کیاوہ کان ہی کان ہیں جوکسان ہیں؟مفتی ہمایوں اقبال ندوی

42

ارریہ(توصیف عالم مصوریہ)
انسانی اعضاء میں کان کی بڑی اہمیت ہےیہ کان سب کی سننتا ہے،اچھی بری ہر طرح کی بات کو برداشت بھی کرلیتا ہے، دو ست ودشمن میں کوئی تمیز نہیں کرتا ہے،تعریف گوش گزار ہے توتحقیر بھی بار بار ہے،کان خاموش رہتا ہے اور کسی سے کچھ بھی نہیں کہتا ہے،شاید یہی وجہ ہےکہ ادبا نے اسی کان کوآگے پیچھے گھما کربے شمار معنے نکال لئے ہیں،اورڈھیر سارے محاورے بنا لئے ہیں، مگرداد دیجئے کان کووہ اف بھی نہیں کرتا ہے۔یہ دیکھئیے کانوں سے کیا کیا معنی نکلتے ہیں:کبھی کان کو بھردیا ،اسی سے یہ مطلب نکال لیا کہ کسی کی چغلی ہوئی ہے،کان کو پکڑ لیا ،کسی کی گرفت ہوئی ہے،میاں کان کودھردیا، توایک انسان نےغور سے سن لیا ہے،بیچارےکان کواگرکاٹ لیا،تو کسی پر بازی اور سبقت لے گیا ہے، کان کھالیا،اس کا مطلب بکواس کیا ہے،اگرکان کھڑے کرلیا،تو ہشیار ہوگیا ہے، کان کھول کربتادیا ہے،کان میں پھونک کربدگوئی کی ہے،کان میں تیل ڈال کرکچھ بھی نہیں سنا ہے،نہ جانےکتنے مطالب کان سے نکال لیتے ہیں مگر ان کانوں پر جو بھی نہیں رینگتا ہے، پھر کان دباکر نکل لیتے ہیں ،حیرت ہے کہ اس شریف عضوانسانی کے ساتھ اتنی زیادتی کے بعد بھی کہتے ہیں کہ: کانوں کان خبر نہیں ہوئی ہے ۔
گویاانسانی شرافت کا مجموعہ انسان نہیں بلکہ ان کے دونوں کان ہی ہیں، یہی وجہ ہےکہ نہایت شریف اور کریم النفس انسان کولوگ سماج میں کان کہنے لگے ہیں،اس سے مقصود اس کی شرافت کی شہادت نہیں ہ ہے،بلکہ کہنے والوں کے ذہن میں ایک قسم کی شرارت ہوتی ہے، اوراس مکمل انسان کو صرف کان کہ کر دراصل اس کا مقصد مذاق اڑاناہے، تمسخر واستہزاء مقصود ہے، سامنے والے کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ یہ شخص نادان ہے اورلائق استعمال ایک انسان ہے، اس کااستعمال بھی کیا جاسکتا ہے اور استحصال بھی ! اس کی دلیل آسمانی آخری کتاب قرآن مجید میں بھی موجود ملتی ہے،مدینہ میں رہنے والی ایک خالص سیاسی جماعت جوقول وعمل میں متضاد تھی ،انہوں نے اس لفظ کا استعمال نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کیا ہے ،ارشاد خداوندی ہے:”اور بعضے ان میں بدگوئی کرتے ہیں نبی کی، اور کہتے ہیں کہ یہ شخص تو کان ہی کان ہیں، “(سورہ توبہ:61) جو منھ میں اسلام اور دل میں شیطان رکھتے ہیں ، مسلمان کو نقصان پہونچانے کا ہمیشہ پلان رکھتے ہیں، کوئی کہتا کہ یہ باتیں پیغمبر اسلام تک پہونچ جائیں گی، تویہ منافق لوگ کہتے ہیں کہ: کوئی پروا نہیں ہے، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو” کان ہی کان ہیں”، جو سننے ہیں فورا تسلیم کرلیتے ہیں،ہم ان کے سامنے جو تاویل کریں گے،وہ مان لیں گے، جو سبق پڑھائیں گے پڑھ لیں گے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں خوب جانتے اور پہچانتے تھے، مگر آپ اپنے اخلاق کریمانہ کی وجہ کر چشم پوشی کرتے، اور ان کے کان نہیں پکڑتے تھے،وطن عزیز میں بھی ایک ایسی جماعت وجود رکھتی ہے، جو خالص سیاسی ہے،اور مذہب کا چولا انہوں اوڑھ رکھا ہے، ان کے قول و فعل میں تضادہے، اور دل میں نفاق ہے،یہ لوگ منھ میں رام اور بغل میں چھری رکھتے ہیں، اور صرف اپنا مفاد ہرحال میں ضروری رکھتے ہیں، اپنے ملک کے پچہتر کروڑ کسان کو کان ہی کان کہتے، یہ ہم نہیں بلکہ خود اس ملک کے کسان کہتے ہیں، تینوں زرعی قوانین بنانا بھی کسان کو کان کہنا ہے، جس کی خبرجب کسانوں ہوئی تو اس کی تاویل کی جارہی ہے، اور کسی کسان کے حلق سے یہ تشریح نہیں اترپارہی ہے، وہ اس لئے بھی کہ ان کی کتھنی اور کرنی میں نمایاں فرق سامنے آگیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب کان بھی بولنے لگے ہیں، یہ سمجھنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے کہ جب ایک کان بولنے لگے ،تو اس کا مطلب قیامت ہی قیامت ہے،ان کی باتوں میں کتنا دم ہے،اس پر کان دھرنے کی ضرورت ہے،لوگ کہتے ہیں کہ بادشاہوں کے کان ہوتے ہیں، مگریہ کیسے شاہ ہیں جو کان نہیں رکھتے ہیں ،یہ کسان جواندرآتما کی آواز سننے والے لوگ ہیں، پورےملک کے میزبان ہیں،یہ وقت انکے کان مروڑنے کا نہیں ہے،اور نہ ان کی راہوں میں خار بچھانے کا وقت ہے،بلکہ ان کی بات واحتجاج پر کان کھڑے کرنے، اور کان لگانے کی ضرورت ہے،یہ کسان نادان اور لاعلم لوگ نہیں ہیں، موجودہ احتجاج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں کے بھی کان کترنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یہ اپنے کھیتوں سے نکل کر پورے ملک کی نمائندگی کرریے ہیں ،آج ان کسانوں نے یہ ثابت کردیا کہ ہم حکومت کی کان پکڑی باندی اور غلام نہیں ہیں، بلکہ ہم اس ملک کودوبارہ کمپنی کی غلامی سے بچانا چاہتے ہیں، ان زرعی قانون کے راستے پھر ہماری زمین ہی نہیں بلکہ ہمارا ملک بھی غلامی میں جارہا ہے،کان کھول کر سن لو یہ اعلان کررہے ہیں، یہی وقت ہے ہوش کے ناخن لینے کا،ہم نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی غلامی سے وطن عزیز کو آزاد کرایا ہے،اب سوال نہیں ہے کسی بھی کمپنی کی غلامی میں چلے جانے کا، یہ تحریک ایک جنگ ہے، اسےہم جیت کر دکھائیں گے، پھرواپس گھر جائیں گے،یہ کسان کہ رہے ہیں، جنہیں احمق لوگ کان ہی کان کہتے ہیں۔ جےجوان،جےکسان،
(سکریٹری جمعت علماء ہند،ضلع ارریہ)