کثرت میں وحدت کی بقا کیلئے جمہوریت اور آئین کی بالادستی ضروری

42

آج سے تقریباً 72 / سال قبل ملک کی آزادی کے تین سال بعد 26 / جنوری 1950ء کو ہمارے وطن عزیز کا سیکولر آئین نافذ ہوا اور ہندوستان مکمل جمہوری نظام والا ملک قرار دیا گیا ملک کی 72 / ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر آج مجھے بے حد افسوس ہے کہ جمہوریت کی جس عظیم الشان نعمت کو ہمارے بڑوں اور بزرگوں نے بڑی لمبی جدوجہد اور اپنے جان و مال کی جس بے نظیر قربانیوں کے نتیجے میں انگریزی حکومت سے حاصل کی تھی اگر آج کے فرقہ پرستانہ رویہ، زیادہ جینے کی خواہش، سرکاری خزانے کو ذاتی مال سمجھ کر سہولت پسندانہ زندگی گزارنے کا جذبہ، خود غرضی و مفاد پرستی کی لعنت میں مست سیاستدانوں کی اقرباء پروری کا جنون جیسے ماحول میں جنگ آزادی لڑی جاتی تو ہرگز کامیابی نہیں ملتی اور نہ جمہوریت کی یہ نعمت آج برسوں سے ہمارے سامنے ہوتی ، آزادی کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ سامراجی قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلمان ہمیشہ صف اول میں رہے ہیں طوق غلامی کےخلاف آزادی کی جوت جگانے میں مدارس اسلامیہ، علماء کرام، و صوفیاء عظام کا بڑا اہم کردار رہا ہے ملک کی تاریخ، انگلستان کے کتب خانے اس بات کے گواہ ہیں کہ ملک کو انگریزوں کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے جس طبقہ نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں وہ مسلمان ہیں جس کی مثال ملک کی کوئی دوسری قوم پیش نہیں کر سکتی سن1757ء سے لیکر 1947ء تک کہ دو سو سالہ جدوجہد تحریک آزادی میں ہر جگہ قائد مسلمان ہی پیش پیش رہے ہیں علی وردی خان، نواب سراج الدولہ، حضرت ٹیپو سلطان شہید، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، سید احمد شہید، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی، سید اسماعیل شہید، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا فضل حق خیر آبادی، مولانا عبیداللہ سندھی، مولانا برکت اللہ بھوپالی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی، شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، ڈاکٹر مختار انصاری، حکیم اجمل خان، مولانا جعفر تھانیسری، مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی گوہر، امیر شریعت مولانا سید منت اللہ شاہ رحمانی وغیرہ سے لیکر امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزاد تک نہ جانے کتنے ایسے بڑے نام ہیں جسے یہاں مختصر میں سمیٹا نہیں جا سکتا، تحریک ریشمی رومال، تحریک خلافت، تحریک بالا کوٹ، انبالہ شازس کیس، جلیاں والا باغ کا سانحہ، موپلا مسلمانوں کی بغاوت ، چورا چوری پولس فائرنگ کا واقعہ، نیتا جی کی ازاد ہند فوج کی کارکردگی یا ملک کی آزادی کی خاطر پھر اور کوئی تحریک ہر جگہ مسلمان سرفروشانہ انداز اور ایٹار و قربانی کے جذبہ سے لبریز نظر آتا ہے ملک کی تحریک آزادی میں تقریبا دو لاکھ سے زیادہ مسلمان شہید ہوئے ہیں جس میں تقریبا 51 ہزار سے زائد علماء کرام ہیں لیکن آج مجھے ملک کی 72 / ویں یوم جمہوریت کے موقع پر بے حدافسوس کے ساتھ ساتھ بڑی فکر مندی ملک کے فرقہ وارانہ حالات کو لیکر ہے جہاں صرف اسام جیسی ایک ریاست میں گزشتہ سال تقریباً 19 / لاکھ لوگوں کو NRC کے چکر میں شہریت سے بے دخل کرنے کی شازس اور اس تجربہ کو پورے ملک میں آزمانے کیلئے نئے قانون کا وضع کرنے کا راگ الاپنا ، سیاست دانوں کے مکر و فریب ، مظلوموں کو انصاف کے حصول میں تاخیر ، گھر واپسی ، دہشتگردی کے نام پر بے قصور لوگوں کی گرفتاری، این آئی اے جیسی ایجنسیوں کے چھاپے کا آغاز ، وندے ماترم اور برہمنی تہذیب کا تسلط ، مسلمانوں کے نام پر آباد شہروں ، نیم پلیٹ لگے سڑکوں ، ریلوے اسٹیشنوں کے ناموں کو بدلنے ، مسلم اداروں کے اقلیتی کردار پر حکومت کی تلوار کا میان سے باہر نکلنا ، نکاح، طلاق، حلالہ، تعدد ازواج، بابری مسجد وغیرہ کے بعد اب شرعی قوانین و دیگر مساجد پر نشانہ سادھ کر اس کو ہتھیانے ، مسلمانوں اور ان کے مذہب کو بدنام کرنے تک کی شازس میں حکومتوں کا فریق کا کردار نبھانا، گائے رکچھا کے نام پر ظلم و زیادتی جبکہ اس کے کھانے والوں میں عیسائی، یہودی، قبائلی اور جنوبی ہند کے ہندو بھائی بھی شامل ہیں اور بیف کی سپلائی اور ملک کی بڑی بڑی فیکٹریوں کے مالکان غیر مسلم احباب ہیں، فرقہ پرستی کے جذبات کا کھلا مظاہرہ اور اس پر حکومت کی مصلحت پسند دوہری پالیسی اور ملک کی آزادی اور آزادی کے بعد ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے مسلمانوں کی قربانیوں اور عظیم کارناموں کو حرف غلط کی طرح مٹانے جانے کی شازسوں کے نظارے اور مشاہدے افسوس ناک ہیں تو ساتھ ہی کرونا یعنی ( کووڈ 19 ) کا شور پھر ملک کی معیشت اور عوام پراس لاک ڈاؤن کا ڈنڈا اور اب مرکزی حکومت کے ذریعہ پاس کردہ تین زرعی بِلوں کے خلاف جاری کسانوں کی ملک گیر تحریک کیا لمحہ فکریہ نہیں ہے ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ عظیم مجاہد آزادی مولانا عبیداللہ سندھی جب اپنی زندگی کے آخری دنوں میں کافی پریشان نظر آتے تھے تو ایک دن ان کی دختر نے ان سے سوال کیا کہ ” ابًا جان ! اب انگریز جانے والا ہے آزادی قریب ہے پھر بھی آپ پریشان نظر آتے ہیں ؟ تو مولانا سندھی نے فرمایا کہ بیٹی! آزادی ملنے کی خوشی سے زیادہ پریشانی اس بات کی ہے کہ انگریز جن ہاتھوں میں آزادی دے کر جانے والے ہیں آنے والے دنوں میں لوگ کہیں گے کہ اس آزادی سے انگریز کی غلامی اچھی تھی ” ٹھیک یہی بات آج حرف بحرف صادق ہے آج ملک کے اقتدار پر جلوہ افروز سیاست دانوں کے زبان و دل میں کتنا بڑا فرق ہے ہر کوئی دیکھ رہا ہےحالانکہ ملک کا زمام اقتدار سنبھالتے ہی اپنے پہلے جذباتی خطاب میں عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی صاحب نے کہا تھا کہ کسی کو بھی کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی اور مذہب و فرقہ کے نام پر جارحیت مچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ہر حال میں قومی یکجہتی کو برقرار رکھا جائے گا سب کا ساتھ سب کا وکاس سب کا وشواس حکومت کا عزم ہے مسلمانوں کو پچھڑے پن اور پسماندگی سے نکالنے کے لیے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں کمپیوٹر دیا جائے گا مگر دیکھیئے ان باتوں پر کتنا عمل ہوا ؟ اقتدار کے ذمہ دار عہدے پر براجمان لوگ، آئین و دستور کی بالادستی کی حفاظت کا حلف لینے والے یوپی کے وزیراعلیٰ مذہب کی آڑ میں گیڑوا رنگ کا کپڑا پہن کر ، ماتھے پر قشقہ اور گلے میں ہار ڈال کر کیا کر رہے ہیں اور کیا بول رہے ہیں ذرا ٹھنڈے دل سے سب مل کر سوچئے ! کیا ایسے ہی منفی افکار و نظریات کے فروغ سے ملک آگے بڑھے گا ؟ کیا اس سے کٹرت میں وحدت کی مٹال قائم رہے گی ؟ اور صدیوں پرانی آپسی بھائی چارگی زندہ بچے گی؟ حقیقت یہ ہے کہ آج ملک کو ایک ایسے ایماندار حوصلہ مند قائد کی ضرورت ہے جو جرآت اور یقین کے ساتھ آزادی کی حفاظت کرے اور ہر طرح کے تعصب، غلو، انتہاپسندی سے اوپر اٹھ کر کمزور، مظلوم و محروم طبقات کے لیے انصاف پر مبنی آزادانہ نظام کو مضبوط بنائے ایسے مشکوک و تکلیف دہ حالات میں صدر جمہوریہ و نائب صدر جمہوریہ دونوں پر خصوصاً ملک کی روح، آئین، جمہوریت، آزادی و سیکولر اقدار سے محبت رکھنے والوں کی نظر ہے کہ وہ آئین میں دیئے گئے حقوق کا تحفظ و احترام اور شہری آزادی کی بقا کے لئے وقتا فوقتا کیا کیا قدم اٹھارہے ہیں ملک کی 72 / ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر میں سب سے نیچے سطح کے ملازم چپراسی سے لیکر سب سے اوپر لائق احترام صدر جمہوریہ تک بلا اختلاف مذہب و ملت رنگ و نسل زبان و تہذیب اقلیت و اکٹریت سبھوں سے یہی کہوں گا کہ سب کی اَنا اپنی اپنی جگہ ! مگر ظلم و جبر ، نفرت و عداوت ، تشدد و عدم مساوات کے خلاف ایک آواز ہو کر جنگ آزادی کے متوالوں کی سوچ و فکر کے مطابق ملک کو دنیا کی سپر ترین جمہوریہ بنانے میں متحدہ و متفقہ کردار ادا کریں NPR , NRC , اور CAA کے لعنت سے ملک کو بچانے میں اپنا کردار نبھائیں اور ہم سب عہد کریں 2021ء میں ملک کو عظیم شکتی شالی راشٹر بنا کر سابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام کے خوابوں کا ہندوستان بنائیں گے جس طرح کل مجاہدین آزادی اور ہمارے اسلاف نے اپنے جان و مال کی عظیم قربانیاں دیکر ہمیں آزادی اور جمہوریت کی نعمت دی ہے اسی راہ پر چل کر ہملوگ بھی جمہوریت اور آزادی کی حفاظت کی خاطر کسی بھی طرح کی قربانیوں سے گریز نہیں کریں گے کیونکہ کثرت میں وحدت کی بقا اور مضبوط و متحد ہندوستان کیلئے جمہوریت و آئین کے بالادستی ضروری ہے