کیا رت بدل رہی ہے؟

50

ایران پر تحدید کی تجدید سے سلامتی کونسل کا انکار۔

ایران اور امریکہ کے درمیان پہلے بڑی دوستی تھی، اب جو کچھ ہے سبھی جانتے ہیں.. عربوں سے امریکہ کی بالعموم دوری تھی، وجہ اسرائیل تھا.. اب عرب اسرائیل مفاہمت نہیں دوستی ہے.. تو امریکہ کی دوری کا کوئی معنی نہیں رہ جاتا.. علانیہ سفارتی تعلقات کا اعلان اب ہوا ہے ورنہ پس پردہ تعلقات کی پرجوش استواری سالوں سے ہے.. اسرائیل کے کیبنٹ منسٹروں کے بیابات بہت پہلے سے آتے رہے ہیں کہ، ہمارے عرب دوستوں سے اچھے تعلقات ہیں، لیکن وہ چاہتے کہ اس کا اعلان نہ کیا جائے،، ہم ان کی خواہش کا احترام کرتے ہیں اور اعتراف بھی کہ ان دوستوں نے ہماری بڑی مدد کی ہے. اسرائیل سے دوستی کی اس دہلیز ملامت تک پہونچنے میں ایران کی دشمنی اور اس کی عسکری قوت کا خوف بھی ایک اہم عامل رہا ہے.. عراق، شام، لبنان اور یمن میں ایران کے اثرورسوخ نے، اور زمینی سطح پر اس کی پے درپے کامیابیوں نے عربوں کو خوف زدہ کردیا ہے.. ایران سے براہ راست فوجی ٹکراؤ عربوں کے بس میں نہیں.. وہ سو فیصد امریکہ کے دست نگر ہیں. امریکہ نے ان کی اس مجبوری کی قیمت اسرائیل کو تسلیم کرواکر وصول کی ہے.. ادھر ایران امریکہ اور اس کے حلیفوں کی بے رحمانہ عسکری اور تجارتی پابندیوں سے تھک چکا تھا.. لیکن اس نے بےمثال مزاحمت کا مظاہرہ کیا، اور پورے خطے میں پراکسی وار کی حکمت عملی سے اپنی برتری ثابت کی.. جو ملک تباہ ہوا وہاں ایران کا رسوخ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا۔

سیاسی اور انتظامی ہر سطح پر ایران نواز قابض ہوگئے.. ایران نے جنگی وسائل سے زیادہ لڑاکا بازوؤں پر بھروسہ کیا، جہاں برآمد کرسکا براہ راست برآمد کیا،، جنگ جوؤں کو عسکری نیم عسکری تربیت دی، مزاحمتی گروپوں کو یکجا کیا، رفاہ عام کے کاموں کے ذریعہ عوامی ہمدردی سمیٹی، اور اسرائیل کے خلاف ہر مزاحمت کی کھلم کھلا تائید کی، اور پشت پناہی کی، مالی مدد کی، ٹیکنالوجی کے ذریعہ ہلکے کارآمد ہتھیار مقامی سطح پر بنانے کا انتظام کیا.. ان تمام مرحلوں سے گزرتے ہوئے.. سفارتی بیک چینلز کا استعمال بھی کرتا رہا.. امریکہ کو نظرانداز کرکے بین الاقوامی سطح پر اور اقوام متحدہ کے مختلف فورم پر امن پسندی اور گفت وشنید میں اعتدال پسندی کی روش اپناتا رہا.. خصوصاً ایٹمی توانائی ایجنسی کی تفتیش میں تعاون کرتا رہا، جس کی وجہ سے أوباما انتظامیہ اور یورپین یونین کو اپنا رویہ نرم کرنا پڑا، اور بیس سال بعد پابندیوں سے نکلنے کی ایک راہداری بنائی گئی.. ایسا اس لئے بھی کرنا پڑا کہ ایران کے تئیں روس اور چین کا رویہ نرم پڑنے لگا تھا،، روس کو اسلحے کی کھیپ کھپانی تھی، اور چین کو اپنے ایندھن کی ضروریات کے لئے ہمہ جہت ذرائع رکھنا تھا.. وہ عربوں کے تیل پر انحصار نہیں کرسکتا تھا جو پوری طرح امریکہ کے دباؤ میں آچکے تھے، اور ان کی طرف سے بے روک ٹوک ترسیل کی ضمانت نہیں تھی..

امریکہ میں جب صدر ٹرمپ آئے تو حالات یک دم بدل گئے.. امریکہ ایران معاہدہ جس کا فریق پورپین یونین بھی تھا، کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور بالآخر اس سے دستبردار ہوگئے.. یورپین یونین نے اس یک طرفہ کارروائی کی حمایت تو نہیں کی لیکن کچھ ایسی مخالفت بھی نہیں کی.. شاید اس مسئلے پر امریکہ کے ساتھ آویزش کے حق میں نہیں تھا.. ادھر امریکی صدر کے سینے کی آگ ٹھنڈی نہیں پڑی اور وہ چاہتے تھے کہ 1915 سے پہلے کی عائد پابندیاں دوبارہ ایران پر لگادی جائیں جو مسترد کردہ معاہدہ کے نتیجے کے طور پر اٹھا لی گئی تھیں.. اس کے لئے امریکی صدر نے بہت زور مارا.. لیکن سلامتی کونسل نے امریکہ کی اس خواہش کا احترام نہیں کیا اور انکار کردیا.. سلامتی کونسل میں امریکہ کی ایسی سبکی بہت کم دیکھنے میں آتی ہے.. ایک انتہائی جارحیت پسند اور پر عناد امریکی صدر کے مطالبہ کو اتنی صراحت سے مسترد کرنا واقعی بے باکی ہے.. سلامتی کونسل کی چیرمین شب اس وقت انڈونیشیا کے پاس ہے.. لگتا ہے کہ او آئی سی کے بکھراو اور نئے مسلم بلاک کی تشکیل نے بھی ایک نئی جرأت پیدا کردی ہے۔

او آئی سی پر خلیجی ممالک کے اثر و رسوخ کو بھی امریکہ اپنے مقصد کے لئے استعمال کرتا رہا ہے.. لیکن اب عرب اسرائیل تعلقات کے اعلان کے بعد عربوں کے اخلاقی دباؤ نام کی کوئی چیز بچی نہیں.. سلامتی کونسل میں جو ہوا، اس سے لگتا ہے کچھ رت بدل رہی ہے۔