کیا عوامی احتجاج ختم ہوجائےگا شاہد عادل قاسمی ارریہ

41

کیا عوامی احتجاج ختم ہوجائےگا
شاہد عادل قاسمی ارریہ
آج جی بہت گھبرا رہا ہے، صبح سے کسانوں کے ساتھ مرکزی اور ریاستی حکومت کارویہ دیکھ کردل کافی بیےچیں ہے ،رات کا وقت ہے،سرکار کا منصوبہ صاف صاف دکھ رہا ہے، ہندوستانی تہذیب و ثقافت کا جنازہ بھی خوب دھوم سے نکلتاجا رہا ہے، آج جمہوریت کاقتل ،سیکولرزم کا دفن اور ڈیموکریسی کی اڑتی کودیکھ کر ہندستان کا مستقبل کیا ہوگا کوئی بھی اب باسانی سمجھ سکتا ہے،اتنی ضدی اور بے غیرت حکومت شاید کسی آزاد ملک میں نہیں ہوگی،ہر احتجاج پر اپنے فیصلیے کو منزل من السماء ماننا اس حکومت کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے،370سے شہریت ترمیم بل تک جو احتجاج ہُوا اس کے رد عمل میں اس حکومت نے جو مظاہرین کے ساتھ بربریت کا ننگا ناچ کیا سبھی واقف ہیں،یونیورسٹیاں جلیں،طلباء طالبات جلیے،لائبریریاں اجڑیں، گھر اجڑیے،زندگیاں بجھیں اور کتنے جانی مالی نقصانات ہوئے مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوا، گود اجڑنے کا درد ہوا نہ نشیمن جلنے کا کوئی غم ،بلکہ ایک قدم پیچھے نہیں ہونے کا ایسا حکم نافذ کیا کہ کچھ آندولن کاری ہی مایوس ہو گئے،شاہین باغ کا احتجاج یاد ہے نآ کس طرح اس کو ختم کرنے کیلئے اس حکومت نے شطرنجی کھیل کھیلا تھا،جامعہ کے بچوں پر گولی ،جعفرآباد، ویلکم ،سیلم پور اور موجپور وغیرہ کا خونی منظر آج دلی کے بارڈروں پر دیکھنے کو مل رہا ہے،64دنوں سے کسان آندولن چل رہا تھا،حکومت وقتاً فوقتا بات بھی کررہی تھی ،دوماہ تک کسی کو کوئی اعتراض تھا،نہ مرکزی حکومت تحریک پر پابندی لگایی، نہ ہی صوبائی حکومت کوئی اعتراض جتایی ،راہگیروں کو کوئی دقت تھی نہ ہی دلی کے کسانوں کو کوئی آپتی تھی ،مگر آج کیا ہوگیا مرکزی حکومت آگ بگولہ،صوبائی حکومت چراغ پا،اور دلی کے کسان سروں پر پیر لیے مخالفت میں کھڑا ہے،نہتے ،سیدھے سادھے، پردیسی،ضعیفوں اور کمزوروں پر ایسی گھیرا بندی ہے مانو کوئی گھس پیٹھیا ٹیم انڈیا داخل ہوگئی ہواور ملک میں فتح یابی کا جھنڈا گاڑ دیا ہو،
مانتے ہیں احتجاج کے دوران کسانوں نے طے شدہ روڈ سے ہٹ کر ٹریکٹر کو دوڑا دیا ،مگر دلی کی سڑکوں کی کیفیت بھی تو ملحوظ نظر رہے،گوگل اور دیگر میپ کے ذریعہ خود دلی کے ڈرائیور گاڑیاں چلاتے ہیں ، تب یہ تو بیچارے گاؤں کے لوگ تھے، اکثر نے تو پہلے کبھی دلی دیکھا بھی نہیں ہوگا،پھر ایسوں پر یہ کآرروائی کیونکر صحیح ہوسکتی ہے ،
لال قلعہ پر جو ننگا کھیل ہوا، اس پر جتنا نندا کیا جائے کم ہے،اس عمل پر جتنی مذمت کی جآئے کم ہے،یہ تفتیش کا معاملہ ہے،جس شخص نے یہ حرکت کی ہے ،اس کی سخت گرفت ہونی چاہیے،ان پر دیش ورودھی کا مقدمہ چلنا چاہیے،اسکو بنا تاخیر سلاخوں کے پیچھے ڈالنا چاہیے،مگر واہ کیا کہنا اس مردود کی گرفتاری تو دور تفتیش تک نہیں ہوئیکہ اخی یہ شر پسند ہے کون ،غضب بالائے غضب تو یہ ہے کہ موجودہ حکمران کے ساتھ ملک کے وقار کو مجروح کرنے والے کی تصویرخوب وائرل ہورہی ہے ،ہر طرح کے الزامات بھی لگ رہے ہیں ،پھر بھی حکومت کی خاموشی اور اس دیش مخالف کی اب تک عدم گرفتاری موجودہ حکومت کی کرتوت صاف صاف بتارہی ہے،
اپنے حقوق کی بازیابی کیلئے ہر باشندہ پرامن احتجاج کرسکتا ہے ،آئین ہمیں اپنے اختیارات کی بازیابی کیلئے شانتی پرن آندولن کی اجازت دیتا ہے اور اسی تناظر میں لوگ احتجاج بھی کرتے ہیں ،مگر شاید اب پبلک کوئی احتجاج مستقبل میں نہیں کرسکے گی ،آج شام کسان آندولن کاریوں کے خیمہ کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آگیا،پولیس کی لمبی قطارہر طرح کے ہتھیار سے لیس ،میڈیائی طوائفوں کی بھیڑ ہر ہاتھ میں بکا ہوا مائک اور چہروں پر خوشی کا کیا کہنا،کچھ نام نہاد دلی کے بکاؤ کسان ہر زبان دیش پریمی کا جھوٹھا راپ الاپنے والا،لال قلعہ کےاپمان پر ایسا بھاشن دینے والا جسے خود یاد نہیں کہ اس سے قبل کتنے تاریخی مقامات اور عبادت خانوں میں بھگوا جھنڈا پہرایا گیا ہے ،کاش اس پر حکومت کا ایکشن ہوتا تو شاید یہ دیکھنے کو نہیں ملتا، مگر قربان جائیے اس تحریک کے روح رواں ٹکیٹ جی پر ،ایسا جگرا ،ایسا لہجہ،اتنا مضبوط ارادہ،اتنا پاک جذبہ،اتنا آتم وشواس،سچ کہا جائے تو ایسے ہمت کے پہاڑ کادرشن شاذونادر ہی ہوتا ہے،ہاتھوں میں مائک،زبان پر درد،آنکھوں میں آنسو یقینا انکی بے بسی پر ترس کھا رہی تھی،حکومت کو للکار رہے تھے،پولیس کو گرفتاری دینے سے منع کررہے تھے،جائے آندولن پر قربان ہوجانے کی بات کہ رہے تھے،سینے پر گولی کھا نے کی بات کر رہے تھے، کافی بھاوک ہو چکیے تھے،مگر جو کام لائق تعریف ہو اس کو بولنا چاہیے ،پولیس انتظامیہ کے آفیسران نےبھی صبر اور تحمل کے دامن کو مضبوطی سے پکڑے رکھا،گرفتاری کے عمل کو ملتوی کیا اور وہاں سے نکل گئے –
حکومت کو اپنے ماتحتوں کی فکر ہو ،مطالبات حکومت سے ہی کیے جاتے ہیں،فریاد سرکار ہی پوری کرتی ہے،پہلے بھی زرعی قوانین بنائے گئے ہیں ،پہلے بھی سنسودن ہوا ہے،اس لیے موجودہ حکومت بھی کچھ رعایت کرے،کسانوں کے مطالبات کو سنے اور پورا بھی کرے،بڑے بڑے تحریکوں کو روکا گیا ہے ،آندولن کاریوں کا دل جیتا گیا ہے،بھوک ہڑتال تک کا خاتمہ کیا گیا ہے،یہ آندولن کاری بھی انسان ہیں ،انکی تحریک بھی ختم ہوسکتی ہے، مگر ختم کرنے کی آج جو تصویر نکلی ہے وہ اس مٹی کی قطعی نہیں ہوسکتی،اس طرح مجبور کرکے قیدی جیسابنانا اس آزاد دیش کی روایت تو ہو نہیں سکتی، اس سے دیش کا معیار کتنا گرا ہے تصوّر بھی نہیں کرسکتے ہیں،