کسانوں کی حمایت میں ایس ڈی پی آئی تمل ناڈو کا ریاست گیر ‘کسان یکجہتی مارچ

55

چنئی۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) تمل ناڈو شاخہ نے کل 26جنوری کو کسانوں کی حمایت میں ریاست کے تمام اضلاع اور اہم شہروں میں ‘کسان یکجہتی مارچ’نکالا۔ چنئی میں نکالے گئے کسان یکجہتی مارچ کی صدارت ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر محمد مبارک نے کی۔ یکجہتی مارچ کا آغاز تارا پور ٹاور سے ہوا۔ ریالی میں ایس ڈی پی آئی ریاستی سکریٹریان امیر حمزہ، رتھنم اناچی،ریاستی ورکنگ کمیٹی رکن اے کے کریم، سینٹرل چنئی ضلعی صدر جنید انصاری، جنر ل سکریٹری ایس وی راجہ، شمال چنئی ضلعی صدر محمد رشید، جنرل سکریٹری پشپا راج، جنوبی چنئی ضلعی صدر محمد سلیم، جنرل سکریٹری انصاری شریک رہے۔ کسان یکجہتی مارچ کے اختتام میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر محمد مبار ک نے کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے لائے گئے تین زرعی قوانین کے خلاف دارلحکومت دہلی میں گزشتہ دوماہ سے دھرنے پر بیٹھے کسان 26جنوری کو ٹریکٹر ریلی نکال کر ان کالے قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کررہے ہیں ان پر مودی حکومت کی پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کرکے ان کے اس تحریک کو دبانے کی کوشش کی ہے۔ کسانوں اور عام عوام کے روزی روٹی سے جڑے ا س مسئلے کی حمایت میں ایس ڈی پی آئی اس وقت سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کرتی آرہی ہے جس دن ان تینوں قوانین کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا۔ محمدمبارک نے مزید کہا کہ جس طرح سی اے اے، این آرسی، این پی آر کے خلاف ہورہے مظاہروں کے خلاف سنگھ پریوار کو استعمال کرکے دبانے کی کوشش کی گئی تھی اسی طرح کسانوں کے ٹریکٹر مارچ میں بھی سنگھ پریوار کا استعمال کرکے کسانوں کے اس پرامن تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ رات کے وقت کرفیو نافذ کیا جانا اور انٹر نیٹ بند کرنا یہ سب جمہوری مخالف اقدامات ہیں۔ اس کے علاوہ کسانوں کے اس تحریک کو خالستان سے جوڑ کر پیش کرناغلط ہے۔ ملک بھر کے تقریبا 500سے زیادہ کسان یونین ان تینوں کالے قوانین کو واپس لینے کے مطالبے کو لیکر پر گزشتہ دو ماہ سے امن تحریک چلارہے ہیں۔ اس تحریک کے دوران اب تک 60سے زائد کسانوں کی موت ہوئی ہے۔ کسانوں نے ٹریکٹر ریالی سے قبل اعلان کیا تھا کہ دہ دہلی نہیں دل جیتنے اور جمہوری طریقے سے اپنے حق کو منوانے کیلئے دہلی آرہے ہیں۔ لیکن مرکزی حکومت کی پولیس نے ان پر لاٹھی چارج، آنسو گیس کا بے دردی سے استعمال کرکے ان پر تشدد کیا ہے۔ مرکزی بی جے پی حکومت سمجھتی ہے کہ وہ اس تحریک کو طاقت کااستعمال کرکے ختم کردیگی تو یہ اس کا گمان ہے۔ ایس ڈ ی پی آئی کا مطالبہ ہے کہ مرکزی حکومت فوری طور پر تین زرعی قوانین کو واپس لیکر کسانوں کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرے۔ تینوں زرعی قوانین واپس لینے تک اور کسانوں کے تمام مطالبات پورے کرنے تک ایس ڈی پی آئی کسانوں کی حمایت میں ثابت قدمی سے کھڑی رہے گی۔ اس کسان یکجہتی مارچ میں خواتین سمیت ہزاروں پارٹی کارکنان شریک رہے۔