“کب سے بکھر رہا ہوں مجھے اب سنبھال بھی، محمد جسیم الدین حسامی

39

ارریہ
سیمانچل کا علاقہ صدیوں سے پاکیزہ معاشرے کا امین رہا ہے
لیکن اب حالات بدل گئے اب یہاں سب کچھ ہورہا ہے
نئی جنریشن میں نشہ خوری کی لت اباحت پسندی کے نئے باب جنم دیا ہے مسلم سماج اور معاشرے میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان کسی مہلک وبا سے کم نہیں یہ ایک ایسی تباہ کن بیماری ہے جس میں نفسانی اور جسمانی مسائل کی سنگینی اندوہناکیت کا پیدا ہونا عام سی بات ہے شب و روز نشہ خوری کے تباہ کاریاں اور بربادی کے فسانے ہم تک صرف اخباروں اور شوشل میڈیا کے ذریعہ ہی نہیں پہونچتی بلکہ اپنی نظروں سے منشیات کے عادی لوگوں کی غیر ذمہ دارانہ حرکتیں دیکھکر عزت دار سماج میں رہنے والے لوگوں کا جینا دوبھر ہوگیا ہے
منشیات کی لت ایک ایسی لعنت ہے جو سکون کے مکرو دجل سے شروع ہوتی ہے اور زندگی کی بربادی پر ختم ہوجاتی ہے۔ منشیات کا بے محابا استعمال صرف بڑے تعلیمی اداروں اور بڑی سوسائٹی میں ہی نہیں بلکہ عوامی جگہوں پر بھی اسکا استعمال ایک فیشن کے طور پر کئے جانے لگا ہے گاؤں میں مزدوری کرنے والے کے بچے بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ آئے دن اسکے مضر اثرات نمایاں طور پر نظر آرہے ہیں ۔ راہ چلتے چھوٹے بچے بھی سگریٹ کا دھواں اڑاتے ہوئے زندگی کی سکون اسمیں تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔
حالانکہ ایسے ایسے واقعات منظر عام پر آچکے ہیں کہ درس عبرت کیلئے یہ واقعات کافی ہیں۔
” گٹکھا بنانے والی کمپنی کا مالک کینسر میں مبتلا:
کئی برسوں سے گٹکھا بنانے کا کاروبار چلا رہے 52 سال کے وجے تیواری خود ہی منہ کے کینسر کا شکار ہوگئے ہیں منہ کے کینسر سے جوجھتے ہوئے چھ کیموتھراپی اور 36 مراحل کے ریڈیشن کے دردناک تجربے کے بعد تیواری نے اپنے پھلتے پھولتے اس کاروبار کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے تیواری کا کہنا ہے کہ گٹکھےکےپیداوار کے دوران زعفران الائچی وغیرہ کے فلیور کے بجائے سستے کیمیکل کا استعمال کیا جاتا ہے گٹکھے کی کوالٹی جانچ کے لیے اسے مسلسل چکھنے کی وجہ سے اس کی لت لگ گئی اور کینسر کا شکار ہوگیا 2011 میں جب تیواری کو منہ کے کینسر کا پتہ چلا تو انہوں نے گٹکے میں استعمال ہونے والا خوشبو بنانے کے اپنے کاروبار بند کرنے کا فیصلہ کیا کا
تیواری کا کہنا ہے کہ کا کاروبار چلانے والوں کو دھوکا دینا پڑتا ہے تیواری کا کہنا ہے کہ آپ کیا سوچتے ہیں اصلی زعفران فلیور والا گٹکھا صرف ایک روپے میں مل جائے گا ؟تیواری بتاتے ہیں کہ ایک کیلو زعفران کی قیمت ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے ہے لیکن اس کی جگہ جس کیمیکل کا استعمال کیا جاتا ہے اس کی قیمت محض تیئیس سو روپے فی کلو ہے الائچی کی قیمت انیس ہزار روپے فی کلوگرام ہے جبکہ اس کا فلیور پندرہ سو روپے میں مل جاتا ہے،لاکھ روپے قیمت والے روح گلاب کے بجائے پچیس ہزار روپے کے فلیور سے کام چلایا جاتا ہے اصلی اور نقلی چیزوں کے دام میں اتنا بڑا فرق ہوتا ہے اس لئے کوئی بھی گٹکھا بنانے والی کمپنی اصل خوشبو کا استعمال نہیں کرتی ہے۔
تیواری نے اپنی مصنوعات کو چیک کرنے کے مقصد سے گٹکا کھانا شروع کیا تھا تھوڑے ہی دن بعد وہ گٹکا کھانے کے عادی ہوگئے اور روزانہ تقریبا پچیس پیکٹ کھانے لگے کینسر ہو جانے کی وجہ سے سرجری سے اب تیواری کا چہرہ بگڑ چکا ہے اب انہوں نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ گٹکھا انڈسٹری نہیں چلائیں گے۔ اب انہوں نے گٹکھا کے لئے خوشبو کے بدلے عطر بنانے کا کاروبار شروع کیا ہے (روزنامہ سہارا ممبئی 17 دسمبر 2014 ص2)”
بچوں کے تئیں والدین کی بے التفاتی اور تغافلانہ رویوں کی وجہ سے دن بدن نشہ خوری کے دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں والدین اپنی مصروف زندگی میں سے کچھ وقت اپنے بچوں کو بھی دیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔۔۔کہاں جاتے کس سے ملتے ہیں۔ بعض مرتبہ تو غلط صحبت ملنے سے نشے کے عادی ہوجاتے ہیں۔کئی اپنے مسائل سے ڈر کر اور کئی حقیقت سے راہ فرار حاصل کرنے کے لئے بھی نشہ کا سہارا لیتےہیں نشہ کا شوق وقت کے ساتھ ساتھ ضرورت بن جاتی ہے اور اس طرح وہ شخص مکمل طور پر نشے کاعادی بن جاتا ہے۔ پھروہ شخص ہر وقت نشے میں بد مست رہنے لگتا ہے پھر اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے ہر وہ کام کرنے لگتا جسکی سماج اور معاشرے میں کوئی جگہ نہیں اور اس طرح اچھا بھلا تندرست صحت مند انسان اپنی زندگی کو تباہی کی دہلیز پر لا کر کھڑا کر دیتا ہے ۔
منشیات کی عادت ایک روحانی اور سماجی مرض ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں اس کے خلاف آواز اٹھائی جاری ہے، لیکن اس کے باوجود اس میں دن بہ دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ آخر کیوں؟؟؟
منشیات ایک ایسا میٹھا زہر ہے جو انسان کو دنیاو آخرت سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ اس کو استعمال کرنے و الا ہر شخص حقیقت سے راہ فرار حاصل کرتا ہے اور خیالوں میں بھٹکتا ہے۔منشیات کا نشہ پہلے پہل ایک شوق ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ ضرورت بن جاتی ہے۔ نشےکا عادی شخص درد ناک کرب میں لمحہ لمحہ مرتا ہے۔ اس کی موت صرف اس کی نہیں ہوتی بلکہ اس کی خوشیوں کی خواہشات کی تمناؤں کی بھی موت ہوتی ہے۔ پہلے تو یہ سمجھا جاتا تھا کہ کوئی اگر نشہ کرنا شروع کرتا ہے تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ، کوئی واقعہ، مایوسی، محرومی اور ناکامی کا کوئی پہلو ہوتا ہوگا لیکن میرے گاؤں کے ان نوجوانوں کے ساتھ تو ایسا بالکل بھی نہیں ہوا ہے پھر وہ کیوں نشہ کے عادی ہوئے ؟ جس طرح چوک چوراہوں پر بڑوں کو چائے پیتے دیکھ کر بچوں کو چائےپینے کا شوق ہوتا ہے آج ٹھیک اسی طرح چھوٹے بڑے سب نشیلی ادویات کا استعمال کر رہے ہیں۔
آج کل نئے نئے فلیور میں نشہ آور چیزیں دستیاب ہوتی ہیں۔لیکن یہ نشہ انسان کی صحت کو خراب کرنے کے ساتھ ذہنی طور پر مفلوج کر دیتا ہے۔نشہ بیچنے والے دلال، لوگوں سے، قوم سے، نئی نسل سے پیسے بٹور کر ان کو تباہی کے طرف ڈھکیل دیتے ہیں۔ نسلیں تباہ ہو رہی ہیں ہو جائے اُن کی بلا سے انہیں تو صرف نوٹ بٹورنے ہیں۔ آپ نظر اٹھاکر دیکھئے نشیلی ادوایات کےخریدوفروخت میں آپ کو چھوٹی موٹی دوا کی دکان والے سے لیکر کرانہ کی دکان والے تک ملوث نظر آئینگے۔
چائے کی دکان بہترین اڈہ ہے ڈھونڈنے والے کو ہر بستی میں کئی دکانیں چائے کی مل جائینگی جہاں بیٹھ کر لوگ شوق سے گانجہ کاٹتے ہیں چلم بھرتے ہیں چائے کے گلاس میں ہی کوریکس کو انڈیل کر پیتے بھی ہیں۔کوئی کچھ کہنے والا نہیں ہوتا بیچنے والا بیچ کر خوش ہے استعمال کرنے والا استعمال کرکے خود کو بادشاہ وقت سمجھتا ہے۔ باقی رہ گئے وہ لوگ جو نہ تو بیچتے ہیں نہ خریدتے ہیں بلکہ دیکھتے ہیں ایسے لوگ دیکھ کر خاموش رہتے ہیں کہ ان کی مرضی وہ جو چاہے کرے میں کون ہوتا ہوں روکنے والا جب اس گاؤں کے اس بستی کے بڑے لوگ ذمہدار لوگ کچھ نہیں بولتے ہیں تو میں کیوں جھگڑا مول لوں۔مکھیا ممبر سرپنچ سمیتی سب لوگوں کو پتہ ہوتا ہے کہ کہاں کیا ہو رہا ہے اس کے باجود کوئی آواز نہیں اٹھاتے ایسے لوگوں کو یاد رکھناچاہئے آگ لگتی ہے تو کئی گھر زد میں آ جاتے ہیں آج آپ کی خاموشی کل آپ کے بچوں کو بھی منشیات کا عادی بنا دے گا
اسلئے ابھی بھی وقت ہے ذمہ داران قوم و ملت اسکے سد باب کے لئے اٹھ کھڑے ہوں بالخصوص وہ ملّی و فلاحی تنظمیں جنکے پاس اس طرح کے حالات سے نمٹنے کے لئے مستقل حکمت عملی دستیاب ہے ارریہ کی دعوتی ، اصلاحی ، فلاحی ، اور ملّی ادارے منشیات کے سد باب میں ایک کلیدی رول ادا کرسکتے ہیں جسمیں جمیعتہ علما ارریہ ، امارت شرعیہ پٹنہ اور ڈھیر ساری دیگر تنظمیں جو ارریہ اور اسکے اطراف و اکناف اپنی خدمت انجام دے رہے ہیں اسلئے آج ضرورت ہے نشہ خوری اور اسکے بھیانک یلغار سے ملت کے نوجوانوں کو محفوظ رکھنے کے لئے معقول اور منظم حکمت عملی بروئے کار لائی جائے تاکہ وقت رہتے اس سماجی لعنت پر قابو پانے کے لئے ہمیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ساتھ ہی
منشیات پر قابو پانے کے لئے قوم اور سماج سے باصلاحیت اور تجربہ کار افراد کا پینل کی تشکیل دی جائے جو منشیات کے عادی افراد کو دینی سماجی اور ملی خسارے سے روشناش کرانے میں کامیابی حاصل کر سکیں منشیات کے خلاف عوام میں بیداری اور شعور پیدا کرنے کے لئے والدین اساتذہ، علماء ، اہل قلم اور صحافی حضرات کو چاہیئے اس سماجی اور معاشرتی وبا کے خلاف میدان عمل اتریں اور اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پر عزم ہوں۔
آخری بات یہ کہ قرآن و سنت کی تعلیم کو عام کریں مساجد سے رشتہ جوڑیں انہی کے ذریعے منشیات کی نفرت دلوں میں قائم ہو سکتی ہے منشیات فروشوں کو خواہ وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہو قابل نفرت سمجھا جائے اور ان کا سوشل بائیکاٹ کیاجائے۔
دِل کو حصارِ رنج و اَلم سے نِکال بھی
کب سے بکھر رہا ہوں مجھے اب سنبھال بھی۔