ہومبریکنگ نیوزکیف میموریل ٹرسٹ کے زیر اہتمام آفاق احمد خان کے اعزاز میں...

کیف میموریل ٹرسٹ کے زیر اہتمام آفاق احمد خان کے اعزاز میں ادبی محفل کا انعقاد

پٹنہ:(پریس ریلیز ) نوائے ملت 
بہار کے معروف سیاست دان اور ایم ایل سی جناب آفاق احمد خان کے اعزاز میں بزم کیف پٹنہ کے زیر اہتمام ایک شاندار ادبی نششت کا اہتمام کیا گیا،اس موقع پر بزم کیف کے ڈائریکٹر جناب آصف نواز صاحب نے مہمانوں کا استقبال کیا اور بزم کیف کے مقاصد اور کارناموں پر روشنی ڈالی،بزم کے سرپرست پروفیسر اعجاز علی ارشد نے تنظیم کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی اور بزم کے حوالے سے گفتگو کی،ڈاکٹر زرنگار یاسمین صدر شعبہ اردو مولانا مظہر الحق عربی وفارسی یونیورسٹی،پٹنہ نے اپنی گفتگو میں کہا کہ اردو کا جو قبیلہ ہے اس کا رخ کوویڈ کے دنوں میں کچھ دوسری طرف ہو گیا تھا، اب ہم واپس ادب کی فضا میں لوٹ رہے ہیں، اس سلسلے میں براہ راست مکالمے کا آغاز ایک نئی شروعات ہے،معروف افسانہ نگارخورشید حیات صاحب نے کہا کہ آج کی محفل اردو کے جو حروف ہیں ان کو نئ جہت دیتے ہیں، جناب آفاق احمد خان اور پروفیسر اعجاز علی ارشد کے علاوہ آصف نواز صاحب کی کاوشیں ضرور اہم رول ادا کریں گی، انہوں نےاپنی ایک کہانی یہ اسی کی آواز ہے، سنائی،جس کا تجزیہ پروفیسر اعجاز علی ارشد اور مشتاق احمد نوری اور ڈاکٹر زرنگار یاسمین نے کیا، جبکہ مشتاق احمد نوری نے اپنا افسانہ لمبے قد کا بونا پڑھ کر سنایا جس پر پروفیسر جاوید حیات اور شمیم

قاسمی نے تجزیہ پیش کیا،
پروفسیر اعجاز علی ارشد نے کہا کہ اس طرح کی 

 مختصر ادبی محفلوں میں زیادہ سکون اور محویت کے ساتھ شعری اور نثری تخلیقات کے روبرو ہونے کا موقع ملتا ہے، اور قاری ایک نئے کیف سے آشنا ہو تا ہے، محفلِ میں جناب آفاق احمد اور صلاح الدین صاحب کی شرکت اردو زبان وادب کی بڑھتی ہوئی وسعت کا اشاریہ ہے،بزم کیف ایک ایسی انجمن ہے جو سیاست یا ادبی سیاست سے کوسوں دور ہے، اکثر وبیشتر ادبی بے تکلف گفتگو ہوتی ہے، اور ایسی ادبی محفلیں مہینوں یاد رہتی ہیں،محمد آصف نواز اور ڈاکٹر زرنگار یاسمین کی محبت محفل کو یادگار بنا دیتی ہے،
پروفیسر جاوید حیات نے اپنی گفتگو میں کہا کہ یہ بزم کیف ہے جہاں کیف بھی ہے اور سرور بھی،فکر کی جوانی بھی ہے، آج کی اس مخصوص مگر غیر رسمی مجلس ہماری زندگی کی ترجمان ہے، جہاں آفاقیت بھی کیف میموریل ٹرسٹ کے زیر اہتمام آفاق احمد خان کے اعزاز میں ادبی محفل کا انعقادہے اور شعر وادب کی اعجاز بھی ہے،
جناب آفاق احمد خان نے کہا کہ مجھے یہاں آکر بہت خوشی ہوئی، کیونکہ ایسے کئ لوگ ہیں جنہیں میں نے دیکھنے کی تمنا کی تھی ان سے ملاقات ہوئی اور ان کو سننے کا موقع ملا، خالص سیاسی آدمی ہونے کے باوجود میں بہت شوق سے پہلی بار ایک خالص ادبی نششت میں اتنی دیر تک سکون سے بیٹھا رہا، میں اپنے آپ کو کیف میموریل ٹرسٹ سے جوڑتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کرتا ہوں کہ اگلی نششت میری سرکاری رہائش گاہ پر ہو، اس کی تائید سبھی حاضرین نے کی،
اس موقع پر ایک مختصر مگر اہم شعری نششت بھی منعقد ہوئی، جس میں موجود شعراء نے اپنے منتخب کلام سے سامعین کو محفوظ کیا،
محبتوں کا جس دن سے سلسلہ ٹوٹا
نہ ہم سکوں میں ہیں ارشد نہ وہ قرار میں ہیں،
اعجاز علی ارشد
سخت سے سخت جان ہو جانا
ٹوٹنا مت کمان ہو جانا
شمیم قاسمی
تم اپنے منصب ومحراب کے شکار ہوئے
ہم اس حصار سے نکلے تو زرنگار ہوئے
زرنگار یاسمین
زنبیل میں مری
بھیگی بھیگی سی
تحریر تمہاری
جسم پر
سنہری پوشاک
مسلسل گونجتی رہتی ہے
ہر لمحہ
چہار سمت
اک تری ہی آواز
خورشید حیات
اخیر آصف نواز نے تمام مہمانوں کو شکریہ ادا کیا،

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے