کورونا متاثرہ کنبے کو معاوضہ دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا ایس ڈی پی آئی نے کیا خیر مقدم

51
نئی دہلی۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جس میں نیشنل ڈزایسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کوکوویڈ سے ہوئی اموات کے متاثرہ کنبوں کیلئے 6ہفتوں کے اندرایکس گریشیا رقم طے کرے۔ عدالت عظمی کے تین جج بینچ نے واضح طور پر نشاندہی کی ہے کہ این ڈی ایم اے نے ایکس گریشیا رقم کی سفارش نہ کرکے اپنا فرض نبھانے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ عدالت عظمی کا یہ فیصلہ مرکزی حکومت اور این ڈی ایم اے کیلئے ایک سبق ہے کہ آفات سے نمٹنے اور متاثرین کو راحت پہنچانے میں وہ کوتاہی نہیں کرسکتے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے مزید کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں دہرایا ہے کہ این ڈی ایم کے کی یہ قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ کوویڈ وباء کے متاثرین کیلئے کم سے کم ایکس گریشیا امداد کی سفارش کیلئے رہنما اصول وضع کرے۔ قومی آفات انتظامیہ ایکٹ کی دفعہ 12این ڈی ایم اے سے متعلق قانونی ذمہ داری کی ہدایت کرتا ہے کہ وہ متاثرین کیلئے کم سے کم امداد کی سفارش کرے۔ افسوس کی بات ہے کہ مرکزی حکومت نے یہ استدلال کرتے ہوئے سابق قانون سے بچنے کی کوشش کی دفعہ لازمی دفعات نہیں ہے۔عدالت نے دفعہ 12کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا ہے کہ دفعہ 12کی دفعات لازمی ہیں۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت کو ملک میں ہر کوویڈ اموات کے لواحقین کو 5لاکھ روپئے ایکس گریشیا رقم فراہم کرے۔ فیضی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کوویڈ کے بعد ہونے والی اموات کو بھی کوویڈ وبائی مرض کا شکار سمجھا جانا چاہئے تاکہ جان بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو ایکس گریشیا فراہم کیاجاسکے۔