کسانوں کے حق میں ریلی، پرینکا گاندھی کی گرفتاری پھر رہائی

57
بھارت کے دارالحکومت دہلی کی پولیس نے کسانوں کی حمایت میں اپوزیشن جماعت کانگریس کے ایوانِ صدر تک مارچ کے دوران پرینکا گاندھی سمیت کئی کانگریسی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔

مارچ کی قیادت کانگریس رہنما راہول گاندھی کر رہے تھے۔

خیال رہے کہ بھارتی کسان کئی روز سے متنازع زرعی اصلاحات کے خلاف نئی دہلی کے اطراف احتجاج کر رہے ہیں جب کہ کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتیں اس احتجاج کی حمایت کر رہی ہیں۔

کانگریسی وفد صدر رام ناتھ کووند کو متنازع زرعی قوانین کے خلاف دو کروڑ دستخطوں پر مشتمل ایک یاداشت حوالے کرنا چاہتا تھا۔

پولیس نے صرف دو رہنماؤں راہول گاندھی اور غلام نبی آزاد کو صدر سے ملنے کی اجازت دی۔

پرینکا گاندھی اور دیگر کانگریسی رہنماؤں کو بعدازاں رہا کر دیا گیا۔

صدر سے ملاقات کے بعد راہول گاندھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حزبِ اختلاف کسانوں کے ساتھ ہے۔

اُن کے بقول کسان اس وقت تک اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے جب تک حکومت متنازع قوانین واپس نہیں لے لیتی۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرکے ان قوانین کو منسوخ کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں جمہوریت نہیں ہے۔

پرینکا گاندھی کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ بھارتی صدر کی رہائش گاہ کی جانب جانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

 

پرینکا گاندھی کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ بھارتی صدر کی رہائش گاہ کی جانب جانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

حراست میں لیے جانے پر پرینکا گاندھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے خلاف اگر آواز اٹھائی جاتی ہے تو اسے دہشت گردی قرار دے دیا جاتا ہے۔ ہم یہ مارچ کسانوں کی حمایت میں کر رہے تھے۔

پرینکا گاندھی کے ہمراہ متعدد ارکان پارلیمنٹ بھی تھے۔ پرینکا نے کہا کہ ہم ایک جمہوری ملک میں رہتے ہیں اور یہ لوگ منتخب ارکان پارلیمنٹ ہیں۔ ان کو صدر سے ملنے کا حق ہے اور انہیں اس کی اجازت ملنی چاہیے۔

ان کے بقول حکومت لاکھوں کسانوں کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔

انہوں نے حکومت کو ‘پاپی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے لوگ کبھی کہتے ہیں کہ ہم اتنے کمزور ہیں کہ اپوزیشن کا کردار بھی ادا نہیں کر سکتے اور کبھی کہتے ہیں کہ ہم اتنے مضبوط ہیں کہ لاکھوں کسانوں کو ایک ماہ سے سنگھو بارڈر پر بٹھائے ہوئے ہیں۔

ادھر متنازع زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کا احتجاج 29 ویں روز میں داخل ہو گیا اور اب بھی تعطل برقرار ہے۔

بدھ کو تقریباً 100 کسان رہنماؤں نے میٹنگ کی جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ جب تک حکومت متنازع قوانین واپس نہیں لیتی، احتجاج جاری رہے گا۔

انہوں نے قوانین میں حکومت کی تجویز کردہ ترامیم کو مسترد کر دیا اور کہا کہ جب تک حکومت کوئی نیا اور ٹھوس ایجنڈا لے کر نہیں آتی ہے اس وقت تک اس سے کوئی بات نہیں ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کوئی نئی بات نہیں کر رہی ہے وہ پرانی تجاویز پیش کر رہی ہے۔

انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ کسانوں میں پھوٹ ڈالنے اور کسان تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ حکومت اور کسانوں کے درمیان مذاکرات کے چھ ادوار بے نتیجہ رہے ہیں۔

دریں اثنا وزیرِ زراعت نریندر سنگھ تومر نے کسانوں سے کہا ہے کہ وہ حکومت سے بات کرنے کے لیے آگے آئیں۔

ان کے بقول ہزاروں کسان اس کڑاکے کی سردی میں کھلے آسمان کے نیچے سو رہے ہیں جو کہ حکومت کے لیے باعث تشویش ہے۔

ادھر کسانوں کی ایک تنظیم بھارتیہ کسان یونین (لوک شکتی) کے چیف شیو راج سنگھ نے وزیرِ اعظم کے نام خون سے خط لکھا ہے جس میں انہوں نے مذکورہ قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

BD94B1E8 30A4 4E02 BB2E 722E6F1143D2 w250 r1 s

 

کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے جو زرعی قوانین منظور کیے ہیں وہ کسانوں کے مفادات کے خلاف اور کارپوریٹ اداروں کے حق میں ہیں۔ ان قوانین کی مدد سے زرعی شعبے میں بھی صنعت کاروں کا غلبہ ہو جائے گا اور کسان اپنی آمدنی سے محروم ہو جائیں گے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ قوانین کسانوں کے مفاد میں بنائے گئے ہیں۔ ان کی مدد سے کسان اپنی اجناس کی اچھی قیمت حاصل کر سکیں گے اور کسانوں کو منڈیوں میں موجود ‘مڈل مین’ سے نجات مل جائے گی اور وہ منڈیوں کے باہر بھی اپنی فصلیں اچھی قیمت میں فروخت کر سکیں گے۔

کسانوں نے اپنے احتجاج کا دائرہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے وفود دوسری ریاستوں میں بھی جا رہے ہیں جہاں وہ کسانوں کو احتجاج میں شامل ہونے پر راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ دنیا کے دس بڑے ملکوں میں بھی احتجاج کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔