقتوں سے آزاد کرایا ہے۔ پھر افغانستان کی سیاست کے اعتبار سے طالبان کو کیا کہا جانا چاہئے یہ کون طے کرے گا گودی میڈیا ؟ بی جے پی کی ریاستی حکومتیں ؟ بھارت سرکار یا اقوام متحدہ ؟ اقوام متحدہ نے ہندوستان کی صدارت میں روزولوشن پاس کرکے یہ طے کردیا کہ اب دہشتگردوں کی فہرست سے طالبان کو نکال دیا گیا ہے ، لیکن گودی میڈیا کی گھٹیپ ہو یا گھوس وامی انکی وہی ڈھنگی چال ہے ۔!

گودی میڈیا کے ٹریپ میں پھنس کر افغان طالبان کے گھروں میں آتنکواد ڈھونڈنے والے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی بھی زحمت کرلیں ، آج ملک میں دھرم کے نام پر گوڈسے وادی نفرت کی جو فصل اگائی جارہی ہے اگر وہ بند نہ ہوئی تو کل اسی فصل کو کاٹتے ہوئے خود انکے اپنے ہاتھ پاؤں اور جگر بھی کٹ جائیں گے ۔!
عبدالرحمن عابد 29/8/2021

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے