کرونا لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد مہاجرین کی غیرقانونی طور پر یورپ آمد میں اضافہ

26

42FD84E7 BD50 4E17 9F21 3BFED91A1DE9 w800 h450


کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کئی ماہ تک جاری رہنے والی بندشوں کے بعد دی جانے والی نرمی کے دوران بڑی تعداد مین تارکین وطن یورپی ممالک کا رخ کر رہے ہیں، جہاں حکومتوں نے ابھی مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد سے نمٹنے کے لیے کوئی مربوط پالیسی وضع نہیں کی۔

اس ہفتے مہاجرین کے یورپ کے براعظم کی طرف رخ کرنےاور یورپی حکومتوں کی پالیسی کے مسائل اس وقت نمایاں ہوئے جب اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ادارہ برائے ہجرت ‘آئی او ایم’ نے تصدیق کی کہ لیبیا کی دارالحکومت طرابلس سے 120 کلومیٹر مشرق میں مہاجرین سے بھری ایک کشتی کے ڈوب جانے کے نتیجے میں 57 مہاجرین ہلاک ہو گئے۔
آئی او ایم کے لیبیا مشن کے سربراہ نے مہاجرین کو درپیش آنے والے اس المیہ پر ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ اس معاملے پر “خاموشی اختیار کرنا اور کوئی اقدام نہ اٹھانا ناقابل معافی ہوگا۔”

زندہ بچ جانے والے افراد نے بتایا کہ ڈوبنے والےمہاجرین میں 20 خواتین اور دو بچے بھی شامل تھے۔
اس سلسلے میں ادارے کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ یورپی حکومتوں کو مہاجرین کی تلاش اور ان کے بچاؤ کے لیے اپنی کوششیں بہتر کرنا ہوں گی۔ ساتھ ہی یورپی ممالک کی حکومتوں کو لیبیا کی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ان مہاجرین کی پکڑ دھکڑ اور لیبیا واپسی کے اقدام کو روکنا چاہیے۔
خیال رہے کہ افریقی خطے میں صحارا کے ریگستان اور مشرق وسطیٰ سے جنگوں کےنتیجے میں بھاگ نکلنے والے مہاجرین کےلیے لیبیا یورپ جانے کا راستہ خیال کیا جاتا ہے۔
سن 2021 کے پہلے نصف حصے میں لیبیا کے کوسٹ گارڈز نے 13,000 لوگوں کو پکڑ لیا تھا۔ اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے مطابق یہ تعداد اس سے پہلے سال کی کل تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔
ادھر شمال میں برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے جنوبی ساحلی علاقوں سے اس سال 8,452 پناہ گزین ملک پہنچے ہیں۔ یہ مہاجرین کمزور کشتیوں کے ذریعے فرانس سے سمندر پار کرکے برطانیہ کے ساحل پہنچے تھے اور ان کی تعداد گزشتہ سال کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔
انیس جولائی کو 430 پناہ گزینوں نے فرانس سے انگلش چینل پار کیا اور یہ تعداد ایک روز میں پناہ گزینوں کے اس راستے سے برطانیہ پہنچنے کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں برطانوی حکومت نے ایک نیا امیگریشن بل متعارف کرایا جس کے مطابق پناہ گزینوں کے بلا اجازت برطانیہ آنے کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔
برطانیہ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ فرانس کو انگلش چینل کے ذریعے کشتیوں میں برطانیہ آنے والے مہاجرین کی تعداد پر قابو پانے کے لیے ستر ملین ڈالر دے گا۔
عالمی وبا کے گزشتہ مہینوں کی صورت حال کے بعد جوں جوں یورپی ممالک اپنی سرحدیں کھول رہے ہیں اور سفری بندشوں کو نرم کررہے ہیں، پناہ گزینوں کے بر اعظم کی جانب رخ کرنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، کرونا عالمی وبا کے منفی اقتصادی اور سیاسی اثرات نے سب صحارا افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے لوگوں کی بڑی تعداد کو یورپ کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور کیا ہے۔
دریں اثنا بعض غیر حکومتی تنظیموں، یعنی این جی اوز نے کہا ہے کہ کئی مقامات پر بارڈر پر مامور فورسز مہاجرین کو جبری واپس بھیجنے کے طریقے اپنا رہی ہیں اور یہ عمل بارہا اور زیادہ سخت انداز سے دہرایا جارہا ہے۔

ڈینمارک کی کونسل برائے مہاجرین کے مطابق، اس سال جنوری اور اپریل کے دوران چھ مختلف ممالک میں 2162 ایسے کیسز سامنے آئے جب لوگوں کو زبردستی واپس بھیجا گیا۔
لوگوں کے حقوق کی پامالی کے مبینہ واقعات اٹلی، یونان، سربیا، بوسنیا ہرزی گووینا، شمالی میسیڈونیا اور ہنگری کی سرحدوں سے رپورٹ کیے گئے ہیں۔
ان میں سے ایک تہائی کیسز میں بارڈر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے حکام کی جانب سےمہاجرین کے حقوق کی خلاف ورزیاں شامل ہیں جن میں پناہ لینے کے نظام تک رسائی نہ دینا، جسمانی طور پر غلط سلوک روا رکھنا، حملے کرنا، سامان کی چوری اور ملکیت کو نقصان پہنچانا شامل ہیں۔