کیا؟ کاشی متھرا ابھی باقی ہے

54

از۔محمدقمرانجم قادری فیضی انڈیا کی سپریم کورٹ نے گذشتہ برس نومبر میں اترپردیش کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد اور رام مندر کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین پر مندر کی تعمیر اور مسلمانوں کو مسجد کے لیے متبادل جگہ دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسجد منہدم کرنا ایک مجرمانہ فعل تھا۔
لیکن دوسری جانب بابری مسجد انہدام کیس میں انڈیا کے شہر لکھنؤ کی ایک خصوصی عدالت نے 30 ستمبر کو اس کیس کے تمام ملزموں کو بری کر دیا ہے۔
خصوصی عدالت کے جج ایس کے یادو کا اپنے فیصلے میں کہنا تھا کہ 28 برس قبل بابری مسجد کا انہدام کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نہیں کیا گیا تھا اور اس میں نامزد ملزمان کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد نہیں ملے
ہیں، لہذا تمام ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔یہ انڈیا کی ہندو مسلمان مشترکہ تاریخ میں ایک ایسا مرحلہ ہے جب ماہرین کے خیال میں ملک اپنی سیکولر حکمت عملی سے ہٹ کر تیزی سے ہندوتوا کی طرف بڑھ رہا ہے۔مذہب کی بنیاد پر شدت پسند عناصر کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف تشدد کے کئی واقعات پیش آئے ہیں جن کو سیاسی رہنماؤں نے لگام کسنے کے بجائے نظرانداز کیا ہے۔
ملک میں مسلمانوں كے خلاف نفرت انگیز بیانیہ عام بات ہوتی جا رہی ہے۔ دوسری جانب پارلیمان میں بھی مسلم نمائندگی ملکی تاریخ میں کم ترین سطح پر ہے۔ جبکہ حکومت شہریت کا ایک ایسا قانون لانا چاہتی ہے جسے ماہرین ‘غیرآئینی ‘اور ‘مسلمانوں سے تعصب پر مبنی’ قرار دیتے ہیں۔
‘گیتا پریس اینڈ دی میکنگ آف ہندو انڈیا’ کے مصننف اکشے مکل موجودہ صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وہ عام طور پر امید کا ساتھ نہیں چھوڑتے لیکن ان کے لیے یہ فیصلہ افسوس ناک ہے۔’یہ فیصلہ مسلمانوں کو پوری طرح سے ہار کا احساس دے گا۔ اور آخر وہ کس سہارے، کس بھروسے رہیں گے۔اکشے مکل کہتے ہیں کہ ‘اس بات سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ انڈیا میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، ہم بہت تیزی سے ایسے حالات کی طرف گامزن ہیں۔’انڈیا کے مسلمان اس بات پر ذہنی طور پر سمجھوتا کر چکے تھے کہ ایودھیا میں مسجد کو دوبارہ بنانے کی کوئی صورت نہیں ہے اور اگر مندر بننے سے ہندو مسلم تعلقات میں بہتری آ جائے تو موجودہ ملکی حالات میں مسلمانوں کے لیے یہ راحت کی بات ہوگی۔
اس ضمن میں بابری مسجد کے مقدمے میں مدعی اقبال انصاری نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ‘اچھا ہوا یہ سب ختم ہوا۔’لیکن انڈیا کی عوام خصوصاً مسلم اقلیت کو یہ بھی توقع تھی کہ آخرکار یہ معاملہ یہیں ختم ہو جائے گا، گنہگاروں کو سزا ملے گی اور ایودھیا کے طرز پر دوسری مساجد اور مذہبی مقامات کو توڑنے کے مطالبے دوربارہ سے نہیں ہوں گے۔لیکن اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ انڈیا میں ایک اہم مثال بن سکتا ہے خاص طور پر متھرا اور واراناسی کی دو اہم مساجد کے لیے۔ جہاں متھرا میں شاہی عید گاہ مسجد اور کرشن جنم بھومی مندر ایک ساتھ ہیں۔ اور ہندو برادری اس جگہ کو دیوتا کرشن کی جائے پیدائش مانتے ہیں۔اور دوسری طرف واراناسی میں گیان واپی مسجد اور کاشی وشوناتھ مندر۔
رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے اپنی پارٹی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بابری مسجد انہدام کیس میں عدالتی فیصلے پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ‘آج آپ لوگوں نے بابری مسجد كے گرائے جانے میں ملوث افراد کو مقدمے سے بری کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ چلو آگے بڑھو، کاشی متھورا پر جو چاہو کرو، ہم تمھیں کلین چٹ دیتے جائیں گے، جہاں تمھارے آستھا کا معاملہ آئے گا ہم اس پر تمھاری مدد کرتے جائیں گے۔’یاد رہے کہ اس مقدمے کے ملزمان میں برسرِاقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے شریک بانی اور سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی، سابق مرکزی وزرا مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی اور اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ سمیت کئی سینیئر سیاستدان شامل تھے۔
بابری مسجد کی انہدام سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی کے اہم رہنما ایل کے اڈوانی اور وزیر اعظم نریندر مودی سمیت دیگر رہنماؤں اور ان کی نظریاتی تنظیم آر ایس ایس كے کارکنان نے ایک رتھ یاترا نکالی تھی۔اس یاترا نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو سیاسی منظر نامے پر ابھرنے اور تقویت بخشنے میں تو ضرور مدد کی تھی لیکن ساتھ ہی یہ یاترا فسادات کا باعث بنی تھی۔ ان فسادات میں کم از کم 2000 لوگ ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔
اس زمانے میں ہندو اکثریت پسندوں کا نعرہ تھا ‘ایودھیا تو صرف جھانکی ہے، کاشی (وارانسی) متھرا ابھی باقی ہیں۔
اگرچہ چند عناصر اب بھی متھرا اور وارانسی کی مساجد کو بھی توڑنے کی بات کرتے ہیں تاہم بابری مسجد کیس کے نومبر 2019 کے فیصلے كے بعد آر ایس ایس نے متھرا اور کاشی کے معاملے پر اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے۔
یہ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا، یہ کیا شکل اختیار کر سکتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے ہندو اکثریت پسندوں کا ماننا ہے کی انڈیا میں ایسی 2000 سے زیادہ مساجد ہیں جنھیں مندر توڑ کر بنایا گیا ہے۔لیکن یہ معاملہ انڈیا كے ماضی کی بحث سے باہر نکل کر آج كی سیاست کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔آج كے بحث مباحثوں میں 1947ء کا قانون جو كہ مذہبی ڈھانچوں کو اس وقت كے حساب سے بیان کرتا ہے، ثانوی چیز بنتا جا رہا ہے۔یہ وہ معاملہ ہے جس کی پورے ملک کے مسلمان اور سیکولر افراد نے حمایت کی تھی۔ لیکن ماہرین کے مطابق پھر ایک بھی شخص قصوروار نہ پایا جانا مسلمانوں اور معاشرے كے دوسرے کمزور فرقوں كے مستقبل کے لیے ایک تشویش ناک بات ہے۔
اکشے مکل کہتے ہیں کہ ‘یہ فیصلہ اس طرح کے خیالات رکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرے گا۔’
ان کا کہنا ہے کہ اگر بابری مسجد اور اس کے انہدام کے بعد کے واقعات کے حوالے سے بات کریں تو دو افراد، پانچ ہوں یا 200 افراد، اس سے اب کچھ فرق نہیں پڑتا، ہم نے دنیا کو ایک ریڈی میڈ ماڈل دے دیا ہے۔اگر ہم 30 ستمبر کے فیصلے كے بات کریں تو اس میں 850 سے زیادہ گواہوں کو پیش کیا گیا، سینکڑوں دستاویزات اور تصاویر بھی عدالت کے سامنے رکھی گئیں لیکن اس کے باوجود ایک بھی ملزم کو قصور وار نہیں پایا گیا۔عدالت نے فیصلے سے پہلے دونوں فریقین کی دلیلوں پر ضرور باریکی سے غور کیا ہوگا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کی مسجد منہدم ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایک بھی شخص کا قصوروار نہ پایا جانا مسلمانوں اور معاشرے كے دوسرے کمزور فرقوں كے مستقبل کے لیے ایک تشویش ناک بات ہے۔اکشے مکل کہتے ہیں کہ اس فیصلے سے ‘ قانون شہادت کو یکسر الٹا کر دیا گیا ہے۔’
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ جو کہ اس کیس میں ایک مدعی ہے کے وکیل ظفریاب جیلانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘پولیس افسر، سرکاری عہدیدار اور سینئر صحافی موجود تھے جو بطور گواہ پیش ہوئے۔ ان کی گواہی کا کیا ہو گا؟ عدالت کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ آیا یہ عینی شاہدین جھوٹ بول رہے ہیں۔
انڈیا کی تاریخ میں 30 ستمبر کا دن ہمیشہ کے لیے درج ہو گیا ہے کیونکہ اس دن لکھنؤ کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے بابری مسجد انہدام کیس کے تمام ملزمان کو شواہد کی کمی کی بنیاد پر بری کر دیا اور اس کے فیصلے میں یہ تسلیم کیا گیا کہ مسجد کو منہدم کرنے کی کوئی سازش نہیں ہوئی تھی۔
عدالت کے اس فیصلے پر بہت سارے رد عمل آئے تاہم اس فیصلے کے ساتھ ملک میں کئی دہائیوں سے جاری مسجد مندر تنازع ختم ہوتا دکھائی دے رہا تھا لیکن اسی روز یعنی 30 ستمبر کو ہی اترپردیش کی ایک دوسری عدالت میں متھورا کی شاہی عیدگاہ مسجد کا تنازع اٹھایا گیا۔
‘ابھی کاشی متھورا باقی ہے’
رام جنم بھومی معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اتنا واضح ہو گیا ہے کہ اب انڈیا میں کسی اور مذہبی مقام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہو سکتی ہے۔
انڈیا کی سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلے میں سنہ 1991 کے پلیسز آف ورشپ ایکٹ (عبادت گاہوں کے قانون) کا حوالہ دیا ہے۔لیکن رام جنم بھومی معاملے میں فیصلہ آنے کے باوجود ایک بار پھر سے ‘کاشی متھورا باقی ہے’ کا نعرہ بلند کیا جا رہا ہے۔شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر کے صدر مہنت نرتیہ گوپال داس نے 11 اگست کو متھورا میں کہا تھا کہ ایودھیا کے بعد اب متھورا کا نمبر ہے۔اسی دوران دیوموراری باپو نے بھی کہا:مندر بنانے کے لیے مسجد کو ہٹانا پڑے گا۔پولیس نے دیو موراری باپو کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے پر مقدمہ درج کیا ہے۔لیکن گذشتہ دنوں متھورا میں مساجد کو ہٹائے جانے کا مطالبہ جو صرف زبانی ہوا کرتا تھا وہ اب بیانات تک محدود نہ رہ کر عدالت پہنچ چکا ہے۔
رنجنا اگنی ہوتری، وشنو شنکر جین، ہریشنکر جین اور تین دیگر افراد نے متھورا کی ایک عدالت میں دیوانی مقدمہ دائر کیا۔عدالت میں درخواست گزاروں نے اس معاملے میں شاہی عیدگاہ والی مسجد کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس اراضی پر شاہی عیدگاہ کی مسجد تعمیر ہے، اس کے نیچے کرشن جنم بھومی ہے یعنی ہندوؤں کے بھگوان کرشن کی جائے پیدائش ہے۔اسی معاملے میں بھی یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ مسلم حملہ آوروں نے مندر توڑ کر مسجد تعمیر کرائی تھی۔ اس معاملے میں مغل بادشاہ اورنگزیب کا نام لیا جا رہا ہے کہ انھوں نے مجسد تعمیر کروائی۔
لیکن عدالت نے یہ کہتے ہوئے اس کیس کو منسوخ کر دیا کہ یہ قابل سماعت نہیں۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے سنہ 1991 میں منظور کیے جانے والے مقامات عبادت کے قانون کا بھی حوالہ دیا۔آخر یہ قانون کیا ہے؟
سنہ 1991ءمیں وزیراعظم نرسمہا راؤ کی قیادت والی کانگریس حکومت نے عبادت کے مقامات کے متعلق (خصوصی دفعات) کا قانون منظور کیا۔
اس قانون میں کہا گیا ہے کہ انڈیا میں 15 اگست 1947ء کو جو مذہبی مقام جس شکل میں تھا وہ اسی حیثیت میں رہے گا۔ اس معاملے میں ایودھیا تنازع کو استثنیٰ حاصل تھا۔لیکن اس قانون کا اطلاق بنارس کی گیان واپی مسجد اور متھورا کی شاہی مسجد سمیت ملک کے تمام مذہبی مقامات پر ہے۔اس قانون کے سیکشن (3)) میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص یا گروہ کسی مذہب یا اس کے کسی فرقے کی عبادت گاہ کو اسی مذہب کے کسی دوسرے فرقے یا کسی دوسرے مذہب یا اس کے کسی فرقے کی عبادت گاہ میں تبدیل نہیں کرے گا۔اس قانون کے سیکشن 4 میں لکھا ہے:یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ 15 اگست 1947ءکو موجود عبادت گاہ کی مذہبی شکل ویسے ہی رہے گی جیسی کہ وہ اس دن موجود تھی۔’
اسی قانون کے سیکشن 4 (2) میں درج ہے:اس ایکٹ کے نفاذ کے بعد اگر 15 اگست 1947 کو کسی عبادت گاہ کی مذہبی نوعیت کی تبدیلی سے متعلق کوئی مقدمہ، اپیل یا کوئی اور کارروائی کسی عدالت، ٹریبونل یا اتھارٹی میں پہلے سے زیر التوا ہے تو وہ منسوخ ہو جائے گی۔ اور اس طرح کے معاملے میں کوئی مقدمہ، اپیل، یا دیگر کارروائی کسی عدالت، ٹریبونل یا اتھارٹی کے سامنے یا اس کے بعد نہیں ہوگی۔ وارانسی (بنارس) کے کاشی وشوناتھ مندر اور گیاہے واپی مسجد پر بھی تنازع جاری ہے لیکن مقامی مسلم کمیونٹی ‘مقامات عبادت ایکٹ’ اور سکیورٹی کے انتظامات سے مطمئن نظر آتی ہےگیان واپی مسجد تحفظ کمیٹی کے جنرل سکریٹری ایس ایم یاسین نے بی بی سی سے اس بارے میں بات کی۔انھوں نے کہا: ‘یہ سچ ہے کہ یہ نعرے لگائے جارہے ہیں اور نعرے پہلے بھی استعمال کئے جاتے تھے۔ لیکن بنارس کے بارے میں کچھ اور بات ہے۔ یہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین بہت اتحاد ہے۔ جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جو بھی عبادت گاہیں 15 اگست 1947 کو جس صورتحال میں تھیں وہ اسی حالت میں رہیں گی۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دعویٰ تو گیان واپی مسجد پر بھی ہے اور اس طرح کی مزید کوششیں جاری رہیں کیونکہ کچھ عناصر کی سیاست انھی مسائل پر چلتی ہے۔’
بابری مسجد کے انہدام کے معاملے میں عدالت نے سب کو بری کردیا ہے لیکن فیصلہ آنے سے پہلے ہی لوگ کھل کر یہ کہہ رہے تھے کہ انھوں نے جو بھی کیا وہ رام کے لیے کیا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا کرشن جنم بھومی کے لیے بھی حکومتیں شرپسند عناصر کو وہ سب کرنے دیں گی جو انھوں نے بابری مسجد کے ساتھ کیا تھا۔یا حکومت گیان واپی مسجد اور شاہی عیدگاہ والی مسجد کا دفاع اسی طرح کرے گی جس طرح ایس ایم یاسین مستقبل کے بارے میں پراعتماد نظر آتے ہیں۔واضح طور پر اس حقیقت کو تقویت ملتی ہے کہ مرکزی حکومت کا لالچ دینے کا ہتھکنڈا اچھی طرح کامیاب ہوا ہے۔ سی بی آئی کے خصوصی عدالت کے جج سریندر کمار یادو حکومت کی طرف سے اعلی اعزازات کے لالچ میں آسانی سے آگئے ہیں۔سنگھ پریوار نے محتاط منصوبہ بندی کے ذریعے آہستہ آہستہ جمہوریت کو مٹا دیا ہے اور اپنی تمام غیر قانونی اور جمہوریت مخالف سرگرمیوں اور ان سرگرمیوں کی حمایت کرنے کیلئے سنگھی نواز بیوروکریسی اور عدلیہ کا ایک مضبوط نیٹ ورک تیار کیا ہےلہذا ایسےنازک حالت میں عوام کو چاہئے کہ وہ خاموشی کے ساتھ سسٹم کے ذریعہ ہونے والی ناانصافیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے بیدار ہوجائیں، لڑیں اور فاشزم کو شکست دیں۔ تاکہ تنوع کا ملک قائم رہ سکے اور آئندہ نسلیں امن اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گذار سکیں،