کسان آندولن اور مسلمان شاہنوازبدرقاسمی

44

کسان آندولن اور مسلمان
شاہنوازبدرقاسمی
زرعی قوانین کے خلاف گزشتہ دوماہ سے راجدھانی دلی میں کسان آندولن جاری ہے،جوں جوں وقت گذر رہاہے اس تحریک میں شدت اور عوامی دلچسپی بھی بڑھتی جارہی ہے۔26جنوری کو ٹریکٹر ریلی کے بعد اس تحریک کو سرکاری سطح پر ختم کرنے کیلے ہر ممکن کوشش جاری ہے۔ایک طرف ملک بھر کے کسان ہیں دوسری طرف بی جے پی سرکار۔پولیس کے ذریعہ احتجاج کررہے کسانوں کو جس طرح ہراساں کیاجارہاہے وہ نہ صرف تکلیف دہ بلکہ قابل مذمت ہے۔اس نئے قانون سے ہونے والے نقصانات کااندازہ لگانابھلے ہی ناممکن ہو لیکن اتنا ضرور ہے اس تحریک نے مودی سرکارکو ہلاکررکھ دیاہے،مرکزی حکومت کے بہت سے جھوٹے وعدے اور دعوے سے لوگ واقف ہوچکے ہیں،کسان آندولن نے مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتوں اور سیاسی پارٹیوں کاجینا بھی حرام کردیاہے،آزادی کے بعد ملکی سطح پر کئی تحریکات نے تاریخ ساز کامیابی حاصل کی،حال میں این آر سی مخالف احتجاج اور اب کسان آندولن بھی اسی سمت میں بڑھتاایک قدم ہے۔
کسان آندولن میں مسلمانوں کے رول پر کئی جگہ لوگ سوالات اٹھارہے ہیں اس لئے ہم نے اس موضوع پرتوجہ دلانا مناسب سمجھاکہ اس تحریک میں جس طرح پنچاب کے سیکھوں اورہریانہ ومغربی یوپی کے برادران وطن نے کلیدی کرداراداکیاہے اس طرح مسلمانوں نے حصہ تو نہیں لیاالبتہ کسان آندولن میں مسلمان مکمل طورپر شریک ہیں،خاص طورپر مالیرکوٹلہ کے مسلمانوں کااس تحریک کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ہے،یہ حقیقت ہے کہ کسانوں کاکوئی مذہب نہیں ہوتالیکن ابھی بھی مسلمانوں کاایک بڑا طبقہ اس تحریک سے جڑنے کے بجائے صرف تماشہ دیکھنے یہ پھر سوشل میڈیا پر سپورٹ کرنے میں ہی دلچسپی لے رہے ہیں جو یقینا ہم سب کیلے لمحہ فکر یہ اور افسوس ناک ہے_
بحیثیت بھارتی شہری اور مسلمان ہونے کے ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم مصلحت اور مذہبی اختلافات سے بالاتر ہوکر کسان آندولن کاکھل کر سپورٹ کریں،جس طرح اس کالے قانون کے خلاف پنجاب، ہریانہ، راجستھان اور مغربی یوپی میں عوامی جوش وخروش ہے اگر بہار سمیت دیگر ریاستوں میں بھی مسلمان برادران وطن کے ساتھ مل کر اس تحریک کو کامیاب بنانے کی مہم چلائیں تو بڑی کامیابی کے امکانات ہیں۔اس وقت ہمارے بعض احباب سوشل میڈیا پر کسان لیڈر راکیش ٹکیت کو مظفرنگر فساد کاحوالہ دے کر مزے لے رہے ہیں ان سب سے یہی کہنا چاہوں گاکہ یہ وقت تنقید،تبصرہ اور مذاق بنانے کانہیں ہے بلکہ اس سنگھی طاقت کو کچلنے کاہے جس نے پورے ملک کو اپنی جاگیر سمجھ کر بالادستی قائم کرناچاہتی ہے اور اس ملک کو ذاتی مفاد کیلے ایسے ہاتھوں میں دیناچاہتی ہے جو ملک کے روشن مستقبل کیلے انتہائی خطرناک ہے،ہمیں دوراندیشی اور دانشمندی سے کام لیتے ہوئے اس تحریک کا کھل کرساتھ دیناچاہئے اور اس زرعی قوانین سے ہونے والے نقصانات کو خو د بھی سمجھنا چاہئے اور دوسروں کو بھی سمجھاناچاہیے تب ہی اس عظیم تحریک کو ہم کامیابی تک پہنچا سکتے ہیں۔