کچھ خواب جو دل میں سجا ئے ہوئے ہیں

60

از قلم :۔شیبا کوثر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ہوگا ؟کون جیتے گا ؟ کس کی سرکار بنے گی ؟ ابھی بہار میں ہر جگہ یہی موضوع بحث ہے کچھ تو بالکل یقین کے ساتھ بات کرتے ہیں گویا وہ سیاسی پنڈت ہیں کچھ لوگ غیر یقینی سی کیفیت سے دوچار ہیں اور کچھ بولنے سے کترا تے ہیں بہار کے عام ووٹر س کا یہی حال ہے لیکن کچھ چیزیں جو سامنے نظر آ رہی ہیں وہ تو سچ مچ حیران کرنے والی ہیں اور جس کی امید اچھے اچھو ں کو نہیں تھی تیجسوی پرسا د یادو کی ریلیو ں میں بھیڑ کا اکھٹا ہونا اور ان کی ریلیو ں میں نوجوانوں کا جوش سے بھرا ہونا جسکی امید شاید انہیں بھی نہیں ہوگی ۔کیونکہ چند دنوں پہلے نیتش کمار صاحب کی پوزیشن ابھی سے بہت بہتر نظر آرہی ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ بھیڑ صرف بھیڑ بن کر رہ جائے گی یا تیجسوی پرسا د یادو اس کو اپنے حق میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں ؟یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔لیکن ایک بات تو ہے کہ بہار کا الیکشن وقت اور حالات کے مطابق جو سچا ئی ہے اس کو اہمیت دینے میں کامیاب ہوتا نظر آرہا ہے جیسے یہاں پر ابھی جو سب سے بڑا سوال ہے وہ ہے بے روزگاری ،بیکار ی اور غربت یہی وجہ ہے کہ دونوں بڑے اتحاد ی نوکریاں دینے کی بات کر رہے ہیں ۔ایک طرف جہاں 10 لاکھ نوکریاں دینے کی بات کہی جا رہی ہیں ۔وہیں دوسری طرف 19 لاکھ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا جا رہا ہے مگر عوام کس کی باتوں کی پر یقین کر کے ووٹ دینگے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔

لیکن جس طرح سے اس بار نوجوان کھل کر سامنے آ رہے ہیں اور اپنے مسائل کی بات کر رہے ہیں اس سے کچھ سوال بھی نکل کر سامنے آرہے ہیں کہ کیا آنے والے دنوں میں سیاست کی باگ ڈور نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہوگی اور کیا سیاسی پارٹیوں کا منظر نامہ بدلنے والا ہے ۔بہار کے حالیہ الیکشن کے ماحول نے ذہن میں تو ایک سوال پیدا کر ہی دیا ہے ابھی جو صورتحال ہے اس میں یقینی طور پر ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ہندوستان ایک نوجوان ملک ہے اور جہاں تک بہار کا سوال ہے تو یہاں لگ بھگ 20 ملین نوجوان رہتے ہیں وہ چاہے تعلیم کا مسلہ ہو یا تعلیم کے بعد ملازمت کا مسلہ ہو یا دیگر مسائل کا ۔یہاں کا نوجوان طبقہ ایک کشمیکش میں مبتلا ہے کیونکہ اس کے سامنے ایک غیر یقینی صورتحال ہے جس کی وجہ کر ہر وہ میدان جہاں اسے کچھ امید نظر آتی ہے اس طرف جانے کو تیار ہے جس میں ایک سیاست بھی ہے ۔

ماضی میں سیاست ایک ایسا میدان تھا جہاں لوگ ملک و قوم کی خدمت کے جذبے کے ساتھ آتے تھے ان کا مقصد سماج کی خدمت کرنا ہوتا تھا لیکن اب جو نمایا ں فرق ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اس میدان کو بھی ایک کیر ئیر کی شکل میں دیکھا جانے لگا ہے اور یہاں بھی پرو فیشنلزم حاوی ہو چکا ہے جس طرح ایک نوجوان ڈاکٹر انجنیئر یا دوسرے کاروبار میں اپنا مستقبل دیکھتا ہے ۔اسی طرح سیاست میں بھی اسے اپنا مستقبل نظر آتا ہے اور یہ کوئی بری بات بھی نہیں ہے مگر جس طرح سماج میں ایک ایماندار ڈاکٹر انجنیئر یا کاروباری کی ضرورت ہے اسی طرح ایک ایماندار سیاست داں کی بھی ضرورت ہے جو پڑھا لکھا اور روشن ذہن رکھتا ہو ۔بےشک اسکا فائدہ ملک و قوم کو ہوگا۔اور وہ ایک نئی سوچ اور فکر کے ساتھ ملک کو بہتر قیادت دینے کے اہل ہوگا ۔

راہول گاندھی،تیجسوی پرساد یادو، کنہیا کمار اور ایل جے پی کے چراغ پاسوان نوجوان لیڈر ہیں جو آنے والے دنوں میں ملک کی سیاست میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں لوگ ان کی طرف ایک امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں ۔اگر یہ صوبہ بہار کے لئے کچھ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو بہار ملک کو ایک پیغام دینے میں کامیاب ہو گا کہ سیاست میں اب صرف تجربہ کار اور بزرگ سیاست داں ہی نہیں بلکہ نوجوان اور تازہ دم سیاست داں کی بھی ضرورت ہے ۔

جہاں تک بہار کا سوال ہے بہار آبادی کے لحاظ سے ملک کی تیسری بڑی ریاست ہے ۔غربت کے لحاظ سے یہ ملک کا پانچواں صوبہ ہے تعلیمی میدان میں بھی یہ کافی پیچھے ہے NSO کی ستمبر 2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق بہار کی شرح تعلیم 70.9 پرسینٹ ہے جو ملکی سطح پر6.8 پرسینٹ کم ہے ۔ یہاں کے لوگوں کی آمدنی کی شرح 3650 Rs ہے ۔یہاں 33 اشاریہ 74 فیصد لوگ غریبی کے نشان کے نیچے زندگی گزارتے ہیں ۔اس طرح یہ ملک کے پسماندہ ریاستوں میں آتا ہے ۔غربت اور بیکار ی کی وجہ سے یہاں جرائم بھی کم نہیں ہے لیکن ان سب کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ یہاں کی عوام سیاسی شعور رکھتی ہے اور الیکشن کے وقت بےدار مغزی کا ثبوت پیش کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کا مسلہ سر چڑھ کر بول رہا ہے اور الیکشن پر ہر طرح سے حاوی نظر آتا ہے ۔نوجوان طبقہ کسی بھی ملک یا قوم کا اصل سرمایہ ہوتا ہے اگر وہ تعلیم یافتہ ،بشعور، با صلاحیت، بیدار مغظ،صحتمند اور مثبت سوچ کا مالک ہوگا تو یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ وہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا ۔اور جس جگہ کا معا ملہ یہ ہو کہ نئی اور نوجوان نسل غیر تعلیم یافتہ بے شعور اور منفی سوچ رکھنے والی ہوگی جس کی خاص وجہ غربت و افلاس سے بھری زندگی اور معاشی و تعلیمی پسما ندگی ہوتی ہے تو پھر وہ ملک کی ترقی کی راہ میں ایک رکاوٹ ثابت ہوگی اور حالات کے رخ موڑ نا آسان نہیں ہوگا ۔اس لئے نوجوان پر بھر پور توجہ دینی کی ضرورت ہے ۔

ہماری حکومتوں کو چاہئے کہ وہ نوجوانوں پر خاص توجہ مرکوز کریں ان کے حالات کا بہتر ڈھنگ سے جائزہ لیں اور پھر ان کے مستقبل کے لئے صحیح فیصلہ کریں ۔جس میں تعلیم ،صحت اور مثبت سوچ کو مرکزیت حاصل ہونی چاہئے اس لئے بہتر سے بہتر پالیسی مر تب کرنی چاہئے تبھی جاکر ہم ملک کو ترقی کی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں ۔

اگر ایسا ہوا تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ بہار کا الیکشن ہندوستانی سیاست کا رخ موڑ سکتا ہے اور آنے والے دنوں میں ہندوستان کی سیاست میں نوجوانوں کو ایک اہم کردار نبھانے کا موقع مل سکتا ہے ۔ورنہ خواب دیکھنے کا تو سبھی کو حق ہے ۔

کئی خواب آنکھوں میں بسا ئے ہوئے ہیں ۔