کیا ہمیں شرم نہیں آتی؟

42

ہے مشغلہ جسے مرا کردار دیکھنا
وہ شخص بھی کہاں کا ہے اوتار، دیکھنا

اٹھّے گا حشر، شام کا بازار دیکھنا
گرتی ہے کس کے ہاتھ سے تلوار، دیکھنا

مومن کبھی نجس نہیں ہوتا (تحریر:حافظ میر ابراھیم سلفی بارہمولہ کشمیر) اور نہ ہی نجاست کی طرف میلان رکھتا ہے.مومن طیب اور پاک ہوتا ہے اور پاکی کو  اپنی صفت عالیہ میں شامل رکھتا ہے.انسان اشرف المخلوقات ہے اگر صاحب عفت و عصمت ہو.انسان کے آگے نوری اور ناری مخلوقات کو جھکنے کا حکم دیا گیا تھا.مومن سراپا نور ہے جس نور کی چمک کردار میں پوشیدہ ہے.مومن مرد ہو یا عورت ,اپنی شرم و حیا کا سودا نہیں کرتے. لیکن مسئلہ جب عورت کی ہو تو اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے.نجاست کے ڈیر ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں,فحاشی کو مہذبانہ روش سمجھا جارہا ہے,عریانی کی نحوست کو تعلیمی معیار تصور کیا جارہا ہے.صنف نازک میں منشیات کی لت کو فروغ دیا جارہا ہے.شرابی نوشی و دیگر مسکرات کو صنف نازک کی صفوں میں پروان چڑھایا جارہا ہے.بدکاری اور عصمت فروشی کے بازار سجھے ہوئے ہیں.بازاروں میں دکانوں پر سودا فروخت کرنے کی خاطر آدم کی بیٹیوں کا جسم بیچا جارہا ہے .اپنے کاروبار کو بڑھے پیمانے پر وسعت دینے کے واسطے ہوا کی بیٹیوں کے جسم کو بورڑ پر سجاکر نیلام کیا جارہا ہے.ملت کی بہنیں خواب خرگوش میں سوئی ہوئی ہیں.پانچ روپے کی شیمپو پیکٹ لڑکیوں کی تن کا مجسمہ بنواکر بیچا جاتا ہے.اہل دولت اپنی دولت کی بنیاد پر عصمت فروشی میں حصہ لے رہے ہیں.فحش پروگرامز اور فلموں کے ذریعہ ہوس پرستی کو فروغ دیا جارہا ہے.سوشل میڈیا کے ذریعہ ناجائز تعلقات کو خوبصورت رشتہ بناکر پیش کیا جاتا ہے.گناہ کے لاتعداد ابواب کھلے ہوئے ہیں.دھیرے دھیرے کرکے ملت کی بہنوں کا حجاب و پردہ لوٹا جارہا ہے.غزوہ فکری کی جنگ اپنے عروج پر ہے.ایسے ایسے گناہ معاشرے میں گردش کررہے ہیں جنکی بدبو کو خوشبو بناکر ملت کی بہنوں میں عام کیا جارہا ہے.حرام رشتوں کا دور دورہ ہے .امر و نہی کرنے والوں کی زبان کو لگام دی جارہی ہے.حق بولنے والوں کو علانیہ قتل کیا جارہا ہے.ملت کے نوجوان جنسی درندگی کی لپیٹ میں آچکے ہیں.ماں بہن کیا ہوتی ہے کسی کو احساس نہیں.تعلیم کے نام پر فسق و فجور پھیلایا جارہا ہے.معلومات کو تعلیم کا نام دے کر استحصال کیا جارہا ہے.اختلاط مرد و زن کی لعنت نے معصوم کلیوں کو مسل ڈالا.یاد رکھو میرے نبی کا ہر لفظ سچ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے.فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے “قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں“ تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں ‘وہن’ ڈال دے گا“ تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسول!’وہن’ کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے“.(سنن ابو داؤد:4297) جان لو ! امت کی سربراہی اور سربلندی شرم و حیا میں پوشیدہ ہے.اللہ کی تائید و نصرت عفت و عصمت میں چھپا ہوا ہے.اگر کردار کی دولت لٹ گئی تو امت رعب سے محروم ہوجائے گی. اہل ایمان مظلوم ہیں,مغلوب ہیں…وجہ ہم عظمت کردار سے محروم ہوگئے.

دولت کا نشہ سر چڑھ کر بول رہا ہے,دینار و درہم کے سامنے سب اندھے بن چکے ہیں .اہل دین کو یتیم بنایا جارہا ہے.اہل دین کو گئے گزرا سمجھ کر کوڑے دان میں پھینکا جارہا ہے.علم و عمل کا فقدان ہے.دین فقط مرثیہ خوانی تک محدود رہ گئی.منبروں پر مرثیہ خوانوں کا قبضہ ہے.امت کے امراء و صالحین غمنام ہوگئے ہیں.دین کے نام پر طلب شہرت کی گرما گرمی ہے. مرثیہ خواں خطباء و مبلغین کو پیشوا سمجھا جارہا ہے جبکہ علماء و کبار مشائخ کو نظر انداز کیا جارہا ہے.امر و نہی کرنے والے ریاکاری کی دلدل میں بھٹک گئے.اس قوم کے قائدین حرص حیات فانی کی شکار ہوگئی.اہل اجتہاد سے لوگ غافل ہیں جبکہ جہلا اور اصاغر امام بنتے پھر رہے ہیں.پوری امت ٹکڑے ٹکڑے ہوچکی ہے.اتحاد و اتفاق کا درس دینے والے قبر کے حوالے کردئے جاتے ہیں.عدل و انصاف کا علم بلند کرنے والے گولیوں کی زد میں آتے ہوئے بظر آرہے ہیں.نفاق کا روگ عام ہوچکا ہے.اہل فکر ماتم کررہے ہیں.اہل شعور سینا پیٹ رہے ہیں.حالات کا مطالعہ کرنے والا ناخن چبا رہا ہے.رشوت و سود کو تحفہ کا نام دیکر دینی حلقوں میں گھسایا جارہا ہے.ملت کے طبیب ظلم و جبر پر اتر آرہے ہیں .قوم کے اساتذہ سے لوگ ڈررہے ہیں.شرم و حیا کا محافظ ,لٹیرا بنتا ہوا پھر رہا ہے.سادگی کو جہالت کا نام دیا جارہا ہے.اہل تقوی غرباء بنکے رہ گئے ہیں.فرمان سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ “اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا اور عنقریب پھر اجنبی ہو جائے گا،جیسے شروع میں تھا، تو ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں(غرباء ) کے لیے خوشخبری ہے“۔اسلام ابتداء میں مکہ کے اندر اور ہجرت کے ایام میں مدینہ میں اجنبی تھا ،لوگ اسے جانتے نہیں تھے ، اس پرعمل کرنے والے بھی قلیل تعداد میں تھے ،پھر یہ دین اللہ کی مدد سے دنیا میں پھیلا ،اور لوگ فوج در فوج اس میں شامل ہوئے ،اور یہ دین باقی تمام ادیان و مذاہب پر غالب آگیا.پھر ایک زمانہ آئے گا کہ ،دنیا میں یہ دین حق لوگ بھول جائیں گے ،اور ابتدا اسلام کی طرح ایک مرتبہ پھر یہ لوگوں کیلئے اجنبی بن کے رہ جائے گا
یہ ارشاد سن کر لوگوں نے پوچھا :’’ غرباء ‘‘ کون ہونگے ؟جواب دیا گیا “جب دوسرے لوگ دین سے بگڑ جائیں ۔۔یہ غرباء ۔۔اصلاح کریں گے،۔۔یا فرمایا :لوگوں نے میری سنت میں جو بگاڑ پیدا کیا ہوگا ،یہ غرباء اس کی اصلاح کریں گے”.(مجموع فتاوى العلامة عبد العزيز بن باز رحمه الله)

بھروسہ کیا کریں ہم اب کسی پر
یہاں لفظوں کی ارزانی بہت ہے

شکایت ہرکسی کو ہر کسی سے
ادھورے کس قدر ہیں سلسلے بھی

آئے روز جنسی درندگی کے واقعات سامنے آرہے ہیں.آئے دن ڈھکیتی,لوٹ مار ,قتل و خون ریزی کی خبریں سننے کو ملتی ہیں.نوجوان ملت غلط راہوں کی طرف گامزن ہے.موسیقی کو روح کی غزا سمجھ کر قرآن کا انکار کیا جارہا ہے.ہماری خوشی ,ہمارا غم اہل ہنود کی تقلید میں گزرتا ہے.دھوکہ,جھوٹ,خیانت ,مکر و فریب کی داستانیں رقم ہورہی ہیں.ایمان و صداقت کی شمع بجھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے.مقصد حیات فوت ہوچکا کے.ہمارا کاروبار,ہمارے معاملات,ہمارے اخلاق غیروں کی اندھی تقلید کی زد میں آگئے ہیں.عبادات کو رسومات سمجھ کر ادا کیا جارہا ہے.دین فقط لسان تک محدود رہ گیا ہے.ظاہر و باطن گندگی میں ڈوب چکا ہے.آنکھوں کا جھکاؤ غائب جبکہ بدنگاہی عام ہے.صداقت غائب جبکہ چرب زبانی عام ہے.مقصد تخلیق کو پس پشت ڈال کر مادیت پرستی کا مقابلہ رواں دواں ہے.ہم نے اپنا دین بیچ ڈالا,اپنا ایمان بیچ ڈالا.قرآن خواں قوال بنکے رہ گئے.تہجد خواں شبابی محفلوں کی زینت بن گئے.ہمارا وجود اس روئے ارض پر بوجھ بن کے رہ گیا.سیاست میں ماہر جبکہ دین سے لاعلم ہیں.بحث و مباحثہ موضوع وقت ہے,عمل صالح کی توفیق سے ابن آدم محروم ہیں.لواطت کا جرم فیشن بن کر امت میں پنپ رہا ہے.جسم کی نشونما ملحوظ نظر ہے جبکہ ضمیر مردہ ہیں.روح سیاہ ہوچکی ہے.ہوٹلوں میں ,اسکولوں میں, کالجوں میں, سرکشی کے مذاکرات ہورہے ہیں.اہل سیاست گھر بسانے میں مشغول ہیں.لیکن پھر بھی دنیا کا نظام چل رہا ہے . اللہ کی برکات نازل ہورہی ہیں,رحمتوں کا نزول مسلسل جاری ہے .فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ “قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی، یہاں تک کہ زمین پر کوئی اللہ کا نام لینے والا باقی نہ رہے گا”.(صحیح مسلم)

شیخ سعدی رحمہ اللہ نے حقیقت بیان کی ہے کہ “بڑے بڑے متکبروں اور سرکشوں کو بھی خدا کے سامنے جھکے بغیر چارہ نہیں”.اللہ کے سامنے جھک جاؤ.ابھی وقت باقی ہے.سانسوں کا چلنا کب اختتام کو پہنچے معلوم نہیں.اللہ کی بارگاہ میں رجوع کرکے آؤ.سکون کی تلاش  اللہ کی یاد میں ہے.قرار و چین اللہ کے ذکر میں ہے.روح کا اطمنان قرآن مقدس میں.حقیقی حسن حیا و پاکدامنی میں ہے.روح کو جب تک غذا نہیں دوگے وہ بھٹکتی رہے گی.نصیحت اگرچہ ناخوشگوار ہوتی ہے لیکن اس کا انجام خوشگوار ہوتاہے.

سنبھل جاؤ.یہ دھرتی انصاف چاہتی ہے.یہ چمکتا آسماں ہماری بغاوت دیکھ کر شرمسار ہے.یہ ہوائیں غمزدہ ہیں.یہ پرندوں کا چہچہانا اسی پرنور فضا کی تلاش میں ہے جو کبھی ہوا کرتی تھی.کسی کی حیات کو دوزخ بنانے سے پیچھے ہٹ جاؤ کہ یہ قرض تمہیں عنقریب ادا کرنا ہوگا.کسی کی عزت پر ڈاکہ ڈالنے سے پہلے اپنے عیوب پر چشم تر کرنا.
شرم و حیا ہی حقیقی لباس ہے جو تمہیں مزین کرتا ہے.جسم سے پہلے روح کی حیات کا خیال رکھو.ہمارے رہبر و رہنما  صلی اللہ علیہ وسلم تو
کنواری پردہ نشین عورت سے بھی کہیں زیادہ حیادار تھے اسی لیے ہر قبیح قول وفعل اور اخلاق سے گری ہوئی ہر طرح کی حرکات و سکنات سے آپ کا دامن عفت و عصمت تاحیات پاک رہا.حجاب و پردہ تمہارے لئے آب حیات اور حیات جاوداں کی مانند ہے.روشن خیالی کے نام پر تمہارے فطری امور پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے.تمہارے حجاب مغربیت کے لئے کفن کا درجہ رکھتا ہے.تمہاری بناوٹ اور حسن و جمال پروردگار کی امانت ہے.ہم بد نگاہی اور بے حیائی کے جس کلچر کے عادی ہو چلے ہیں وہ تباہی اور بربادی کا کلچر ہے.اب ان رسومات کے خلاف تمہیں آواز بلند کرنی ہوگی,قلم استعمال کرنا ہوگا اور عملی کردار ادا کرنا ہوگا.رب ذوالجلال کی تمہیں وصیت ہے کہ “’’بے حیائی کے قریب بھی مت جاؤ، خواہ وہ کھلی ہو یا چھپی۔‘‘، (انعام: 151).اللہ ناراض ہے دوستو! اسے راضی کرنا ہوگا.تو اٹھو اور رسم شبیری کی داستاں پھر سے رقم کرو جو دوسروں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوجائے………ان شاء اللہ