جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتگاندھی جی اور ان کے افکار واعمال

گاندھی جی اور ان کے افکار واعمال

عبدالحمید نعمانی

گاندھی جی کے کچھ افکار و اعمال سے علمی و نظریاتی لحاظ سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ان کے متعلق کچھ لوگوں کی طرف سے جس قسم کے جارحانہ و معاندانہ الفاظ کا استعمال کیا جاتا رہا ہے وہ وقار ووثاقت اور صحیح معیار اخلاق و انصاف کے منافی ہے،
گاندھی جی کا خالق، سنسار، مذہب، سماج، سیاست، معیشت، ملک کے باشندوں وغیرہ کے سلسلے میں اپنا ایک سوچا نظریہ اور اس پر عمل تھا، وہ 2/ اکتوبر 1869 کو گجرات کے پور بندر میں پیدا ہوئے اور 30 جنوری 1948 کو ایک کٹر ہندوتو وادی، مراٹھی برہمن ناتھو رام گوڈسے کے ذریعے قتل کر دیے گئے، اس مدت عمر میں، جب کہ وہ میدان عمل و حیات میں اترے تو وہ مسلسل اپنے قول و فعل کے ساتھ سامنے آتے رہے، انہوں نے اپنی آپ بیتی” تلاش حق” میں بھی خود کو کھل کر پیش کیا ہے، اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے ان کے یہاں ایک خاص طرح کا رویہ و زاویہ ملتا ہے، یہ ان کے باپ کابا گاندھی، یعنی کرم چند گاندھی اور ماں پتلی بائی، گھر، ارد گرد کے ماحول، دوست احباب سے باہمی تعلقات کا نتیجہ تھا، محمد علی جناح کی ابتدائی زندگی سے لے کر اس کے بڑے حصے میں کوئی خاص مسلم دوست احباب نظر نہیں آتے ہیں، جب کہ گاندھی جی کا معاملہ برعکس تھا، وہ مسلم سماج اور دوست احباب سے رابطے میں رہے، ان میں، تمام تر پروپیگنڈا کے باوجود فرقہ وارانہ نفرت و عداوت اور تشدد کا نام و نشان نظر نہیں آتا ہے، اس کی ایک ملی جلی آبادی میں بہت زیادہ اہمیت و ضرورت ہے، اس جہت سے گاندھی جی کا مطالعہ از حد قابل توجہ ہے، ان کے اخبار ہریجن وغیرہ میں بہت سی باتیں موت کے بعد بھی شائع ہوئی ہیں، بھارت میں اسلام اور مسلمانوں کی آمد اور بڑی تعداد میں لوگوں کے مشرف بہ اسلام ہونے سے ہندو آبادی کے ایک طاقتور حصے میں غیر ضروری طور سے نفرت و عداوت اور اس پر مبنی ردعمل پیدا ہو گیا، یہ کسی بھی ملک کے مہذب معاشرے اور وطن کی ترقی و نیک نامی کے لیے تباہ کن ہے، اسے گاندھی جی اچھی طرح جانتے سمجھتے تھے، ان کے قتل کے بعد ہریجن بابت 1/ فروری 1948 میں ایک سطر کا بہت اہم بیان شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے یہ کہا
"مسلمانوں سے دشمنی کرنا، ہندستان سے دشمنی کرنا ہے”
قتل سے چند روز قبل، ملک کے بھیانک فرقہ وارانہ فسادات و قتل و غارت گری کے ماحول میں، 24 /جنوری 1948 کے پرارتھنا سبھا میں جو باتیں کہی تھیں وہ بھی قابل توجہ ہیں، یہ خطاب بھی قتل کے بعد 10/فروری 1948 کے ہریجن میں شائع ہوا ہے، خطاب میں دلوں کو پاک کر لینے پر زور دیا ہے، گاندھی جی کہتے ہیں
"میں تم سے یہ عہد لینا چاہتا ہوں کہ تم کبھی پھر شیطان کی آواز پر لبیک نہ کہو گے اور اخوت اور امن کی راہ کو ترک نہ کرو گے، ذاتی طور پر تو مجھے کبھی معلوم ہی نہ ہو ا کہ فرقہ پرستی کیا بلا ہے، میں تو اپنی طفولیت کے زمانے سے ہی ہمیشہ یہی خواب دیکھتا رہا کہ اس وسیع خطہ زمین کے تمام فرقوں اور طبقوں کو متحد کر دوں، جب تک اس خواب کی تعبیر نہیں مل جائے گی، میری روح کو چین نصیب نہیں ہوگا، جب میں نے اپنا برت ختم کیا تو میں نے کہا تھا کہ اگر اہل دہلی اتنا ہی کریں کہ اپنے دلوں کو پاک کر لیں تو دہلی پورے ہندستان کے مسئلے کو حل کر سکتی ہے، لیکن اگر بجائے اس کے وہ صرف ایسی باتیں کریں، جن کے کرنے کی درحقیقت نیت نہ ہو کہ مجھ جیسے بوڑھے آدمی کی عمر دراز ہو تو وہ اس گمان سے دھوکہ کھا کر کہ وہ میری جان بچا رہے ہیں، دراصل میری موت کا سامان کریں گے ”
اس خطاب کے الفاظ میں جو دل بول رہا ہے، اس سے بہت کچھ سمجھا جا سکتا ہے، گاندھی جی کے نام پر ملک میں بہت کچھ ہو اور کیا جا رہا ہے، وہ لوگ بھی گاندھی جی کا نام استعمال کر رہے ہیں ہیں جن کا ان کے فکر و عمل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، کتنا کچھ ملک میں ہو رہا ہے لیکن گاندھی وادیوں کا کوئی زیادہ اتا پتا نہیں ہے، بہت تھوڑے لوگ فرقہ وارانہ تشدد اور نفرت کی آندھیوں میں عدم تشدد اور امن و محبت کا چراغ روشن کیے ہوئے ہیں، یہ امید بھی کم نہیں ہے، مایوسی سے کہیں بہتر، زندگی کی علامت کے ساتھ،
دہلی اور ملک کے دیگر حصوں میں قتل و غارت گری کے حالات میں جب گاندھی جی مرن برت رکھے ہوئے تھے تو اسے ختم کرتے ہوئے 1948 کے جنوری ماہ ہی میں ایک خطاب کیا تھا، یہ ہریجن میں شائع بھی ہو گیا تھا، اس میں انہوں نے کہا ہے
"میں نے یہ برت حق کے نام پر شروع کیا تھا جس کا عام فہم نام خدا ہے، زندہ حق کے بغیر خدا کہیں بھی نہیں، خدا کا نام لے کر ہم نے دروغ گوئی اور خوں ریزی اختیار کی، بغیر یہ سوچے کہ جن لوگوں کو ہم قتل کر رہے ہیں وہ بے قصور ہیں یا گناہ گار، اور اس کا لحاظ کیے بغیر کہ وہ مرد ہیں، عورتیں ہیں، یا شیر خوار بچے، ہم اغوا اور جبریہ تبدیلی مذہب کے مرتکب ہوئے اور یہ سب ہم نے بے شرمی کے ساتھ کیا، مجھے نہیں معلوم اگر کسی شخص نے حق کی خاطر ایسا کیا ہو، ہم اب حق کے نام پر ہی اپنا برت ختم کرتے ہیں،
عہد کی تکمیل لفظوں کی حدود کے باہر، اس کی روح میں مضمر ہے، جس کو الفاظ فنا بھی کر سکتے ہیں،میرے عہد کی روح، یونین کے ہندو ؤں ، مسلمانوں،سکھوں کے درمیان مخلصانہ دوستی ہے، اور ایسی ہی دوستی پاکستان میں بھی، اگر پہلی شرط (یونین کے مطابق) پوری ہو جائے تو دوسری کا بھی (پاکستان کے مطابق) پورا ہونا بھی اتنا ہی یقینی ہے، جتنا کہ رات کے بعد دن کا نکلنا، اگر یونین میں تاریکی ہے تو پاکستان میں روشنی کی توقع کرنا حماقت ہے، لیکن اگر یونین میں رات کی تاریکی دور کر دی جائے تو پاکستان میں بھی اس کے خلاف کوئی صورت پیدا نہیں ہو سکتی، اور ایسا ہونے کی علامتیں بھی مفقود نہیں، دہلی کے شہریوں اور شرنارتھیوں (پناہ گزیں) کے لیے کام بہت بھاری درپیش ہیں ، انہیں جس قدر ممکن ہو آپس میں ملنے جلنے کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں، ہندو اور سکھ عورتیں، مسلمان بہنوں کے پاس جائیں، اور ان سے دوستی پیدا کریں، وہ ان کو خاص خاص رسمی مواقع پر مدعو کریں، مسلم لڑکے اور لڑکیاں مشترک تعلیم گاہوں میں شریک ہونے پر آمادہ کیے جائیں، نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کا بائیکاٹ نہ ہو بلکہ انہیں ترغیب دی جائے کہ وہ اپنا قدیم کاروبار اختیار کریں، یہ ایک ذلیل اور حریصانہ حرکت ہے کہ ہندو اور سکھ، مسلمانوں سے ان کے ذریعہ معاش چھین لینا چاہیں، اول تو کسی قسم کی اجارہ داری نہ ہونی چاہیے، دوم یہ کہ کسی کو اس کے معاش سے محروم کرنے کی کوشش نہ جائے، ہمارے اس بڑے ملک میں ہر ایک کے لیے کافی گنجائش موجود ہے،”
اس اقتباس میں بہت کچھ دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے، ہمارے لیے ان عناصر کے ساتھ کھڑا ہونا مشکل ہے جو جانے سمجھے بغیر جارحانہ اور ناسمجھی کی باتیں کرتے ہیں،
(راقم سطور کی غیر مطبوعہ کتاب ،گاندھی اور گاندھی واد

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے