جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوماعلان واشتہارات  *کورونا کے بہانے تعلیمی اداروں پر تالا بندی غیر آئینی...

  *کورونا کے بہانے تعلیمی اداروں پر تالا بندی غیر آئینی اور سمجھ سے بالاتر: شاہنواز بدر*  

 

*کورونا کے بہانے تعلیمی اداروں پر تالا بندی غیر آئینی اور سمجھ سے بالاتر: شاہنواز بدر*

*حکومت تمام اسکولوں اور مدارس میں جلد تعلیمی نظام کی بحالی کو یقینی بناۓ ورنہ احتجاج پر مجبور ہوں گے*

سہرسہ، 18/جنوری 2022

وژن انٹرنیشنل اسکول سہرسہ کے ڈائریکٹر و سماجی کارکن شاھنوازبدرقاسمی نے کورونا وائرس کے بہانے تعلیمی اداروں میں تالا بندی کو حکومت کی جانب سے اس فیصلے کو غیر آئینی اور سمجھ سے بالاتر بتاتے ہوۓ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد از جلد ملک بھر کے تمام اسکولوں اور مدارس میں مکمل طور پر تعلیمی نظام کی بحالی کو یقینی بناۓ اور کورونا کے بہانے ایسے فیصلے نہ لیں جس پر عمل ممکن نہیں، انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کے بند ہونے سے لاکھوں طلباء و طالبات نے پڑھائی چھوڑ دی ہے جس کیلئے براہِ راست حکومت ذمے دار ہے، شاہنواز بدر نے کہاکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے وابستہ ذمہ داران، اساتذہ، کارکنان اور ملازمین ایک مرتبہ پھر فاقہ کشی پر مجبور ہیں، اکثر قرضوں میں ڈوب چکے ہیں لیکن حکومت سے مطالبات کے باوجود انہیں دوسالوں میں اب تک کوئی معمولی مدد بھی نہیں ملی، بار بار تعلیمی اداروں کے بند ہونے سے لاکھوں بچے اور ان کے گارجین پریشان ہیں، چھوٹے بچوں اور دیہی علاقوں میں آن لائن تعلیم کامیاب نہیں ہے اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر تعلیمی اداروں میں کوویڈ گائیڈ لائن کا خیال رکھتے ہوئے درس و تدریس کی اجازت دے-

شاہنواز بدر نے کہاکہ حکومت مذہبی عبادت گاہوں اور تعلیمی اداروں پر پابندی لگا کر یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ ہم نے کورونا وائرس کو کنٹرول کرلیا ہے یہ سراسر غلط فہمی اور دھوکہ ہے اس وقت جب پورے ملک میں حکومت کی جانب سے کورونا پھیلنے کی خبریں آرہی ہیں ایسے میں اترپردیش سمیت پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات چل رہے ہیں جہاں تشہیری مہم اور عوامی رابطے کے نام پر کورونا گائیڈ لائن کی دھجیاں اڑائی جارہی ہے، بازاروں اور عوامی مقامات پر لوگوں کا ہجوم قابل رحم اور حیرت انگیز ہے لیکن ان سب کیلئے کوئی پابندی نہیں، تعلیمی اداروں کے ذمے داران اس ملک میں بے بس اور قانون سے بندھے ہوئے ہیں اس لئے انتظامیہ کی جانب سے ایسے فیصلے لئے جاتے ہیں تاکہ پولیس کو نگرانی اور سختی کے نام پر موٹی رقم مل سکے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں حکومت نے کورونا کے نام پر جو تماشہ کیا ہے وہ انتہائی شرمناک اور بیحد افسوس ناک ہے، حکومت اگر تعلیمی اداروں کی مدد نہیں کرسکتی ہے تو کم ازکم لاکھوں بچوں کے روشن مستقبل اور پرائیوٹ تعلیمی اداروں سے وابستہ لوگوں کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں اگر حکومت نے اپنا یہ فیصلہ واپس نہیں لیا تو یاد رکھئیے بہت جلد پورے ملک میں طلباء و طالبات، ان کے گارجین اور تعلیمی اداروں کے ذمے داران حکومت کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے_

شاہنواز بدر نے ورلڈ بینک کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس میں حکومت سے یہ اپیل کی گئی ہے کہ وہ کورونا کی وجہ سے بار بار تعلیمی اداروں کو بند نہ کرے، دنیا کے اکثر ممالک میں اسکول کھل چکے ہیں لیکن بھارت میں تعلیمی اداروں پر تالا بندی یقیناً تشویشناک ہے، شاہنواز بدر نے تمام تعلیمی اداروں کے ذمے داران، ملی، مذہبی، سماجی، صحافتی اور سیاسی شخصیات اور بچوں کے سرپرستان سے اس سلسلے میں بیداری لانے اور جلد سے جلد تعلیمی اداروں میں تعلیمی نظام کی بحالی کو یقینی بنانے کیلئے حکومت و انتظامیہ پر دباؤ بنانے کی اپیل کی ہے_

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے