’کیا بھارت طالبان کی حکومت تسلیم کرنے پر غور کر رہا ہے؟‘

38

بھارت نے قطر میں تعینات اپنے سفارت کار دیپک متل کی طالبان رہنما شیر محمد ستنکزئی سے ملاقات کے دو روز بعد کہا کہ نئی دہلی کی توجہ یہ یقینی بنانے پر ہے کہ افغانستان کی زمین بھارت کے خلاف دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔

قطر میں بھارت کے سفیر دیپک متل نے طالبان رہنما شیر محمد ستنکزئی سے ملاقات کے دوران اس معاملے کو اٹھایا تھا اور ستنکزئی نے بھارت کی تشویش کو دور کرنے کی کوشش کی تھی۔ نئی دہلی نے ستنکزئی کی یقین دہانی کو مثبت قرار دیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ طالبان حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہتا ہے اور وہ بھی چاہتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین اس کے خلاف استعمال نہ ہو۔

اس سلسلے میں طالبان نے اسلام آباد کو اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ کیے جانے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا معاملہ

بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے رواں ہفتے جمعرات کو نئی دہلی میں پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ بھارت افغانستان میں موجود باقی بھارتی شہریوں کو بھی بحفاظت واپس لائے گا۔ تاہم یہ کوشش کابل ایئرپورٹ پر معمولات کے بحال ہونے کے بعد کی جائے گی۔

جب ارندم باگچی سے پوچھا گیا کہ کیا دیپک متل اور ستنکزئی کی ملاقات سے یہ مفہوم نکالا جائے کہ بھارت طالبان حکومت کو تسلیم کرنے پر غور کر رہا ہے؟ تو انھوں نے کہا کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس سلسلے میں کوئی قیاس آرائی نہیں کر سکتے کہ ایسی ملاقات پھر ہو گی یا نہیں۔

خیال رہے کہ بھارت اور طالبان کا پہلا سفارتی رابطہ ‘کئی ممالک دیکھو اور انتظار کرو’ کی پالیسی کے تحت کی گئی۔

اس سوال پر کہ مذکورہ ملاقات کی کوئی تصویر کیوں جاری نہیں کی گئی تو باگچی کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک ملاقات تھی اور نہ تو بھارت کی طرف سے اس موقع کی تصویر کشی کی گئی اور نہ ہی طالبان کی طرف سے۔

‘ماضی کے تجربات فراموش نہیں کر سکتے’

بھارت اور طالبان کے رابطوں کے حوالے سے سینئر دفاعی تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) شنکر پرساد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ماضی میں حقانی نیٹ ورک نے کابل میں بھارت کے سفارت خانے پر دو بار حملہ کیا اور طالبان دسمبر 1999 میں بھارت کا ایک مسافر بردار طیارہ اغوا کر کے قندھار لے گئے تھے۔ ان کے بقول ان واقعات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں اب جب کہ طالبان کی حکومت قائم ہو رہی ہے۔ حقانی نیٹ ورک کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اس نے کابل کی سیکیورٹی سنبھال رکھی ہے۔ حقانی نیٹ ورک اور پاکستان کی آئی ایس آئی کی قربت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا اگر افغانستان کی زمین سے بھارت مخالف سرگرمی شروع ہو جائے تو تعجب نہیں ہوگا۔

تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوتا ہے اور اس کا ثبوت ملتا ہے تو بھارت روس اور امریکہ کی طرح وہاں اپنی فوج نہیں بھیجے گا بلکہ اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر اس معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں کو بھی اس پر توجہ دینا ہوگی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بہر حال ابھی یہ سب قیاس آرائیاں ہیں۔ وہاں کیا ہوتا ہے، کیا نہیں یہ آنے والا وقت بتائے گا۔

امریکہ کے چھوڑے گئے ہتھیار اور طالبان

شنکر پرساد نے کہا کہ طالبان کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ انھیں حکومت چلانے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہو گی۔ ایسے میں اس بات کا خطرہ ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے چھوڑے گئے ہتھیاروں کو فروخت کرنا نہ شروع کر دیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ اس وقت چین اور پاکستان کا رویہ کیا ہوتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت کو دیکھنا ہے کہ افغانستان میں کیسی حکومت بنتی ہے اور اس کے رشتے پاکستان اور چین کے ساتھ اور اس کے علاوہ جیش محمد، داعش اور دیگر جہادی تنظیموں کے ساتھ کیسے ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ طالبان نے گو کہ بھارت کی تشویش کو دور کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کے ساتھ اچھے رشتوں کے قیام کی خواہش ظاہر کی ہے البتہ ان کے بیانات میں تضاد بھی ہے۔ ان کے بقول اس وقت بھارت کی ترجیح افغانستان میں بچے ہوئے بھارتی باشندوں کو بحفاظت واپس لانا ہے۔

ان کے مطابق بھارت اور افغان عوام کے درمیان بہت پرانے دوستانہ رشتے ہیں۔ بھارت ان رشتوں کو توڑنا نہیں چاہتا۔ بھارت چاہتا ہے کہ یہ دوستانہ رشتہ آگے بھی بنا رہے۔

بھارتی اور افغان عوام کے درمیان رشتے

ایک اور تجزیہ کار جے شنکر گپتا نے بھی بھارتی اور افغان عوام کے درمیان دوستانہ رشتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج نئی دہلی اور دوسرے شہروں میں کافی افغان شہری رہتے ہیں۔ بہت سے افغان لڑکے اور لڑکیاں یہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ دہلی کے بیشتر اسپتالوں میں افغان مریض خاصی تعداد میں نظر آتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام سے عوام کے درمیان یہ رشتے آگے بھی قائم رہیں۔

انھوں نے بھی وائس آف امریکہ سے گفتگو میں طالبان اور بھارت کے بیانات کے حوالے سے طالبان رہنماؤں کے بیانات کو متضاد قرار دیا۔ ان کے بقول ایک طرف طالبان کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر بھارت اور پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور دوسری طرف طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کہتے ہیں کہ کشمیر سمیت کہیں بھی اگر مسلمانوں کے مسائل ہیں تو ہم اس بارے میں بات کریں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان کے بارے میں بھارت کا مؤقف واضح نہیں ہے۔ ایک طرف وہ طالبان کو دہشت گرد گروہ کہتا رہا ہے اور دوسری طرف اس کی صدارت میں سلامتی کونسل کی جو قرارداد منظور ہوئی ہے۔ اس میں طالبان کو دہشت گرد گروہ کہے جانے والا جملہ حذف کر دیا گیا۔

تاہم انھوں نے افغانستان کی سرزمین پر ممکنہ بھارت مخالف سرگرمیوں پر بھارت کی تشویش کی تائید کی۔ ان کے بقول کوئی بھی ملک نہیں چاہے گا کہ اس کے خلاف دہشت گرد کارروائی ہو۔

بدلتے حالات کے مطابق فیصلہ کرنے کی ضرورت

جے شنکر گپتا نے مزید کہا کہ بھارت کو بدلتی ہوئی صورتِ حال میں اپنی پالیسی وضع کرنی ہوگی۔ طالبان اب ایک سیاسی قوت ہیں۔ ان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے بقول بھارت کو چاہیے کہ وہ اپنے قومی مفادات کا بھی خیال رکھے اور یہ بھی دیکھے کہ طالبان حکومت کے ساتھ عالمی برادری کا کیا رخ رہتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بھارت طالبان کی مخالفت کر کے یا پھر حمایت کرکے الگ تھلگ پڑ جائے۔

انھوں نے الزام لگایا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی ناکام ہے۔ وہ پہلے روس کے ساتھ ہوتا تھا لیکن اب اس نے امریکہ سے اپنے گہرے تعلقات قائم کر لیے ہیں۔

ان کے مطابق بھارت پہلے غیر وابستہ تحریک کے ممالک کا ایک اہم رکن تھا مگر اب اس کی پالیسی تبدیل ہو گئی ہے۔ جنوب ایشیائی ممالک کے تعاون کی تنظیم ‘سارک’ کو غیر مؤثر کر دیا گیا ہے۔ پڑوسی ملکوں سے اس کے رشتے خراب ہیں۔

خیال رہے کہ بھارتی حکومت کا یہ مؤقف رہا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کے تحت اپنی خارجہ پالیسی وضع کرتی ہے۔ وہ اس سے قبل اس قسم کے الزامات کو مسترد کر چکی ہے۔