کیاہندوستان میں مسلمانوں کےحقوق پامال ہوتےہیں؟

36

کیاہندوستان میں مسلمانوں کےحقوق پامال ہوتےہیں؟

تحریک آزادی ہند میں ہمارےکئی ہزار علماوں نےاپنی جان ومال کانظرانہ پیش کیا،اور وطن عزیز ہندوستان کوشیطان انگریزوں سےنجات دلایا،آزادی ہند میں جتناکردار اغیاروں نےنبھایا،اتناہی کردار ہم مسلمانوں نےنبھایا،جتناخون اس چمن کوسیچنےمیں اغیاروں نےدیا،اتناہی خون ہم مسلمانوں نےدیا،مگر پھر بھی 70 سالوں سےوطن عزیز ہندوستان میں مسلمانوں کےحقوق پامال ہوتےآرہےہیں، اور ہمیں ہرموڈپر ظلم وستم کاشکار ہوناپڑتاہے،ہمیں دوسرےنمبرکےشہری کاخطاب دیاجاتاہے،ہرسیاسی پارٹیاں کئی مدوں پہ انتخاب لڑتی ہے،مگرانکی انتخابی تشہیر تب تک مکمل نہیں ہوتی جب تک اسلام اور مسلمانوں پرکوئی بات نہ کرلے،ہرپارٹیوں کی تشہیر میں چارچانداس وقت لگتاہےجب پارٹیاں مسلمانوں کےخلاف یاانکےمدوں پہ بات کرتی ہے،اور یہ بات صرف بات بن کےرہ جاتی ہے،اور یہ ہماری بھولی بھالی قوم کاکیاکہنا! دوچار باتیں انتخابی تشہیر میں کسی پارٹی نےکیاکہ دیا یہ اسکی غلام بن جاتی ہے،اور کہتی ہےیہ پارٹی ہمارےحقوق کی بات کرتی ہے،یہاں میں ایک بات بتادوں پارٹیاں ہمارےحقوق کی نہیں وہ خودکےحقوق کی بات کرتی ہیں، ہمارے حقوق توانتخابی ریلیوں میں کہیں گم ہوجائیں گی،مگر مسلمانوں پہ بات کرنےکاان کوصلہ ملتاہےکہ وہ اقتدار کی کرسی پہ بیٹھ جاتاہے،اور بیٹھنےوالابھی اسلام مخالف اور انتخابی تشہیر میں مسلمانوں کےمدوں پہ بات کرنےوالابھی اسلام اور مسلمان مخالف، دونوں میں سےجوبھی بیٹھاوہ ہمارےحقوق کوپامال کرےگا،جسکو ہم نےووٹ نہیں دیاوہ ہماری سنوائی کیوں کرکرےگا،اور جس کےہم غلام بن کےراتو دن انتخابی جلسےجلوسوں میں حصہ لیاوہ ہمیں پہلےہی غلام بنارکھاہے،اب وہ ہمیں اپنی غلامی سےآزادکیوں کرےگا، اتنا سستااوربہترین غلام کہاں مل سکتاہے،70 سالوں سےمسلمانوں کےووٹوں کوتمام پارٹیاں جنگ میں ملےمال غنیمت کی طرح تقسیم کرتی ہیں،ہم پہلےہی اقلیت میں ہیں اور اوپرسےہمارےووٹوں کی تقسیم قلب وجگرپہ وارکرتی ہیں،
ہماراکوئی سیاسی رہنمانہیں ہم جسےاپناقائد بناکرایوان میں بھیجتےہیں وہی ہماری موت کاسامان مہیاکرتاہے،اور اغیارسےمل کرہمارےبھروسوں کاقتل کرتاہے،ہم ہمیشہ سےخسارےمیں ہیں،اور یہ نتیجہ صرف اور صرف ہمارےبداعمالیوں کےسبب ہیں،اگر آج ہم قوم مسلم غلام مصطفےبن کرزندگی گذاریں توحطیم کعبہ کی قسم دنیاہماری غلام بن جائےگی،ارےہم تووہ قوم تھے جن سےقیصروکسری کانپ اٹھتےتھے،جس راستےسےہماراگذر ہوتا شیطان اپناراستہ بدل لیتاتھا،ارے ہمارارعب ودبدبہ صرف انسانوں تک ہی موقوف نہیں تھا،بلکہ ہمارا رعب توچرند پرند درندوں پر ہواکرتاتھا،ہماری حکومت کےچرچےدنیاکےہرکونےہرگوشےمیں ہواکرتاتھا،
ہماری حکمرانی کی کوئی حدنہیں ہوتی تھی،کوئی دائرہ نہیں ہوتاتھا،بائیس لاکھ مربہ میل پرہماری حکومت تھی،مگرجب ہمارےحاکم گھرسے نکلتےتھےتوہمارےچادروں میں بہتر بہتر پیوندلگے ہوتےتھے،ہماری خاکساری میں بھی حکمرانی تھی،مگر ہماری قسمت نے ہمارےمنہ پہ وہ طمانچہ مارا کہ آج کھڑاکھڑا پیشاب کرنےوالاجاہلوں کاسردارہمارےاوپر حکمرانی کررہاہے،
اس لیئےہم تمام اہل اسلام سےگذارش کرتےہیں کہ ہرمسلمان سیاست میں اپناکردار اداکریں کیونکہ دین اور سیاست الگ الگ نہیں ہیں بلکہ ایک ہی سکےکےدو رخ ہیں
کیونکہ
جداہو دین سےسیاست تو رہ جاتی ہےچنگیزی،

میراماننایہ ہیکہ جب تک ہماری حکومت نہیں ہوگی ہم دین کانفاذ نہیں کرسکتے،
جب تک ہم حاکم نہیں ہونگے ہمیں اسی طرح ذلت ورسوائی کاسامناکرناپڑےگا، جب تک ہم حاکم نہیں ہونگے ظلم کاخاتمہ نہیں ہوگا،جب تک ہم سیاست میں حصہ نہیں لیں گے اسی طرح ہمیں اغیار اپنےدربار کاکتا بناکےرکھےگا،ہماری طرف وہ ایک روٹی کاٹکڑاڈالےگا اور ہم اسی کی رحم وکرم پہ پلتےرہینگے،کب تک ان کےپھیکےہوئےٹکڑوں پہ ہم مسلمان کھاتےرہینگے،ساری دنیاخدار بن گئی،مگر ابھی بھی قوم مسلم کہیں عیسائی، توکہیں یہودی، توکہیں نصرانی،کہیں ہندکےکفاروں کےغلام بنےہوئےہیں،
اور اپنےدین وایمان کاسوداکررہےہیں،کبھی طلاق ثلاثہ کی مخفی حمایت کرکے،کبھی مسلمانوں کے اعتماد کاگلاگھونٹ کے،کبھی ہم داڑھی رکھنےپرظلم وستم کےشکارہورہےہیں،اگر ہماراکوئی حاکم واثق نہیں ہوگا،تویاد رکھیں! یہ ظالم حکومت ہماری داستانیں مٹادےگی،ہمارےشعائر مٹادیں گے،
کیوں کیاہوا ہے ہماری قوم کو؟
کیوں نہیں وہ خدار بنتےہیں،
کیوں اپنےمسائل کوظالموں کےدربار میں پیش کرتےہیں،کیاہمارےلیئےہمارادین کافی نہیں؟
کیاہمارےلیئےہمارے نبی کریم صلی اللہُ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعلیمات کافی نہیں؟
کیاہمارےلیئےہماراقرآن کافی نہیں؟
کیاہم صدیق اکبررضی اللہُ عنہ کےغلاموں جیسی خلافت نہیں کرسکتے؟
کیاہم میں عدل وانصاف کی طاقت وقوت باقی نہیں؟
کیاہم فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جیسے عدل وانصاف کاپیکرنہیں بن سکتے؟
کیاں ہم میں عثمان غنی رضی اللہُ عنہ جیسی سخاوت باقی نہیں؟
کیاہم میں علی المرتضی رضی اللہُ عنہ جیسی شجاعت باقی نہیں؟
سب کی سوانح زندگی ہمارےسامنے ہے، مگرپھربھی ہم اسےاپناتےکیوں نہیں،
کیاہوگیاہےہماری قوم کو؟
کیوں مومنوں کےدربارسےاپنا رشتہ منقطع کرچکاہے، کیوں ہماری قوم، مسلم حکمرانوں کےمنکربنےبیٹھےہیں، کب تک ہم ان ظالموں کوتسلیم کرتےرہیں گے،کبھی توخدار بننابڑےگا،ہمیں بھیک مانگنےکی عادت تھی نہ ہے نہ رہےگی انشاءاللہ،ہمیں اپناحق لینےکاخوب تجربہ ہےکہ ہمیں ظالم سےحق کیسےچھینناہے،ہم ہرمحاظ پہ ایک قابل اعتماد قوم ہیں،ہم کسی بھی قوم سے کسی بھی طورپرناقص نہیں ہیں،ہمیں جہاں حق نہیں ملتاہم وہاں اپناحق چھین کےلیتےہیں،جہاں ہر شخص اپناحق ان کتوں کےدربارسےنہیں لےسکتاوہاں اگر کوئی طاقت ورجماعت ہمیں چھین کےحق دلائے یادلانےکی بات کرے،تو کچھ درباری ملا یا کچھ کافروں کےدرباری،یہ کہتےہوئےنظرآتےہیں،کہ وہ توصرف ایک فرقہ کی بات کرتاہے،وہ توصرف ایک جماعت کی بات کرتاہے،ارے او درباری ملا و درباری صاحب ایک ہی جماعت ہے جوپورےملک میں سب سےخستہ حالت میں ہےوہ ہےقوم مسلم، کبھی مسلمانوں نےاپنے حکمرانی کےدور میں کسی اغیار کوکسی بھی قسم کی ناحق نقصان نہیں پہونچایا،مگر آج ہرجگہ ہرگوشےمیں مسلم قوم مظلوم ہیں،یہاں پر عراق کےصدرصدام حسین کاقول یاد آرہاہے،ایک مرتبہ رات کےوقت شہیدصدام حسین اپنی صدارت کےزمانےمیں گشت کرتےکرتےباڈرکےقریب ایک گاؤں میں تشریف لےگئےتووہاں ایک شخص کی نظر صدر پہ پڑی وہ مارےخوشی کےصدرکےقریب آیا ہاتھوں کوبوسہ دیاسلام وکلام کیا،اتنےمیں تمام محلےوالوں تک یہ خبرپہونچ گئی کہ محلےمیں صدر صاحب تشریف لائےہیں،دیکھتےہی دیکھتےلوگوں کاجم غفیر لگ گیا، وہاں پرمیرے شہیدصدرصدام حسین نےایک تاریخی جملہ کہاتھا،کہ لوگو نیندکیسی آرہی ہے،تولوگوں نےجواب دیا بہت اچھی نیندسورہےہیں ہم، توصدرنےکہاتھا،کہ جب تک میں جگاہوں چین اورسکون کی نیندلےلوجب میں سوجاؤںگاتودنیاتمہیں سونےنہیں دےگی،اور آج وہی دیکھنےکومل رہاہےجب صدام حیات میں تھے ملک شام امن اور چین سےسورہاتھا، یمن خوشحال تھا،ظالم فلسطینیوں کےدل میں ڈرتھا،جو آج سوپرپاورامریکہ ہےوہ گھٹنےٹیک چکاتھا، پھرایک دن ایسا آیا کہ اپنےہی خیمےمیں جوغدارپل رہےتھے،وہ دشمن کی گودمیں جابیٹھےاور میرےصدام کوتخت پہ چڑھادیاگیا،تبھی سےمسلموں پر ظلم وستم کی حدوں کووسعت دی گئی،اور آج ہر ملک میں قوم مسلم ظلم وستم کاشکارہے،یاد رکھو ہم نے صدام کھویاہے،خدارا اب ان نائبین صدام نہیں کھونا،نہ وارث محمد بن قاسم رجب طیب اردگان کھوئیں گے،نہ ارتغل زماں وارث صلاح الدین ایوبی اسدالدین اویسی کھوئیں گے،اسی طرح اور بھی جتنےمرد مجاہدہےہم ان تمام ہیرےجواہرات کواکٹھاکرکےاپنےگلےکاہاربنالیں گے، اب یہی ہماری قوت ہے،یہی ہماری طاقت ہےیہی زباں والے ہیں،اب کوئی محمدبن قاسم، یاارتغل غازی، یا سلطان صلاح الدین ایوبی،یاعلاو الدین خلجی نہیں آنے والا،جوآپکی آہ وبکاسن سکے،اگرآئیں گےتوانہیں حضرات کی شکلوں میں آئیں گے،یاہمیں میں سےکوئی ارتغل غازی نکلےگا،ہمیں میں سےکوئی صلاح الدین کا لےکےتلوار اٹھےگا،ہمیں میں سےفلسطینیوں کی مددکوکوئی محمدبن قاسم نکلےگا،کب نکلےگاکیسےنکلےگا،محترم دوستو جب آپ اپنے آپ کواسلامی رنگ میں ڈھالیں گے،جب اپنےآپ کوسنتوں کاپیکر بنائیں گے،اللہ بھی مدد اسی وقت کرتاہےجب آپکی نیت اچھی ہو،جب نیت اچھی ہےتواللہ ورسول ہواوں کوآپکاحمایتی بنادےگا،ساری دنیاکوآپکی قدموں میں جھکادےگا!

ازقلم
واثق علی رشیدی عرفانی
تارباڑی پورنوی