سائنس کے ذریعہ ولادت کا عمل نظام قدرت کے خلاف:مفتی محمد ثناء الھدیٰ قاسمی

47
پٹنہ(عبد الرحیم برہولیا وی)
 سائنسی ترقیات نے جہاں سہولتیں پیدا کی ہیں، وہیں تجربات کے نام پر بہت کچھ اُلٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے، پہلے رحم مادر کا تصورتھا، اب مردوں میں کوکھ کی منتقلی کرکے بچہ پیدا کیا جا سکتا ہے، فادرس ڈے یعنی یوم پدر کے موقع سے چین نے چوہوں پر یہ تجربہ کیا، نیول یونیورسٹی شنگھائی کے سائنس دانوں نے مادہ چوہیا کی بچہ دانی چوہے میں منتقل کر دیا، او روہ حاملہ ہو گیا، پھر آپریشن کے ذریعہ بچہ پیدا ہوا، اس میں تین بچے صحت مند ہیں، چین کے سائنس داں اسے دوسرے جانور اور پھر انسان تک تدریجا لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں،  اس تحقیق  سے وہ لوگ بہت پر امید ہیں ان خیالات کا اظہار مفتی محمد ثناء الھدیٰ قاسمی مدیر ہفت روزہ  نقیب نے اپنے ادارتی نوٹ میں کیا ہے۔انہوں نے لکھا کہ
 ماضی میں اس قسم کے تجربے دوسرے ملکوں میں ہو چکے ہیں، سال بھر میں اکیلے آسٹریلیا میں اس تکنیک سے بائیس مرد حاملہ ہوئے، ایک میڈیکل سروے کے مطابق دو سو اٹھائیس بچے گذشتہ دہائی میں مردوں کے ذریعہ پیدا ہوئے، ان میں زیادہ تر وہ مرد تھے جنہوں نے اپنی جنس تبدیل کروالی تھی، سائنس دانوں کے یہاں اس غیر فطری عمل میں کشش کی وجہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے ان عورتوں کو بھی سہولت ہوجائے گی جو کسی بھی وجہ سے بچہ پیدا کرنے سے معذور ہیں، حالاں کہ اس عمل سے ہم جنسوں کی شادی میں اضافہ ہوگا، جسے پہلے ہی کئی ممالک قانونی منظوری دے چکے ہیں۔
مردوں پر یہ تجربہ کامیاب ہوجاتا ہے تو انہیں سخت اذیتوں کا سامنا کرنا پڑے گا، ولادت کا کرب عورتوں کے حصے میں آتا رہا ہے وہ مردوں کے حصے میں بھی آنے لگے گا، البتہ ولادت کا عمل ان کے یہاں آپریشن کے ذریعہ ہی ہوسکے گا، اور نارمل ولادت کا تصور کسی بھی حال میں ممکن نہیں ہوگا۔ مفتی صاحب نے لکھاکہ اسلامی نقطہ نظر سے یہ ایک فضول اور لا یعنی عمل ہے، تاریخ شاہد ہے کہ اس قسم کے تجربے ہر دور میں انسانوں کے لیے نقصان دہ رہے ہیں، اس کی وجہ سے سماجی تانا بانا، خاندانی اطوار سب کچھ بدل جائے گا، یہ اللہ رب العزت کے تخلیقی عمل میں گھس پیٹھ کی کوشش ہے، جس کے مضر اثرات ہر حال میں سامنے آئیں گے اور کیا بعید کہ اللہ رب العزت ان کے تجربے کو ہی ناکام کر دے اور انہیں منہہ کی کھانی پڑے۔