ہوممضامین ومقالاتپیام انسانیت کی دو پٹریاں

پیام انسانیت کی دو پٹریاں

پیام انسانیت کی دو پٹریاں
حضرت علی میاں رحمۃ اللہ علیہ کی خانقاہ (تکیہ)میں پورے ملک سے تحریک پیام انسانیت کےرضاکاران حاضرہوئےہیں، سالانہ کارگزاری کی مجلس شروع ہوچکی ہے، تحریک پیام انسانیت کے میرکارواں حضرت مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی مدظلہ العالی کےتمہیدی خطاب کی تلخیص آپ جملہ قارئین کی نذر ہے؛
تحریک پیام انسانیت یہ کوئی رفاہی تنظیم نہیں ہے،ایسا نہ ہو کہ آپ اسے ایک رفاہی تنظیم سمجھ کر اس کی افادیت واہمیت کو ضائع کردیں،حضرت علی میاں رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں اس بینر سے کوئی رفاہی کام نہیں کیا گیا تھا،بلکہ حضرت مولانا عبداللہ حسنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اسے شروع کیا ہے، اس کامقصد صرف یہی ہے کہ جہاں ہم لوگوں کے سامنے اسلام کے اخلاقی اور سماجی پہلو کو رکھیں گے وہاں یہ رفاہی کام ہمارے دعوی کی دلیل بن سکیں گے، مگر مقصد ہماری نظر سے روپوش نہ ہوجائے، اس کا خیال ضروری ہے،
آج ہمارے سامنےمختلف حالات ہیں،ملک ہی نہیں بلکہ پوری دنیامیں مسلمانوں کو ٹارگیٹ کیا جارہا ہے، سب سے بڑی کوشش اس بات کی ہے کہ ہمارا ایمان سلب ہوجائے،معاش کو بھی نشانہ اسی لئے بنایا جارہا ہے، بعض وقت ایک آدمی معاشی تنگی سے عاجز آکرخودکشی تک کر لیتا ہے،اور اپنےدین وایمان کا سودا کر لیتا ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام کا حال یہ تھا کہ انکےگھروں میں کئی دنوں تک فاقہ رہتا،مگرآج وہ ایمان نہیں ہے کہ آدمی معاشی مار کو برداشت کرسکے۔
آج دینی مدارس خطرے میں ہیں، انہیں بند کرنے کے طریقے استعمال کئے جارہے ہیں، ان سر سبز شاداب درختوں کی جڑوں کو کھودا جارہا ہےاور پتیوں کو اس کااحساس نہیں ہے،ایک وقت آئے گا جب وہ بھی خشک ہوجائیں گی۔
لہذا دونوں چیزیں ہمارے لئے ضروری ہیں، یہ دونوں چیزیں تحریک پیام انسانیت کی دو پٹریاں ہیں، ہم لوگوں کے کام آئیں اور ان کے ذہن ودماغ کوبھی بدلنے کی کوشش کریں۔
پیام انسانیت دین اسلام کی تشریح وتبلیغ کا ایک حکیمانہ طریقہ ہے،ٹکراؤ کی پالیسی کبھی نفع بخش نہیں ہوئی ہے اور نہ اسلام ہمیں اس کی اجازت دیتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ ہے کہ آپ نے دشمنوں کو بھی معاف فرمایا ہے، ایسا بھی نہیں ہے کہ اس وقت ہمارے ہاتھ پاؤں کاٹ دئے گئے ہوں اور ہم کچھ نہیں کرسکتے ہوں،آج ہم بہت کچھ کرسکتے ہیں، جس ملک میں ہم رہتے ہیں، یہاں ہرحال میں حکمت سے ہی کام کرنے کی ضرورت ہے، بہت لوگ بات نہیں سمجھتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ فوری فائدہ مل جائے،ایسا نہیں ہوتا ہے،حضرت علی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے پچاس سال پہلے اس تحریک کو شروع کیا،قبل ازوقت اس خطرہ کو محسوس کیا تھا،الحمد للہ اس کے بڑے فوائد سامنے آئے ہیں، آج ہمیں لوگوں کی نفسیات کو سمجھنے کی ضرورت ہے، اس کے ذریعہ ہم دلوں تک اور لوگوں کے دماغ تک پہونچ سکتے ہیں۔

راقم الحروف
ہمایوں اقبال ندوی
حال مقیم، تکیہ(،رائے بریلی)
۲/ربیع الآخر ۱۴۴۴ھ

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے