کوئی تو ہے جو اس جہاں کا خالق ہے

48

اس جہان آب و گل میں بہت سے ادیان ومذاہب متنوع صفات کے لوگ فروکش ہیں کوئی کلیسا میں خدا کا متلاشی ہے تو تو کوئی خدا رسیدہ بندوں کو ہی خدا کا درجہ دیتے ہیں اور خدا کی وحدانیت کا یقین اپنے دلوں میں بسایا ہوا ہے ان کے علاوہ بھی دیگر مذاھب ہیں جو اپنے اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گز بسر کرتے ہیں گرچہ سب کے معبود و معبد جداگانہ ہے سب مختلف العقائد ضرور ہیں مگر سب کا ربط اور سب کا وصل بس ایک مالک حقیقی سے مربوط ہیں اور سب کی تخلیق کا باعث بھگوان کی پوجا ؛ گوڈ کی عبادت ؛ اور خدا کی عبادت ہے گوڈ خدا بھگوان لفظ چاہے کتنے بھی بدل لو سب سے رب کی پرستش و عبادت مقصود ہے اور اسی ایک خالق کی عبادت مطلوب ہے اور ساری آسایش و آرائش اس کی ہی عبادت کے لیے ہے

لیکن رب نے جس مقصود و مطلوب کے لیے انسان کی تخلیق کی ملایکہ پر فوقیت عطا کی وہ حضرت انسان اپنی تخلیق کے مقصد سے منحرف و تعرض کیا ہوا نظر آتا ہے آج بھگوان کی پوجا و پاٹ کرنے والا بھی حقیقی عقیدت سے نا آشنا ہے گرجا گھروں اور عبادت گاہوں میں دکھاوے کی عبادت ہو رہی ہیں اور مسلمان جسے سب پر امتیاز و تفوق و برتری حاصل ہے وہ بھی اپنے مقصد سے بے زار ہیں مسجد کی خالی صفیں اس بات کی شاہد کائنات کا اس فانی دنیا کو وجود بخشنے کا مقصد اعلاء کلمۃاللہ ،اللہ کے نام کے سر بلندی ہیں بھگوان کی پرستش سے اس کی دھرتی کو پوتر بنانا ہے اس کے احکام کی اپنی عملی زندگی تنفیذ و ترویج ہے اس کی بنائی ہوئی دنیا میں اللہ کی عبادت اور اس کے رسول کی اطاعت ہے شریعت کے مطابق چلنا ہے حکم خدا وندی بجا لانا ہے

مگر حیف ۔آج دنیا کا ہر فرد خدا کی نعمتوں سے مستفید ہو رہا ہے اس کے تخلیق کردہ اشیاء سے راحت حاصل کر رہا ہے مگر اپنی خالق کی شکر گزاری و احسان مندی سے بے نیاز ہے مندر و مسجد میں عادات روز ہوتی ہے مگر لذت و حلاوت خدا ترسی و خدا شناسی ہونی چاہیے وہ عنقاء ہےغیر مسلمان اپنی خواہشات میں مدہوش ہیں اور گرجا گھروں اور کلیساؤں میں تو خدا ہی فروخت کر بیٹھے ہیں اپنی ضروریات کو مقصد اصلی بنا بیٹھے ہیں زندگی کی راحت وسکون کو اپنے مقاصد کا حصہ بنا لیا لہوولعب کو اپنا محبوب و مرغوب مشغلہ بنا لیا ہونا تو چاہیے تھا کہ اس حقیقی خالق کی سپاس گزاری میں جبیں زمیں سے جدا نہ ہوں اور تادم حیات اپنی زندگی عبادت و ریاضت میں صرف کرتے مگر …

اس سے بڑی حماقت اور کیا ہو سکتی ہے کہ مقصد اصلی کو بالائے رکھ کر اپنی ضروریات کے تعقب میں ہیں اور شہوات و خواہشات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں .

ہماری خدا بے زاری و محسن حقیقی کے احسان سے بے اعتنائی کج خلقی و بے مروتی و بے راہ روی ہم سے خود سوال کناں ہے کہ آخر تم اس طر ح کیسے اپنے وجود بخشنے والے سے بے اعتنائی برت سکتے ہو ؟ تم اس کی نعمتوں سے استفادہ کر کے بھی اس کی بندگی سے کیسے منحرف ہو سکتے ہو ؟ احسان مندی بجائے کے احسان فراموشی کیوں کر روا ہے آخر تم بے زار کیوں ہو یقینا یہ آسایش و آرائش زیبائش و خوشنمائی تمہاری اپنی کاوش نہیں بلکہ کسی کی عطا کردہ تو پھر اس کی تعظیم و تکریم سے غافل کیوں آخر جس جہان میں تم بسے ہو اس کا کوئی تو خدا ہے اس کی عبادت لازم ہے انحراف ظلم ہے اور یہ اشیاء جس کا ہم استعمال کرتے ہیں بتارہی ہے کہ کوئی تو ہے جو اس جہاں کا خالق ہے تم اسے کیسے فراموش کر سکتے ہو ؟