کھانے اور پینے کے وقت کیا کہنا چائیے ایک تحقیقی جائزہ

93

کھانے اور پینے کے وقت کیا کہنا چائیے ایک تحقیقی جائزہ
ازقلم: محمد مصطفے کعبی ازہری
فاضل: الازہر اسلامک یونیورسٹی مصر عربیہ
نظر ثانی: دکتور عبدالباری فتح اللہ مدنی
ناظم اعلیٰ: جامعہ اسلامیہ دریاباد،دودھارا، سنت کبیر نگر، یوپی، ہند
شیخ الحدیث:  جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية بالرياض
محدث العصر غلام مصطفے ظہیر امن پوری
مدیر: ماہنامہ السنۃ ،جہلم، پاکستان
(1) – عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ : كُنْتُ غُلَامًا فِي حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصَّحْفَةِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : (( يَا غُلَامُ، سَمِّ اللَّهَ، وَكُلْ بِيَمِينِكَ، وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ، فَمَا زَالَتْ تِلْكَ طِعْمَتِي بَعْدُ)) .
*ترجمہ:* حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ، انہوں نے بیان کیا کہ میں بچہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش میں تھا اور (کھاتے وقت) میرا ہاتھ برتن میں چاروں طرف گھوما کرتا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : “کہ بیٹے! *بِسْمِ اللَّهِ پڑھ لیا کرو* ، داہنے ہاتھ سے کھایا کرو اور برتن میں وہاں سے کھایا کرو جو جگہ تجھ سے نزدیک ہو۔ چنانچہ اس کے بعد میں ہمیشہ اسی ہدایت کے مطابق کھاتا رہا۔
[ *صحیح : رواہ البخاری : 5376 ، ومسلم :2022* ]
*(2)* – عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : (( كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا لَمْ نَضَعْ أَيْدِيَنَا، حَتَّى يَبْدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَضَعَ يَدَهُ، وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَهُ مَرَّةً طَعَامًا، فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّهَا تُدْفَعُ، فَذَهَبَتْ لِتَضَعَ يَدَهَا فِي الطَّعَامِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهَا، ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ أَنْ لَا يُذْكَرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ جَاءَ بِهَذِهِ الْجَارِيَةِ لِيَسْتَحِلَّ بِهَا، فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا، فَجَاءَ بِهَذَا الْأَعْرَابِيِّ لِيَسْتَحِلَّ بِهِ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ يَدَهُ فِي يَدِي مَعَ يَدِهَا ))۔
*ترجمہ:* حضرت خذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے تو اپنے ہاتھ نہ ڈالتے جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم شروع نہ کرتے اور ہاتھ نہ ڈالتے۔ ایک بار ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے پر موجود تھے، ایک لڑکی آئی دوڑتی ہوئی جیسے کوئی اس کو ہانک رہا ہے اور اس نے اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، پھر ایک گنوار دوڑتا ہوا آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ تھام لیا، پھر فرمایا: ”شیطان اس کھانے پر قدرت رکھتا ہے جس پر اللہ کا نام( *بِسْمِ اللَّهِ* ) نہ لیا جائے اور وہ ایک لڑکی کو لایا اس کھانے پر قدرت حاصل کرنے کو۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، پھر اس گنوار کو لایا اسی غرض سے، میں نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا۔ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ شیطان کا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہے اس لڑکی کے ہاتھ کے ساتھ”.
[ *صحيح : رواہ مسلم :2017 ، وسنن أبي داوود:3766* ]
*(3)* – عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ” إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ، فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ، وَعِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ : لَا مَبِيتَ لَكُمْ، وَلَا عَشَاءَ. وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ : أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ. وَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ، قَالَ : أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ “.
*ترجمہ:* حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر میں داخل ہوتے اور کھانا شروع کرتے وقت *بسم اللّہ* کہتا ہے تو شیطان کہتا ہے: نہ یہاں تمہارے لیے سونے کی کوئی جگہ رہی، اور نہ کھانے کی کوئی چیز رہی، اور جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ *بِسْمِ اللَّهِ* نہیں کہتا تو شیطان کہتا ہے: چلو تمہیں سونے کا ٹھکانہ مل گیا، اور جب کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے: تمہیں سونے کی جگہ اور کھانا دونوں مل گیا ” .
[ *صحیح : رواہ مسلم :2018،وسنن أبي داوود:3765، وسنن ابن ماجه :3887، ومسند الإمام أحمد:15208* ]
*فائدہ:* اس حدیث معلوم ہوا جب کوئی انسان اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر میں داخل ہوتے اور کھانا شروع کرتے وقت *بِسْمِ اللَّهِ* کہے تو شیطان (اپنے چیلوں سے) کہتا ہے: نہ یہاں تمہارے لیے سونے کی کوئی جگہ رہی، اور نہ کھانے کی کوئی چیز رہی ، *تو ہر آدمی کو چائیے کہ جب اپنے گھر داخل ہو تو داخل ہوتے اور کھانا کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیے یعنی ( *بِسْمِ اللَّهِ* ) کہے.
❃ اور کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت *بِسْمِ اللَّهِ* نہیں کرتا تو شیطان کہتا ہے: چلو تمہیں سونے کا ٹھکانہ مل گیا، جب کسی شخص کے گھر میں شیطان داخل اور ٹھکانہ بنالے *تو ہر شخص کے اوپر ضروری ہے کہ گھر میں داخل ہوتے وقت *بِسْمِ اللَّهِ* کہے کیونکہ *بِسْمِ اللَّهِ* کہنے سے گھر میں شیطان داخل نہیں ہوتا ہے*-
❃ اور جب کھانا شروع کرتے وقت *بِسْمِ اللَّهِ* نہیں کہتا ہے تو شیطان کہتا ہے: تمہیں سونے کی جگہ اور کھانا دونوں مل گیا، جب کھانا شروع کرتے وقت *بِسْمِ اللَّهِ* نہیں کہتا ہے تو شیطان کو گھر میں سونے اور کھانا کو مل جاتا ہے *اس لئے مسلمانوں کو چائیے کہ کھانا شروع کرتے وقت(بِسْمِ اللَّهِ)کہے تاکہ شیطان آپ کے گھروں میں نہ سو پائے اور نہ ہی کھانا کھاپائے*-
*(4)* – عَنْ وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَأْكُلُ وَلَا نَشْبَعُ. قَالَ : (( فَلَعَلَّكُمْ تَفْتَرِقُونَ ؟ . قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : (( فَاجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ )).
*ترجمہ:* حضرت وحشی بن حرب حبشی حمصی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کھانا کھاتے ہیں لیکن پیٹ نہیں بھرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تم لوگ الگ الگ کھاتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” تم لوگ مل کر اور *بسم اللہ* کر کے (اللہ کا نام لے کر) کھاؤ، تمہارے کھانے میں برکت ہو گی “.
[ *إسناده حسن : رواه سنن أبي داود:3764* ]
*(5)* – عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : (( إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى، فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى فِي أَوَّلِهِ فَلْيَقُلْ : بِاسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ )).
*ترجمہ:* حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھائے تو اللہ کا نام لے، اگر شروع میں (اللہ کا نام) *بسم اللہ* بھول جائے تو اسے یوں کہنا چاہیئے ” *بسم الله أوله وآخره* “.
[ *إسناده صحيح : رواه سنن أبي داود :3767*]
*(6)* – عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : (( إِنَّ اللَّهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأَكْلَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا، أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا )).
*ترجمہ:* حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ راضی ہوتا ہے بندہ جب وہ کھانا کھا کر الحمد للہ یا پی کر الحمد للہ کہے ” –
*فائدہ:* اس حدیث معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے ہر ایک انسان سے جب وہ کھانے اور پینے کے بعد الحمد للہ کہے، دن اور رات میں کسی بھی وقت کھانے اور پینے کے بعد *الحمد للہ* کہا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ تعالی الحمد للہ کہنے کی وجہ سے اپنے بندوں سے راضی ہوتا ہے۔
[ *صحیح : رواہ مسلم :2734* ]
*(7)* – عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : (( مَنْ أَكَلَ طَعَامًا ثُمَّ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ ؛ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ )).
*ترجمہ:* حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کھانا کھایا پھر یہ دعا پڑھی :*الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّة*ٍ ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور بغیر میری طاقت و قوت کے مجھے یہ عنایت فرمایا : ” *تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے* ” .
[ *إسناده صحيح : رواه سنن أبي داود 4023* ]
*فائدہ:* اس حدیث معلوم ہوا کہ جو کھانا کھانے کے بعد یہ دعا پڑھے : ” *الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّة*ٍ ” ۔ تو اللہ رب العالمین دعا پڑھنے والا شخص کا اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ معاف کر دیتے ہیں –
*(8)* – عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ مَائِدَتَهُ قَالَ : (( الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا )).
*ترجمہ:* حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے رویت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے جب (کھانے کا)دسترخوان اٹھایا جاتا تو آپ یہ دعا پڑھتے: *الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا* ” ہر قسم کی کثیر ، عمدہ ، مبارک، بے شمار اور بے انتہا تعریفیں اللہ ہی کےلئے ہیں ، اور اےہمارےرب ! تیری تعریفوں سے کوئی مستغنی نہیں ” .
[ *صحیح : رواہ البخاری: 5458* ]
*خلاصہ کلام:* ہر شخص کے اوپر ضروری ہے کہ کھاتے اور پیتے وقت *بِسْمِ اللَّهِ* کہے ، اور اگر کوئی شخص کھاتے اور پیتے وقت *بِسْمِ اللَّهِ* کہنا بھول جائے تو یہ دعا پڑھے : ” *بِاسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ* ” ۔ رواه صحيح أبي داود :(3767) اور اگر کوئی شخص کھانا کھاتے اور پیتے وقت : ( *بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ*) کہے تو یہ فعل بدعت ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کھانا کھاتے اور پیتے وقت (*بِسْمِ اللَّهِ*) کہنا ہی ثابت ہے – اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ” *أَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّ‌سول*َ “۔ *ترجمہ:* ” اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو”. [ سورة النساء : 59] – اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” *مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ* “- ترجمہ:* جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی”. [رواه البخاري:7137]. اگر مسلمان اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی اطاعت کرتا ہے تو چائیے کہ جو چیز سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے جن الفاظ کے ساتھ جنتا ہی ثابت ہے ہم اتناہی کہا کرے جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے کھاتے اور پیتے وقت (*بِسْمِ اللَّهِ*) کہنا ثابت ہے ہم صرف (*بِسْمِ اللَّهِ*) کہے کیونکہ ہر وہ عمل قابل قبول جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سنت سے ثابت ہو ورنہ مردود ہے ۔ جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( *مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ* ) – *ترجمہ:* “جس نے ہمارے حکم میں ایسی بات نکالی جو اس میں موجود نہیں تو وہ مردود ہے”۔ رواہ صحیح بخاری (2697) صحیح مسلم (17/ 1718)۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( *مَنْ أَحْدَثَ فِی دِینِنَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ * ) – *ترجمہ:* ” جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی بات نکالی جو اس میں موجود نہیں تو وہ مردود ہے ” – رواہ جزء من حدیث لوین: 69 وسندہ صحیح، شرح السنۃ للبغوی: 103، وسندہ حسن.
اخوکم فی اللہ
محمد مصطفے کعبی ازہری
فاضل الازہر اسلامک یونیورسٹی مصر

*٢١ ذوالحجة 1441 ھ*
*١١ اگست 2020 م*
*دن : منگل*
✍🏾📚📖📖📚✍🏾
———————————–