ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتکتاب کی فریاد

کتاب کی فریاد

کتاب کی فریاد

انظار احمد صادق

الحراء پبلک اسکول شریف کالونی، پٹنہ

رابطہ: 7091816277

     چار حروف” ک ت ا ب” سے بنا میرا نام کتاب ہے. مجھ سے اچھی کوئی شے نہیں، اگر مجھ سے اچھی کوئی شے ہے تو بتادو. مجھ کو پڑھ کر لوگ چاند پر جاپہنچے، آسمانوں میں اُڑنا سیکھا، سمندروں کی تہوں تک رسائی حاصل کی، زرّوں کا جگر چیر کر نئ نئی معلومات حاصل کی، پہاڑوں کا سینہ چاک کیا، منٹوں کا کام سیکنڈوں میں کرنے کا ہنر جانا، سائنس کی دنیا میں تہلکہ مچایا، میڈیکل کی دنیا میں اپنا نام روشن کیا، انجینئرنگ میں کمال حاصل کیا، اندھیروں میں روشنی کا ہنر دکھایا. الغرض کامیابی کے سارے راستے مجھ سے ہی معلوم کیے.

     موبائل فون اور کمپیوٹر تو آج کی ایجاد ہے، کل تک اس کا نام و نشان نہ تھا. آج اس کی ایجاد نے مجھ سے تم کو دور کردیا. موبائل فون کے چکر میں تم علم سے دور ہوتے جارہے ہو. مجھے خود پہ کم اور تم پہ زیادہ افسوس ہورہا ہے، بلکہ کبھی کبھی مجھے رونا آتا ہے کہ تم کہاں اُلجھ گئے؟؟؟

       عزیزو! میری فریاد سنو! کامیابی کی کلید میرے پاس ہے، موبائل فون میں تمہاری کامیابی نہیں ہے. میں یہ نہیں کہتی کہ موبائل فون نہ دیکھو، اسے ضرور دیکھو مگر پہلے مجھے دیکھو، پہلے مجھے اپنا دوست بناؤ، پہلے مجھے اپنے سینے سے لگاؤ، اپنے تکیہ کے نیچے مجھے رکھو، ویسے ہی جیسے تمہارے بڑے بزرگ رکھتے تھے. مجھے پڑھتے پڑھتے تمہارے اسلاف سوجاتے تھے، میں ان کا اوڑھنا بچھونا تھی.

      مگر آہ! تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ میں تمہارے گھر کی الماری سے جھانک کر دیکھتی رہتی ہوں کہ تم سوتے وقت موبائل فون لے کر سوتے ہو. سوتے وقت تمہاری انگلیاں موبائل فون کی اسکرین پر رقص کررہی ہوتی ہیں، تم اس وقت تک موبائل فون سے چپکے رہتے ہو جب تک کہ تھک ہار کر تمہاری آنکھیں سُرخ نہیں ہوجاتیں، پورے طور سے تم پر نیند کا غلبہ نہیں ہوجاتا یا پھر تمہارے موبائل فون کا ڈاٹا ختم نہیں ہوجاتا.

       عزیزانِ من! ہوش میں آؤ، خود کو تباہ ہونے سے بچاؤ، اپنے مستقبل کا گلا مت دباؤ، خود سے پیار کرنا سیکھو، تم کسی کے بنو نہ بنو کم از کم اپنا تو بنو، اگر تم نے مجھ سے منہ پھیر کر اپنا بننے کی کوشش نہیں کی تو دنیا ایک دن تجھ سے منہ پھیر لے گی، تمہارے والدین تک بھی تم سے منہ موڑ لیں گے.

       میرے جگر گوشو! میری سسکیوں کو سنو، سمجھو اور بوجھو! مجھ سے بڑھ کر تمہارا کوئی خیر اندیش نہیں، مجھ سے زیادہ تیرا کوئی خیر خواہ نہیں. تمہاری دل بستگی کا کون سا ایسا سامان ہے جو مجھ میں موجود نہیں؟ ذرا قریب تو آؤ، دل کی نگاہ سے تو دیکھو. میں دلچسپ کہانیاں سناتی ہوں، دین کی باتیں بتاتی ہوں، سائنسی معلومات سے آگاہ کرتی ہوں.

      تمہیں شاعری سے دلچسپی سے ہے؟ تو میں اچھی شاعری بھی سناتی ہوں۔ میں وہ ہوں جو ماضی میں لے جاتی ہوں اور مستقل میں بھی پہنچاتی ہوں. میں تحقیق کرکے ہمیشہ سچی باتیں بتاتیں ہوں۔ میں موبائل فون کی طرح غلط اور اَٹکل پچو باتیں نہیں بتاتی، میں کسی کی صحت خراب نہیں ہونے دیتی، میں کسی کی آنکھ کی روشنی نہیں چھینتی، میں کسی کا ذہنی سکون تباہ نہیں کرتی، میں ڈسچارج ہوکر کسی کو ذہنی اذیت میں نہیں ڈالتی. تم یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ آج تک میں نے کسی کو دھوکا دیا ہو، تم یہ بتا نہیں سکتے کہ میں کسی کے ہاتھ میں ہوں اور اس کو کسی نے نیچی نگاہ سے دیکھا ہو، کسی نے اس کو ڈانٹ پلائی ہو، کسی نے اس کو تھپڑ رسید کیا ہو، کسی نے اس کے بارے میں کبھی یہ کہا ہو کہ ” اس کے ہاتھ میں کتاب ہے، یہ تو برباد ہوجائے گا.” مگر جن لڑکے لڑکیوں بالخصوص طالب علموں کے ہاتھ میں موبائل فون دیکھے جاتے ہیں تو اچھے لوگوں کا کیا کہنا ہوتا ہے یہ میں نہیں کہہ سکتی، تمہیں خوب پتا ہے. اتنا ہی پر بس نہیں، تم یہ بات بھی ثابت نہیں کرسکتے کہ میں کسی کے ہاتھ میں ہوں اور اس کو اس کے والدین نے مارا پیٹا ہو، مگر موبائل فون استعمال کرنے والے کو میری نظروں نے مار کھاتے اور پٹتے دیکھا ہے. اپنے بارے میں تجھے کیا کیا بتاؤں، بس اتنا جان لو کہ میں جس کے ہاتھوں میں ہوتی ہوں اس کو ہونہار کہا جاتا ہے، اسے ذی شان سمجھا جاتا ہے، کیونکہ میں کوئی ٹچ اسکرین والا موبائل فون نہیں، بلکہ میں ایک کتاب ہوں.

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے