ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی طبی اور اسلامی نقطۂ نظر سےکورونا پر مذاکرہ

45

تلنگانہ میں ڈاکٹروں کی ایک تنظیم سرگرم ہے ، جس کا نام ہے :Doctors Association for Relief and Education(DARE)
اس نے کورونا کے موجودہ ماحول میں اس سے تحفظ کے سلسلے میں مسلمانوں میں بیداری لانے کے مقصد سے جماعت اسلامی ہند ، ریاست تلنگانہ کے اشتراک سے ایک آن لائن سمینار (Webinar) کا انعقاد کیا _ اس کا موضوع طے کیا گیا تھا : The ongoing pandemic and its Islamic perspectives (موجودہ وبا سے تحفظ _ اسلامی نقطۂ نظر سے) یہ ڈسکشن کل شب 9 بجے سے سوا 10 بجے تک چلا _ پینل میں ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر محمد عاطف اسماعیل کے ساتھ راقم کو بھی شریک کیا گیا تھا _ ڈاکٹر عاطف نے طبی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور راقم نے اسلامی نقطۂ نظر سے وضاحت کی _ ماڈریٹر ڈاکٹر نعمان رضوی تھے، جنھوں نے بہت خوب صورتی سے پروگرام چلایا _ تقریباً 150 ڈاکٹرس اس پروگرام میں شریک تھے _ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ایک تہائی تعداد خواتین ڈاکٹرس کی تھی _ اس ڈسکشن میں ہونے والی اہم باتوں کا خلاصہ ذیل میں پیش کیا جارہا ہے-

کورونا کو ایک سازش کی حیثیت سے پیش کیا جارہا ہے _ سازشی نظریہ کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر عاطف نے کہا کہ کورونا کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کہی جارہی ہیں ، ماہیت مرضی ، احتیاطی تدابیر اور علاج کے بارے میں اب تک قطعی معلومات سامنے نہیں آسکی ہیں ، لیکن اسے محض سازش قرار دینا درست نہیں ہے _

وبا کے بارے میں اسلامی تعلیمات کیا ہیں؟ اس سوال پر میں نے وضاحت کی کہ تعدیہ (Infection ) کو اسلام تسلیم کرتا ہے _ وہ مانتا ہے کہ بعض بیماریاں ایک شخص سے دوسرے کو لگ سکتی ہیں _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ “جذام زدہ شخص سے اس طرح بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو _” اس بنا پر متعدی اور وبائی بیماریوں کے معاملے میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے _

کورونا میں مرنے والوں کو میڈیکل اسٹاف ان کے اہل خانہ کے حوالے نہیں کرتا، بلکہ اسپتال سے سیدھے قبرستان لے جاتا ہے _ اس سلسلے میں آپ کیا کہیں گے؟ اس سوال پر ڈاکٹر عاطف نے وضاحت کی کہ اب تک کی معلومات کے مطابق کسی شخص کے مرنے کے بعد اس سے وائرس دوسرے تک ہوا کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا، ہاں اسے چھونے سے منتقل ہوسکتا ہے _ محض سخت احتیاطی تدابیر کے تحت ایسا کیا جاتا ہے