ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم انوارالحق قاسمی

59

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
انوارالحق قاسمی
بلند پایہ عالم دین، مقبول مقرر، نامور صاحب قلم، زمانہ شناس سیاست داں، ازہر ہند دارالعلوم/ دیوبند کے رکن شوریٰ، ممبر پارلیمنٹ، آل انڈیا ملی کونسل کے نائب صدر ،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کےاہم رکن، تقریبا 165/ پرائمری تعلیمی اداروں کے بانی، اور آل انڈیا تعلیمی وملی فاؤنڈیشن کے مؤسس، اپنی سادگی، منکسرالمزاجی اور ملنساری کی بدولت ہر طبقہ کے لوگوں میں انتہائی مقبول انسان حضرت مولانا محمد اسرار الحق صاحب قاسمی بتاریخ 7/ دسمبر 2018 ء بروز جمعہ صبح تین بجے کشن گنج ہی میں اچانک اور یکایک مسافران آخرت میں شامل ہوگئے: انا للہ و انا الیہ راجعون۔
حضرت مرحوم جس سال اور جس دن اس دار فانی سے رخصت ہوئے، اس سال راقم دارالعلوم /دیوبند میں “شعبہ شیخ الہند” کا ایک طالب علم تھا۔
7/ دسمبر کی صبح جب ناچیزباوضو ہوکردارجدیدکمرہ نمبر 88/سے نماز کے لیے مسجد کا رخ کیا،توہر طرف سےبس ایک ہی صدا کانوں سے ٹکرانے لگی کہ آج رکن شوریٰ دارالعلوم/ دیوبندوممبر پارلیمینٹ اس دنیاکو خیرآباد کہہ چکے ہیں ۔
اس افسوس ناک خبر نے دل ودماغ کو کافی متاثر کیا اور اس روز ناچیز بہت ہی مغموم رہا،اورطلبہ دارالعلوم /دیوبند نے مرحوم کےلیے ایصال ثواب کا اہتمام کیا اور ان کی مغفرت کے لیے خوب دعائیں کی۔
حضرت 15/ فروری 1942ءکوتارا باری کشن گنج میں پیدا ہوئے ۔
ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دنیا کی ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم/ دیوبند تشریف لے گئے اور وہیں سے سند فراغت حاصل کی ۔
دوران طالب علم آپ کا شمار ہمیشہ ممتاز طلبہ میں رہا ہے ،اساتذہ اور طلبہ کی نظروں میں آپ بے حد مقبول تھے۔
آپ کے دل میں عوام کا درد بہت ہی زیادہ تھا اسی لئے آپ فراغت کے بعد ملی و سماجی امور میں منہمک ہوگئے اور خدمت خلق کا پورا پورا حق ادا کرنے کوآپ اپنافریضہ سمجھنے لگے۔
جب اس کی خبر علماء ہند کے ارباب اختیار تک پہنچی کہ حضرت مولانا محمد اسرارالحق صاحب قاسمی ایک نئے جذبہ اور ولولہ کے ساتھ خدمت خلق کا فریضہ بحسن خوبی انجام دے رہے ہیں،اورانہیں ملی وسماجی امور سے کافی دلچسپی ہے اور ہر کام کو باحسن وجوہ انہیں کرنے کا سلیقہ آتا ہے ،توجمعیت کےارباب حل و عقد نے انہیں جمعیت کی خدمات کے لیے منتخب کر لیا۔
چناں چہ حضرت مولانا محمد اسرار الحق صاحب قاسمی نے جمیعت کے لیے منتخب ہونے کے بعد سے ایک لمبی مدت اور عرصہ دراز تک جمیت کے لیے بے شمار خدمات انجام دی ہیں، یہی وجہ ہے کہ “جمعیت علماء ہند “پر آپ کےبےشمار احسانات ہیں۔
آپ کا سیاست سے کافی گہرا ربط رہا ہے اورآپ سیاست کے نشیب و فراز سے بخوبی واقف تھے۔
حضرت ایک ایسے الیکشن کے موقع سے ان گنت ووٹوں کے ذریعہ جیت حاصل کی ہے،جب کہ اس موقع سےہرایک کادل وماغ کانگریس پارٹی سے رٹھ چکا تھا اورہرایک” بی جے پی” ہی کا ترانہ گنگنا رہا تھا ایسے عام انتخابات کے موقع پر بہار کے ضلع کشن گنج سے دو لاکھ ووٹوں کے ذریعہ حضرت مولانا محمد اسرارالحق صاحب قاسمی نے بے مثال کامیابی حاصل کی۔
دیگر ریاسات اوراضلاع کی عوام سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ آخرہرریاست کے ہر ضلع میں تقریبا “بی جے پی” نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اور “کانگریس” بدترین شکست سے دوچار ہوئی ہے اور “ہوا “بھی ایسی ہی چلی تھی کہ ہر ایک یہی کہہ رہا تھا کہ اس دفعہ “بی جے پی “کی حکومت برسراقتدار آئے گی اور اسی کی حکومت آئی بھی، مگر صوبہ بہار کے ضلع کشن گنج سے حضرت مولانا محمداسرارالحق صاحب قاسمی کا معمولی اور محدود وسائل کے باوجود اس طرح نمایاں کامیابی حاصل کرنا کچھ تو معنی ضرور رکھتا ہے۔
واقعی ان کے اندر کوئی زبردست طاقت ضرور پنہاں ہے، جس کی بدولت وہ اس” ہوا “کے رخ میں بھی بےمثال کامیابی حاصل کی ہے۔
حضرت کے اندر پنہاں وہ مضبوط طاقت عمدہ اخلاق تھا، جس کی بدولت وہ ضلع کشن گنج کی عوام پر حکمرانی کر رہے تھے۔
ایسا بھی نہیں کہ حضرت سےصرف مسلمان ہی خوش تھے اور مسلمان ہی انہیں کامیاب بنائے تھے، بل کہ جس طرح حضرت سے مسلمان خوش تھے،اسی طرح غیر مسلم بھی خوش تھے اور جس طرح مسلمان انہیں خوشی خوشی “ووٹ “دیے اور دیتے تھے اسی طرح غیر مسلم بھی۔
اور حضرت بھی بلا تفریق مسلک و ملت ہر ایک کے لیے اچھا سوچتے اور اچھا کام کرتے تھے،جس کی وجہ سے ہرایک آپ سے خوش رہتے تھے، یہی وجہ تھی کہ لوگ آپ کوہر دلعزیز قائد کہتے تھے۔
وہ کون سی خوبیاں تھیں، جن کی وجہ سے حضرت مولانا محمد اسرارالحق صاحب قاسمی ہردلعزیز قائد بنے۔
توآپ کو بخوبی معلوم ہے کہ موجودہ دور میں اکثر سیاسی لیڈر میں چند وہ اہم اور بڑی خامیاں پائی جاتی ہیں، جن سے عموما لوگ نفرت کرتے ہیں مثلا:ہرایک سیاسی لیڈر سوباتوں میں سے کبھی کبھار دھوکہ سے ایک سچ بول دیتاہے ، یعنی وہ کذاب اور بہت ہی بڑا فراڈی ہوتاہے، اسی طرح سے بہت ہی بڑا دھوکہ باز ہوتا ہے: یعنی سو وعدوں میں سے شاید و باید ہی کوئی ایک وعدہ پورا کردیتا ہے،اسی طرح وہ جائز اورحرام مالوں کےمابین تمیز نہیں کرتا ہے:یعنی وہ ہر مال کو جیسے اور جس طرف چاہے استعمال کرتا ہے۔
الغرض دنیا کی ہر خامی اور ہر برائی موجودہ دور کے اکثر و بیشتر سیاسی لیڈر میں پائی جاتی ہیں۔
مگر ہمارے قائد اور بے مثال سیاسی لیڈر حضرت مولانا محمد اسرارالحق صاحب قاسمی موجودہ دور کے سیاسی لیڈر میں پائی جانے والی برائیوں میں سے ہر ایک برائی اور خامی سے بہت دور تھے، یہی وجہ تھی کہ آپ عوام کی نظروں میں محبوب تھے۔
حضرت بے انتہا متواضع، منکسر المزاج،سادگی پسند،صدق گو، وعدوں کے بہت ہی پکے اور سچے تھے،حلال و حرام مال کے مابین گمان سے بھی زیادہ تمیز کرنے والے ایک اچھے لیڈر تھے۔
حضرت کوکشن گنج کے مسلمانوں کی حالت زار پر بہت ہی زیادہ رحم آیا اوردیکھا کہ یہاں مسلمانوں کی کثرت ہے؛ مگر افسوس کہ یہاں کے مسلمان تعلیم سے وہم و گمان سے بھی زیادہ دور ہیں ۔
چناں چہ حضرت نے مسلمانوں میں تعلیمی بیداری قائم کرنے کے اورعلاقہ کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے ایک دو نہیں؛ بل کہ سیکڑوں مدارس و مکاتب قائم کیے ،جس کی بناآج تقریباایک بڑے پیمانہ پر مسلمان تعلیم یافتہ ہوچکے ہیں، یہ سب بس حضرت کے حسین خوابوں کی تعبیر ہے۔
حضرت کے عظیم کارناموں میں سے دو عظیم سے عظیم تر کارنامہ نمبر (1) کشن گنج میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سینٹر کا قیام اور نمبر (2) آل انڈیا تعلیمی وملی فاؤنڈیشن کی تاسیس ہے، حضرت تعلیمی کارناموں کی وجہ سے ایک زمانہ تک یاد کیے جائیں گے۔
مرحوم ایک سیاسی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک زبردست خطیب بھی تھے ،جس عنوان اورجس موضوع پر حضرت کو بولنے کا موقع ملتا تھا، اس پر بڑے ہی دلجمعی اور سکون کے ساتھ، ایک نرالے انداز میں بہت ہی اچھا بولتے تھے ، دوران خطابت سامعین پر چھا جاتے تھے اور ان کے دل و دماغ میں حرف بحرف علمی مواد ثبت کر دیتے تھے۔
اورحضرت سیاسی لیڈر و خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بے مثال انشاءپرداز بھی تھے ،حضرت اکثر و بیشتر اسلامی و اصلاحی مضامین لکھاکرتے تھے، ہر جمعہ کو ہندوستان کے مختلف اخبارات میں حضرت کا باضابطہ کالم چھپتا تھا اورسیکڑوں یک ماہی،سہ ماہی ، ششماہی رسائل و مجلات میں بڑے ہی آب وتاب کےساتھ مرحوم کے مضامین شائع ہوتے تھے۔
حضرت بہت ہی عمدہ اسلوب میں مضامین لکھتے تھے، قاری اس وقت تک آپ کا مضمون پڑھتا ہی رہتا تھا، جب تک مضمون اختتام کو نہیں پہنچ جاتا تھااورقاری تحریر مکمل پڑھنے کے بعد ایک نتیجہ اخذ کرتا تھا اور پھرحضرت کےلیےدل سے دل کھول کر دعائیں کرتا تھا، بہت سے لوگ توآپ کی تحریرکا انتہائی شدت سے انتظار بھی کیا کرتے تھے،یہ ہے حضرت کی تحریر کی مقبولیت کاعالم۔
عموما سیاسی لیڈر صوم و صلوۃ کے پابند نہیں ہوتے ہیں؛ مگر حضرت بے پناہ سیاسی مصروفیات کے باوجود بھی وقت معینہ پر پانچوں نمازیں اور تہجد وغیرہ بھی پڑھنے کے پابند اور عادی تھے۔
نماز کے معاملہ میں معمولی کوتاہی بھی نہیں کرتے تھے، بروقت اورہرنماز جماعت سے پڑھنا ان کا خاصہ تھا۔
ایک سیاسی لیڈر کے لیے نمازباجماعت اور تہجد پڑھنے کا عادی ہونا یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔
الغرض اللہ رب العالمین نے حضرت کو پڑھنے لکھنے کا ذوق عطا کیا تھا اسی طرح حضرت کے قلب کو خدمت خلق کے جذبے سے معمور کردیا تھا۔
موجودہ دور میں حضرت جیسا سیاسی لیڈر کا پایا جاناعنقا ہے، اور حضرت اس تعبیر کے مکمل مصداق نظر آتے ہیں: ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔
اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے درجات بلند فرمائے اورامت کوحضرت کانعم البدل عطافرمائے،آمین۔