جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتکسب حلال کے لئے جدوجہد کرناانسان کااولین فریضہ ہے!

کسب حلال کے لئے جدوجہد کرناانسان کااولین فریضہ ہے!

کسب حلال کے لئے جدوجہد کرنا انسان کا اولین فریضہ ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص بھی خدا کے مقرر کردہ رزق کو حاصل کئے بغیر موت نہ پائے گا اس لئے تم اللہ کا تقوی اختیار کرو اور رزق حاصل کرنے میں جائز طریقہ اختیار کرو رزق میں دیر سویر تم کو ناجائز طریقہ اختیار کرنے پر آمادہ نہ کردے، کیونکہ اللہ کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ صرف اسی کی اطاعت سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ (مشکوۃ شریف)

    اللہ تعالی نے جس انسان کی قسمت میں جتنی روزی مقدر کر دی ہے اس کو اتنی مل کر رہے گی اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو گی یہ کوئی فلسفہ منطق کا مسئلہ نہیں ہے یہ سب مشاہدہ اور ہم سب کے روزمرہ کا تجربہ ہے کہ کوئی شخص ساٹھ سال کی عمر میں چل بسا اور کوئی اس سے کم اور کوئی زیادہ میں گویا اللہ نے جسکی جتنی عمر لکھی ہے رزق بھی اسی قدر متعین کر دیا مگر ہاں محنت و مزدوری کو شرط اولین قرار دیا اور کسب حلال کی فکر و کوشش کو موجب اجر ثواب بتلایا اسی لیے حدیث پاک میں اللہ تعالیٰ اللہ کا تقوی اختیار کرنے اور رزق حاصل کرنے میں جائز طریقہ اپنانے کی ترغیب دی گئی ہے یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے مال حرام سے بچا جائے کیوں کہ حرام طریقے سے کمائی ہوئی دولت میں نہ تو خیر و برکت ہوتی ہے اور نہ ہی ایسے شخص کی عبادت قبول ہوتی ہے۔بلکہ آخرت میں وہ مال اس کے لئے وبال کا باعث ہوگا، اس کو حرام کمانے کا بھی گناہ ہوگا اور وارثوں کو حرام کھلانے کا بھی ایک حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ گوشت اور وہ جسم جنت میں نہ جا سکے گا جس کی نشونما حرام مال سے ہوئی ہو اور ہر ایسا گوشت اور جسم جو حرام مال سے پلا اور بڑھا ہو دوزخ کے زیادہ مستحق ہے (بیہقی) جب کسی انسان کے اندر مال کی طلب بڑھ جاتی ہے تو احتیاط اٹھ جاتا ہے اور ہر مال کو معمولی بہانہ کے ذریعے جائز سمجھنے لگتا ہے ہے۔ اور رفتہ رفتہ کھلے حرام کو جائز کر لیتا ہے اس لیے اسلامی زندگی نے احتیاط کی تعلیم دی تاکہ نفس کو زیادہ کھیل کھیلنے کا موقع نہ ملے چنانچہ ایک حدیث میں اس کی نشاندہی کر دی گئی کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی کو اس کی پرواہ نہ ہوگی کہ وہ جو لے رہا ہے حلال ہے یا حرام جائز ہے یا ناجائز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جس زمانے کی خبر دی کیا آج یہ امت اس دور سے نہیں گزر رہی ہے کتنے ہی آنے والے روپیہ پیسہ یا کھانے پینے کی چیزوں کے بارے میں سوچتے اور تحقیق کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ جائز ہے یا ناجائز، حلال وحرام کی تمیز کئے بغیر سب کچھ استعمال کر رہے ہیں ہیں۔

    صحابہ کرام کی زندگیاں اس قدر پاک و صاف تھیں کہ وہ مباحات سے بھی پرہیز کرتے تھے اور مال مشتبہ کی طرف نگاہ تک نہیں کرتے تھے اتنا زیادہ حرام چیزوں سے احتراز کرتے تھے۔

امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عمر بن خطاب کا ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک دفعہ کسی شخص نے حضرت عمر کی خدمت میں دودھ پیش کیا آپ نے اس کو قبول فرما لیا اور پی لیا آپ نے اس آدمی سے پوچھا کہ دودھ کہاں سے لائے اس نے بتلایا کہ فلاں گھاٹ کے پاس سے میں گزر رہا تھا وہاں اونٹیاں اور بکریاں تھیں لوگ ان کا دودھ دوھ رہے تھے تو انہوں نے مجھے بھی دیا اور اس دودھ کو میں نے لے لیا یہ وہی دور تھا آپ نے حلق میں انگلی ڈال کر قے کے ذریعے اس دودھ کو پیٹ سے نکال دیا۔حالانکہ بے خبری میں نوش کیا ہوا دودھ گرچہ گناہ نہیں تھا لیکن حرام غذا کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا تھا اس سے یہ اتنے خوفزدہ تھے کہ اس کو پیٹ سے نکال دینے کے بغیر چین نہ آیا، بے شک حقیقی تقوی یہی ہے، اگر ہر شخص اپنی زندگی اسی طرح تقوی و پرہیزگاری سے گزارے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ بہت سی روحانی بیماریوں سے محفوظ نہ رہے اس لئے ہر مومن بندہ کا ایمانی تقاضہ ہے کہ رزق حلال کمانے کے لئے جدوجہد کرے اور حرام و ناجائز کے قریب بھی نہ جائے۔

     مولانا عبدالصمد قاسمی پورنوی

مدرسہ انوارالعلوم اسلامپور ، کھیم چند، کے نگر پورنیہ بہار

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے