کامیاب مومن کی بامراد نماز

51

کامیاب مومن کی بامراد نماز

بہت دنوں سے ایک بات کھٹک ریی تھی وہ آج سوال بن کر سامنے آگئی ہے۔ایک صاحب نے مسجد سے نکلتے ہی پوچھ لیا ہےکہ مولوی صاحب! یہ مسجد میں ایک کنارے پہ کوئی کرسی پر بیٹھا ہے، تو کوئی دوسرے کنارے پر کھڑا ہے اور سر کھجا رہا ہے،یہ کہاں تک صحیح اوردرست ہے؟کیانماز پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا ہے؟کیا یہی وہ نمازہے جس پر کامیابی لکھی گئی ہے اورایک کامیاب مومن کی نمازکہلائی جاسکتی ہے؟۔
عمومادیکھنے میں یہ آیا ہے کہ شہروں کے لوگ بہت احتیاط کرنے والے ہوتے ہیں یامحتاط لوگ شہروں میں بستے ہیں ،مگر آج کا مطالعہ یہ کہتا ہے کہ دیہات والے بھی کسی سے کم نہیں ہیں ۔اپنے گھر پر وہ خواہ جیسے بھی رہتے ہوں شہر میں آنے کے بعد ان کا انداز کچھ اور ہوجاتا ہے۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ہمارے یہاں ضلع ارریہ کی جامع مسجد میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے نماز کی صفوں میں سفید پٹی ڈال دی گئی ہے، اس کا مقصددو نمازیوں کے درمیان کچھ فاصلہ رکھناہے۔اچانک ایک صاحب جودیہات سے آئے تھے اس درمیان آکر کھڑے ہوگئے ،جب ان سے اشارہ میں کہا گیا کہ سفید پٹی کا خیال کریں اور اسی پر کھڑے ہوں تو موصوف بہت دور چلے گئے،اور اتنا فاصلہ بنالیا کہ کسی بھی مسجد کے منتظم نے خواب میں بھی یہ سوچا نہ ہوگا۔ یہ سب کچھ ہورہا تھا کہ امام صاحب نے رکوع کی تکبیر کہ دی، اور ہم سب رکوع میں چلےگئے۔
آج کل نماز میں بڑوں سے بھی عجیب وغریب حرکتیں سرزد ہورہی ہیں جو ہم سب بچپن میں کیا کرتے۔
ایک نمازی کو میں نے دیکھا کہ وہ سر آسمان کی طرف اٹھارہے ہیں اور پھر نیچے جھکا بھی رہے ہیں، اسی درمیان زور کی آوازان کے منھ سے ہوگئی، اسے سنکر قریب کےنمازی لرزہ براندام ہوگئے۔یہ موصوف کا نمازی ڈکار تھا۔
پہلے نمازکی صفوں میں لوگ مل مل کرکھڑے ہوتےاور شانہ سے شانہ ملائے رکھتے،لیکن آج دونمازیوں کے درمیان فاصلے نے ایک اور ایک نئی بیماری نمازی کےاندر پیدا کردی ہے۔مکتب کے بچوں کی طرح اب وہ نماز کی حالت میں ہلنے لگے ہیں ،میرے ناقص خیال میں اس احتیاطی فاصلے کا اسمیں بڑا دخل ہے،وہ اس لئے کہ دائیں بائیں لوگ دور میں کھڑے ہیں اور ظاہری رکاوٹ دائیں بائیں نمازی کی شکل میں ختم ہوگئی ہے اور عادت کانماز جیسی عبادت میں پھر داخلہ ہوگیا ہے۔میں نے ایک نمازی کو مکتب کے بچے کی طرح نماز میں ہلتے ہوئے دیکھا ہے۔اس سے آگے بڑھ استقلال ومتانت کی جگہ اب نمازی کے بدن میں نماز کی حالت میں اب ایک ہڑک سی محسوس کی جارہی ہے۔”الامان والحفیظ ”
ماحصل یہ کہ نمازیوں کے درمیان احتیاط کے نام پر اس فاصلہ نےبہت سے مسائل پیدا ہی نہیں کردئے ہیں بلکہ کھڑے کردئے ہیں۔ ایک نمازی اور اس کی نماز کے بیچ دوری بھی پیدا کردی ہے۔ اس پرسخت نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔
قرآن کریم کی سورہ “المؤمنون “میں کامیاب ایمان والے کی چھ صفات بیان کی گئی ہیں اور وہ یہ ہیں؛
(۱)خشوع وخضوع کیساتھ نمازیں پڑھنا،یعنی بدن اور دل سے اللہ کی طرف جھکنا۔(۲)باطل لغو اور نکمی باتوں سے علیحدہ رہنا۔(۳)زکوٰۃیعنی مالی حقوق ادا کرنا یا اپنے بدن، نفس اور مال کو پاک رکھنا۔(۴)شہوات نفسانی کو قابو میں رکھنا۔(۵)امانت وعہد کی حفاظت کرنا گویا معاملات کو درست رکھنا(۶)اور آخر میں پھر نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرنا کہ اپنے وقت پر آداب وشروط کی رعایت کے ساتھ ادا ہوں،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نماز کا حق تعالٰی کے یہاں کیا درجہ ہے اور کس قدر مہتم بالشان چیز ہےکہ اس سے شروع کرکے اسی پر ختم فرمایا۔(بحوالہ تفسیر
عثمانی )
مذکورہ سورت کے اندر کامیاب مومن کی نماز کے لئے خشوع وخضوع کو ضروری قرار دیا ہے بلکہ اسی پر نماز کی قبولیت ومقبولیت کا دار مدار بھی ہے۔
یہ خشوع کیا ہے؟
خوف وہیبت کے ساتھ کسی کے سامنے کھڑے ہوجانے کا نام خشوع ہے۔یہ اپنے کوسامنے والے کے سامنےپست کردینے کا نام ہے۔اسمیں تمام اعضائے انسانی کا عمل دخل ہوتا ہے۔حالت خشوع میں ایک انسان کا چہرہ، اسکی آنکھیں، اسکا سر، اس کی آواز وانداز سب کچھ الگ ہوتا ہے۔خاشع وہ ہے جواپنے بازو اور سر کو جھکائے رکھتا ہے،نگاہ نیچی کئے رہتا ہے، ادب کے ساتھ ہاتھ باندھ کر کھڑا رہتا ہے، ادھر ادھر تاک جھانک نہیں کرتا ہے، کپڑے اور ڈارھی سے نہیں کھیلتا ہے،اور نہ انگلیاں چٹخاتا ہے اور نہ ہلنے لگتا ہے۔یہ ساری چیزیں خشوع میں داخل ہیں، اور نماز میں بھی مطلوب ہیں۔ایک کامیاب مومن کی مقبول نماز کے لئے یہ ازحد ضروری ہیں۔مسئلہ کی رو سے یہ نماز کے لئے شرط کی حیثیت نہیں رکھتے مگر نماز کی قبولیت کے لئے لازم وضروی ہیں۔آج ہمیں تقریر وتحر کے ذریعہ اس جانب توجہ مبذول کرانے اورانہیں عمل میں لانے کی بھی شدید ضرورت ہے۔
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
رابطہ، 9973722710