ہومنقطہ نظرکرناٹک میں مسلم لڑکیوں کیلئے علیحدہ کالج غیر ضروری۔ یہ مسلم لڑکیوں...

کرناٹک میں مسلم لڑکیوں کیلئے علیحدہ کالج غیر ضروری۔ یہ مسلم لڑکیوں کو مرکزی دھارے سے الگ کرتا ہے

کرناٹک میں مسلم لڑکیوں کیلئے علیحدہ کالج غیر ضروری۔ یہ مسلم لڑکیوں کو مرکزی دھارے سے الگ کرتا ہے۔ ایس ڈی پی آئی
بنگلور۔ (پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کرناٹک کے ریاستی صدر عبدالمجید میسور نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ ریاست میں مسلم لڑکیوں کیلئے علیحدہ کالج کا قیا م غیر ضروری ہے اور یہ اقدام مسلم لڑکیوں کو سما ج کے مرکزی دھارے سے دور کرنے کا ہوگا۔ عبدالمجید نے مزید کہا ہے کہ حجاب کے بہانے مسلم لڑکیوں کو تعلیم سے محروم کرنے کی سازش رچنے کے بعد، حکومت اب انتخابات سے پہلے رجھانے کی کوشش کے طور پر صر ف مسلم لڑکیوں کے لیے 10کالج قائم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس کے لیے وقف بورڈ نے بورڈ کے لیے مختص فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے ان کالجوں کے قیام کا کام اٹھایا ہے۔ ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر عبدالمجید نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت کو مسلم لڑکیوں کی تعلیم کی اتنی ہی فکر ہوتی تو وہ حجاب کے معاملے پر اس قدر ظالمانہ رویہ اختیار نہ کرتی، فاشسٹ بی جے پی کا پوشیدہ ایجنڈااقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو تعلیم سے محروم کرنا ہے۔ لیکن اب انتخابات کے قریب کچھ مسلم ووٹ حاصل کرنے کیلئے وقف بورڈ کے ذریعے مسلم لڑکیوں کیلئے 10علیحدہ کالج قائم کرنے کی تجویز پیش کررہی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ہر کالج کیلئے وقف بورڈ کی گرانٹ سے ڈھائی کروڑ کی رقم استعمال کی جائے گی جو کہ مسلم کمیونٹی کی بہتری کیلئے استعمال کی جانی تھی۔ یہ بی جے پی کی سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے والی پالیسی ہے۔ ایک طرف مرکزی حکومت اقلیتوں کے اسکالرشپ کو منسوخ کررہی ہے، دوسری طرف وہی بی جے پی کی ریاستی حکومت مسلم لڑکیوں کیلئے الگ کالج کھلولنے کا ڈرامہ رچارہی ہے۔ ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر عبدالمجید نے کہا کہ عوام اس ڈرامے کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، وقف بورڈ کے فنڈز ان مقاصد کیلئے استعمال کیے جائیں جن کے لیے وہ مختص کیے گئے ہیں۔ اگر حکومت مسلم لڑکیوں کیلئے الگ کالج بنانے کا عزم رکھتی ہے تو اسے علیحدہ گرانٹ دینا چاہئے۔ 
توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے