ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتکام کے طریقے

کام کے طریقے

کام کے طریقے ____

✍️‌مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

 ہم جب کسی کام کو شروع کرتے ہیں ، یا کسی تقاضے کو پورا کرنے پر آتے ہیں تو ہم میں بڑا جوش وجذبہ ہوتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ دنوں کاکام گھنٹوں اور گھنٹوں کا کام منٹوں اور سکنڈوں میں کر ڈالیں، اس جذبہ سے کام تیزی سے آگے بڑھنے لگتا ہے، وقت گذرنے کے ساتھ ہم اس جذبہ وجوش کو باقی نہیں رکھ پاتے، جس کی وجہ سے یاتو کام میں سست رفتاری آجاتی ہے اور کبھی جوش وجذبہ کے سرد پڑجانے کی وجہ سے کام رک جاتا ہے، کام کوپھر سے رفتار دینے کے لیے ضروری ہے کہ ہدف روز کا مقرر کرلیں اور دھیرے دھیرے دن بھر میں اس ہدف تک پہونچنے کی کوشش کریں،اگر آپ نے تیز دوڑنا شروع کیا تو آپ جلد ہی تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے، اور ہدف ادھورا رہ جائے گا، آپ نے سنا ہی ہوگا کہ دھیمے چلنے والا کچھوا خرگوش کی اڑن چال پر غالب آگیا تھا۔

 اب اگر آپ کام کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے کام کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں ہم نے مقاصد کے اعتبار سے کم تر چیز کا انتخاب تو نہیں کر لیا ہے، اگر وہ کم تر نہیں ہے تو اس پر غور کرنا چاہیے کہ کام کا جوش وجذبہ کیوں اختتام پذیر ہوا اور کیوں زندگی پرانی لیکھ پر چلنے لگی، کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہم جس مقصد اور منزل کو پانے کے لیے یہ کام کر رہے تھے وہ ہماری ترجیحات میں نہیں تھیں، ہم ایسے ہی کسی کی ترغیب سے اس کام میں لگ گیے تھے، اگر ایسا ہے توفورا اس کام کو چھوڑ کر دوسرے کام کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے، اور اس کا سلوگن یہ ہونا چاہیے کہ’’ ہم چاہتے نہیں‘‘، ہمیں ہر قیمت پر یہ’’ چاہیے‘‘ آپ کی ’’چاہت‘‘ آپ کی خواہش کا مظہر ہے، جب کہ’’ چاہیے‘‘ آپ کے عزم بالجزم کی طرف اشارہ کرتا ہے،اور یہ بتاتا ہے کہ آپ اسے حاصل کرکے ہی دم لیں گے۔

 اس عزم کے پہلے اپنے کاموں کی فہرست سازی کیجئے، پھر ہر کام کے بارے میں اپنے ذہن ودماغ سے پوچھیے کہ اس کام کو آپ کیوں کرنا چاہتے ہیں، کام شروع کرنے سے پہلے جو مثبت اور منفی جواب ملے اس کو ایک نوٹ بک میں درج کرتے رہیں، پھر فیصلے سے پہلے ان اسباب ووجوہات کا جائزہ لیں اور جائزہ میںجو کام سمجھ میں آئے اس کا آغاز کر دیں، اس طرح آپ کسی کام کا آغاز شعوری طور پر کر سکیں گے، اور آپ کے جوش وجذبہ میں کمی نہیں آئے گی، اس کے برعکس اگر آپ نے بلا سوچے سمجھے کام کا آغاز کر دیا تو آپ کا دماغ اس سے متاثر ہوگا، اور دماغ سے چلنے والی لہریں ہی اعضاء وجوارح اور قویٰ کو متحرک رکھا کرتی ہیں، اور عمل پر ابھارتی ہیں،جب دماغ سے اعضا کو کوئی ہدایت نہیں ملے گی؛ کیوں کہ اس میں آپ کی دلچسپی نہیں ہے تو کام یا تو سست پڑجائے گا یا رک جائے گا۔

 آپ جب کام سے مطمئن ہوگیے تو ہتھیلی پر سرسوں جمانے کا کام مت کیجئے، کیوں کہ یہ نا ممکن ہوتا ہے، اپنے فیصلے کوعملی رنگ وروپ بخشنے کے لیے منصوبہ بندی کیجئے، منصوبہ بندی میں کام کے درمیان پیش آنے والی پریشانیوں اور مشکلات کا بھی خیال رکھیے، اگر آپ نے ان رکاوٹوں کو منصوبہ سازی میں ملحوظ نہیں رکھا تو ممکن ہے ان رکاوٹوں کے سامنے آنے سے آپ مضمحل اور دل بر داشتہ ہوجائیں اور کام سے آپ کا دل پِھر جائے، لیکن اگر آپ نے پہلے سے ان رکاوٹوں کو ملحوظ رکھا ہے تو آپ سوچیںگے کہ اس کام میں یہ رکاوٹ تو آنی ہی تھی، ہم اس کو دور کرکے آگے بڑھ سکتے ہیں، آپ سوچیں گے کہ راستے کبھی بند نہیں ہوتے، ہر بند راستے کے بغل سے ایک متبادل راستہ ہوتا ہے، ہم اس رکاوٹ کو متبادل راستے کا استعمال کرکے دور کرلیں گے اور منزل تک پہونچ کر دم لیں گے۔

 آپ نے جو بھی نشانہ مقرر کیا ہے، اس کو خود کلامی کے انداز میں دہراتے رہنا بھی آپ کی قوت عمل کو مہمیز کرتا ہے، ہر صبح جب اٹھیے تو معمولات سے فراغت کے بعد خود کلامی کے انداز میں کہیے کہ’’ ہم اس کام کو پایہ تکمیل تک پہونچانے کے لیے پابند عہد ہیں اور ہم انشاء اللہ ایسا کرکے رہیں گے‘‘ آپ محسوس کریں گے کہ آپ کی اس خود کلامی نے آپ کے اندر نئی توانائی اور طاقت پیدا کر دی ہے اور آپ پہلے سے زیادہ کام کی تکمیل کے سلسلے میں پُر عزم ہو گیے ہیں۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے