ڈراؤنی خبر!! میں کیوں ڈروں؟

38

تحریر :خورشید انور ندوی
عالمی سطح پر ایک تحقیقی ادارہ ہے جو نسل کشی کے امکانی خطرات اور ان کے اثرات پر مصروف تحقیق رہتا ہے.. اس کا نام جینوسائڈ واچ ہے.. ساری دنیا اور انسانی آبادی کے سارے علاقے اس کی تحقیق کا فوکس ہیں.. مذہبی لسانی ثقافتی گروہی ہر طرح کی نسل کشی اس کی تحقیق کا دائرہ ہے.. اس نے ہندوستان کا منظر بہت بھیانک پیش کیا ہے.. اس کا کہنا ہے ہندوستان میں 20 کروڑ مسلمانوں کی نسل کشی کی منصوبہ بندی ہے اور اس پر کام شروع ہوچکا ہے..

ہندوستانی مسلمانوں کے سر پر منڈلاتا یہ خطرہ امکانی نہیں بلکہ حقیقی ہے.. ان کی مذہبی شناخت مٹانے پر کام شروع ہوچکا ہے اور آگے کا مرحلہ قریب ہے.. یہ بات چونکہ ایک بین الاقوامی تحقیقی ادارہ کی طرف سے آئی ہے اس لئے رپورٹس میں ہیڈ لائن بھی حاصل کر چکی ہے.. لیکن دیکھا جائے تو ہمارے لئے یہ خبر نہیں ہے.. پلان ہے اور یہ سچ ہے کہ اس پر کام بہت پہلے شروع ہوچکا ہے.. زیادہ سچ تو یہ ہے کہ پچھلے بیس تیس سال سے کچھ ماحول پرسکون سا تھا ورنہ یہ کام 1947 سے چلتا ہی رہا ہے.. ایک بات ضرور قابل غور ہے کہ نسل کشی کا وہ مفہوم جو نسلی تطہیر سے مطابقت رکھتا ہے اور جرمنی کے ہٹلر پر یہودیوں کے خلاف اس کو نافذ کرنے کا الزام ہے.. شاید ویسا تو کبھی نہیں ہوا..

ہندوستان کے انتہاپسند ہندو اور دہشت گرد تنظیمیں جس طرح اب کھلے عام مسلم دشمنی کا پرچار کرتی ہیں اور ایک پر ایک اقدام کرتی جارہی ہیں،، ٹیررازم کاؤنٹر کے نام پر جس طرح کی قانون سازی ہوتی جارہی ہے.. نئے نئے ٹیگ تراش کر نئی نئی قانونی توسیع اور زیر تفتیش کیسز میں طویل المیعاد حراست کے آپشنز دئے جارہے ہیں.. وہ ایک غلط پیغام ضرور ہے.. بلکہ اس کو قانونی ٹیرر کا نام دینا مناسب ہوگا.. یہ سب ہورہا ہے.. اور ہم سے کہیں زیادہ بین الاقوامی ادارے اس کی مانیٹرنگ اور ٹریکنگ کررہی ہیں.. ہم اندرون ملک شاید اس خطرہ کو اندیشہ سمجھ رہے ہیں اور موجودہ جمہوری انتخابی نظام سیاست کو اپنے لئے ایک ڈھال تصور کرتے ہیں.. سچ یہ بھی ہے کہ یہ ڈھال اب ہزار رخنوں کی ڈھال بن چکی ہے.. اور اکثریت کی جارحانہ فرقہ پرستی اور بے لگام مسلم دشمنی کے آگے کمروز پڑ چکی ہے.. ہندوستان کے مسلمانوں نے بڑی غیر یقینی صورتحال میں بھی کبھی کسی مسلمان ملک یا مسلمان بین الاقوامی قوت کی طرف نہیں دیکھا.. اس میں اس کی حب الوطنی کا جذبہ جتنا بھی رہا ہو ملک دشمنی کی تہمت کا ڈر اس سے کہیں زیادہ رہا ہے.. ہمارے ملک کے انتہا پسند موجود حالات میں میانمار کی مثال سامنے رکھتے ہیں جہاں راکھیںن صوبے میں نسل کشی کی گئی اور ساری بین الاقوامی مذمت اور تشویش کے باوجود حالیہ الیکشن میں مسلمان اقلیت کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی اور ان کو جمہوری حق سے محروم رکھا گیا…بلکہ اس زیادتی کے نتیجہ کے طور پر سان سوجی کی حکومت کو کامیابی بھی مل گئی… اس لئے 57 سے زیادہ مسلمان ملکوں کی موجودگی سے ہمارا کوئی تحفظ بھی پر ضمانت بات نہیں ہوسکتا .. فلسطین کے مسلمانوں پر اسرائیل سے زیادہ ظلم کسی اقلیت اکثریت پر کہیں نہیں ہوا، لیکن اسی مذہب کے ماننے والے، اسی زبان کے بولنے والے، اسی جین اور ڈی این اے کے حامل خلیجی خواجہ سراؤں کے کام دیکھ لیں.. آج اسرائیل ان کے اعصاب پر سوار ہے.. اور عرب کی اعلی قحبہ گیری کو اب دنیا کی سب سے محفوظ اور ویلو ایڈڈ جسم فروشی کا سپورٹ ملنے جارہا ہے.. تل ابیب اور امارات کے درمیان سیاحتی کاروبار کی ہوڑ لگی ہے.. فلائٹ پر فلائٹ بک ہورہی ہیں اور اب بنکاک کا متبادل تل ابیب بنے گا… ان حالات میں آنے والے تنگ وقت میں مسلمان کدھر دیکھیں؟ پھر بھی مجھے ڈر نہیں لگتا.. بس ڈر اس سے لگتا ہے کہ تقریباً صدی سے میری مزاحمتی قوت سو گئی ہے.. اور میرے کاروان کے میروں نے مجھے سجدہ ریزی کے آداب تو خوب سکھائے، صف بندی اور قیام کا قرینہ نہیں سکھایا.. میرا ڈر بس یہی ہے!!