کیاقرآن میں امینڈمینٹ ہواہے؟

60

انسان مخلوق ہے،زمین مخلوق ہے،آسمان مخلوق ہے، چاند مخلوق ہے،پوری کائنات مخلوق ہے،اور سب کا خالق اللہ رب العزت ہے۔ایک انسان کی مجال نہیں ہے کہ وہ خدا کی زمین جیسی زمین بنالے،خدا کے سورج جیسا سورج بنادے،خدا کے آسمان سمان آسمان پیدا کردے،چاند جیسا چاند بنادے۔انسان ان چیزوں کو بنا سکتا ہے اور نہ ہی سرے سےانہیں مٹا سکتا ہے،یہ توخالق کائنات کا کام ہے،مخلوق اسے انجام نہیں دے سکتی ہے ۔پھر انسان قرآن جیسی کتاب اور قرآنی آیات کیسے بناسکتا ہے؟ قرآن یہ تو مخلوق بھی نہیں ہے بلکہ خالق کا کلام ہے۔ ابھی سپریم کورٹ میں 26 آیات قرآنی کے تعلق سے ایک ملعون نے شخص نے درخواست دائر کی ہے کہ یہ قرآن نہیں ہے، اوریہ دعوی کیا ہے کہ دو تین اشخاص کی جانب سے قرآن میں داخل کردہ اضافہ ہے، ان کے ذریعہ سے قران میں امینڈمینٹ ہوا ہے۔اس کی دلیل بے تکی دی ہے، انمیں ایک دلیل یہ بھی ہے کہ قرآن ایک محبت کی کتاب ہے،ان آیات میں جہاد کی بات ہے، تقریر و تحریر کے ذریعہ اصحاب فکر ونظر نے بہت سارے جوابات لکھے ہیں، اوربہتوں نے اس جاہل لعنتی پرماتم بھی کیا ہے، مگراس کادنداں شکن جواب خود قرآن میں موجود ہےاوریہی جواب اول بھی ہےاور آخری بھی ہے، ہر لعنتی اور قرآن و قرآنی آیات کو غیر قرآن کہنے والوں کے لئے آج تک کافی بھی ہے،قران کریم نے ان جیسے لوگوں سےکہا ہے، جو یہ کہتا ہے کہ یہ قرآن نہیں ہے،بلکہ انسانی کلام ہے۔ اس انسان کو ان آیات جیسی آیتیں بناکر دکھانی ہوگی،اس کے لئے وہ کسی کی بھی مدد لے سکتا ہے اور کسی کو بھی بلاسکتا ہے، مدعو کرسکتا ہے ، اسے یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ تمام عرب کے ادباء شعرا دانشوران ومفکرین کا جماوڑا کرلے ، بلکہ سوائے خدا کے پوری دنیا سے تعاون حاصل کرنے کا وہ مجاز ہے، اگر وہ ان جیسی آیات بنالیتا ہے تو یہ بات مان لی جاسکتی ہے کہ ایک انسان کا کلام ہے اور امینڈ مینٹ ہوسکتا ہے، یہی دلیل ہوگی کہ یہ ایک انسان کا اضافہ ہےاور امیڈمینٹ ہے۔چنانچہ ارشادربانی ہے:”کیا لوگ کہتے ہیں کہ یہ بنالایا ہے تو کہہ دے تم لے آو ایک ہی سورت ایسی اور بلالوجس کو بلاسکو اللہ کے سوا آگر تم سچے ہو،(یونس:38)
اور اگر وہ آیتیں نہیں بنا سکتا ہے تو یہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ انسان کے بس کا کام نہیں ہے، یہ خالق کا کلام ہے جو مخلوق سے کبھی وجود پذیر نہیں ہوسکتا ہے۔
قرآن کریم نے اس پرچیلینج بھی کیا ہے کہ دنیا کے تمام انسان وجنات ایک ساتھ اکٹھا ہوکر قرآن جیسا کلام بنانے کی کوشش کرڈالیں توبھی وہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتے، اور قرآن جیسا کلام نہیں پیش کرسکتے،یہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے، ورنہ پوری دنیا میں انسان بستے ہیں، چودہ سو سال سے اب تک کوئی ایک آیت نہیں بناسکا ہے اور نہ قیامت تک کوئی بنا سکتا ہے،وہ ملعون بھی اگر اسے امینڈمینٹ اور اضافہ کہتا ہے جو انسان کی طرف سے ہوا ہے،تو اس دعوی کی دلیل کے طور پر اسے قرآن کی مذکورہ 26 آیتوں جیسی آیتیں بناکر پیش کرنا ہوگی،اور یہ ظاہر ہے کہ قیامت کی صبح تک یہ نہیں ہونے جارہا ہے ۔
تاریخ شاہد ہے کہ جو بھی قرآن کے خلاف کھڑا ہوا ہے،اس نے خدا سے جنگ مول لیا ہےاورخود کٹ کر مرگیا ہے۔رضوی بھی اپنی قبر اپنے ہاتھوں کھودچکا ہےاوراب تووہ خود سےخودکشی کی بات بھی کررہا ہے،جہنم پہونچنے کی اسے بڑی جلدی ہے۔جہاں تک قران کا معاملہ ہے تو اس کتاب کا دراصل “حافظ” خود خدا ہے۔خدائی نظام اورحفاظتِ قرآن پر دنیا آج بھی عش عش کر رہی ہے، یورپین مورخین اور دنیا کے کئی غیر مسلمین بھی قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے منھ سے نکلی ہوئی بعینہ کتاب کہتے رہے ہیں، اگرکوئی اسمیں اضافہ کی بات کرتاہےاور بعد میں جاکر امینڈمینٹ کا دعوی کرتا ہے تو اسے دنیا آج بھی ابوجہل واجہل کہنے کے لئے آمادہ اور تیار ہے۔خواہ وہ اپنے وقت کاابوالحکم ہی کیوں نہ ہو ،اس لئے بھی کہ قرآن کی حفاظت کا نظام انوکھا نادر اور نرالا ہے، یہ حفاظت خاص دنیا کی کسی بھی کتاب کو حاصل نہیں ہوئی ہے۔
نزول قرآن سے ہی حفاظت قرآن کا خدائی نظام شروع ہوگیا ہے، کاتبین کی جماعت کھڑی ہوگئی ہے،انہوں نے کتابت کے ذریعے رسم الخط تک کی حفاظت کی ہے،قاریوں کی جماعت کھڑی ہوئی ہے،وحی کے نزول سے ہی قرآن کے طرز ادا کی بھی حفاظت کی ہے، حافظوں کی جماعت کھڑی ہوئی ہے،انہوں نےالفاظ وعبارت کی حفاظت کی ہے۔ اب تک زیر وزبر کا بھی فرق نہیں آسکا ہے،کسی نے قران کریم کے اندر کل رکوع کو شمار کیا ہے، کسی نے پورے قرآن کی آیتیں گن لی ہے، کسی نے قران میں کل حروف کتنے ہیں؟ انہیں بھی محفوظ کرلیاہے، توکسی نے ایک ایک اعراب اور ایک ایک نقطہ بھی شمار کرلیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےزمانہ سے آج تک کوئی وقت بلکہ کوئی لمحہ ایسا نہیں گذرا ہےجسمیں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں حفاظ قرآن موجود نہ ہوں۔کوئی بڑے سے بڑا قاری بھی اگر ایک آیت کو چھوڑ کر آگے پڑھا ہے تو ایک چھوٹا بچہ بھی اسے ٹوک اورروک دیا ہے، اس کی مجال نہیں ہیکہ وہ ایک آیت کو چھوڑ کر آگے بڑھ جائے اوراپنی قرات اسکے بدون تمام کرلے۔ بھول چوک میں کسی نےزبر کی جگہ زیراورزیرکی جگہ زبرکردیا ہے تو ایک ہنگامہ بپا ہوگیا ہے، ہرطرف سے للکار کا سامنا اسے ہوا ہے۔یہ ہے حفاظت قران اور اس کا خدائی نظام۔آقائے مدنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی صاحب قرآن نے یہ کہا ہے،ارشاد ربانی ہے:نہ چلا ان کے پڑھنے پر اپنی زبان تاکہ جلدی سے اس کو سیکھ لے،وہ تو ہماراذمہ ہےاس کو جمع رکھنا تیرے سینہ میں اور پڑھنا تیری زبان سے (سورة القيامة:١٧ )شان نزول اس آیت کی یہ ہے کہ جس وقت حضرت جبریل علیہ السلام اللہ کی طرف سے قرآن لیکر آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ ساتھ پڑھتے جاتے،تاکہ جلد اسے یاد کرلیں اور سیکھ لیں، مبادا جبریل چلے جائیں اور وحی پوری طرح محفوظ نہ ہو سکے۔اس پر اللہ تعالی نے فرمایا کہ اس وقت پڑھنے اور زبان ہلانے کی حاجت نہیں ہمہ تن متوجہ ہوکر سننا ہی چاہئے، یہ فکر مت کیجئے کہ یاد نہیں رہیگا۔پھر کیسے پڑھوںگااور لوگوں کو کس طرح سناؤں گا،اس کا آپ کے سینے میں حرف بحرف جمع کردینا اور آپ کی زبان سے پڑھوانا ہمارے ذمہ ہے۔دوسری جگہ قرآن میں اعلان ہے:ہم نے آپ پر اتاری ہے یہ نصیحت اور ہم آپ اس کے نگہبان ہیں، (حجر:9)
اسوقت وطن عزیز میں اس ناپاک ملعون کے اس ناپاک کام پر غم وغصہ ہے،مگر خوشی اس بات کی ہےکہ ہر ایمان والا خدائی نظام پر مکمل بھروسہ رکھتا ہے،
قرآن یہ زندہ وجاوید معجزہ بھی ہے،یہ دستور حیات ہے، ہر زمانہ میں انسانوں کی دستگیری کرتا ہے۔آج کے پیش آمدہ واقعہ کے تناظر میں قرآن کے مطالعہ سےیہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ وقت بہت قیمتی ہےاور قرآن کریم کی حقانیت عام ہونے جارہی ہے،آور اس کے پس پردہ ایک بڑی جماعت بھی جنکا شر اور جنکی شرارت خدائی طاقت سے زیروزبرہوجانےوالی ہے،ارشاد ربانی ہے:”بات یہ ہےکہ جھٹلانے لگے جس کے سمجھنے پر انہوں نے قابو نہ پایا، اورابھی آئی نہیں اس کی حقیقت، اسی طرح جھٹلاتے رہے ان سے اگلے سو دیکھ لے کیسا ہوا انجام گنہگاروں کااور بعضے ان میں یقین کریں گے قرآن کا اور بعضے یقین نہ کرینگے اور تیرا رب خوب جانتا ہے شرارت کرنے والوں کو”(سورہ یونس:38_40)
قران پیشن گوئی کررہا ہے کہ یہ ملعون یا اس جیسا کوئی بھی ملعون جب اس طرح کی بات کرتا ہے تو اسلام اور قرآن کی جیت بھی ہوئی ہے اور تبلیغ بھی!
آج ملک کی عدالت عالیہ میں قرآن پڑھا جارہا ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان میں بہت سے لوگ مسلمان ہونے والے ہیں، اور جو شرارت کرتا ہے اللہ اس سے نمٹ لیتا ہے ۔

ہمایوں اقبال ندوی ندوی، ارریہ
رابطہ، 9973722710