ہومبریکنگ نیوزپہلی تا آٹھویں جماعت کے طلباء کے پری میٹرک اسکالرشپ کو دوبارہ...

پہلی تا آٹھویں جماعت کے طلباء کے پری میٹرک اسکالرشپ کو دوبارہ بحال کیا جائے۔ ای ٹی محمد بشیر ایم پی

نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔ انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) کے قومی آرگنائزنگ سکریٹری اور پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ای ٹی محمد بشیر نے پارلیمنٹ میں اپنی تقریر میں پری میٹرک اسکالر شپ کا مسئلہ اٹھایا۔ ای ٹی محمد بشیر نے اپنی تقریر میں کہا کہ محترم۔ چیئرپرسن صاحب، مجھے یہ موقع فراہم کرنے کے لیے آپ کا بہت شکریہ۔ میں اس ایوان اور حکومت کی توجہ ان لاکھوں طلباء کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں جو کہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کیلئے پری میٹرک اسکالرشپ پر منحصر تھے۔ یہ پری میٹرک اسکالرشپ سکیم اب واپس لے لی گئی ہے۔ حکومت ہند نے اس اسکیم سے دستبرداری کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی ہے۔ یہ اسکیم سماجی انصاف کی وزارت اور قبائلی بہبود کی وزارت کے ذریعے چلائی جارہی تھی۔ لہٰذا، بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ اسکیم کتنی اہم تھی۔ لاکھوں طلبہ
اپنی تعلیم کیلئے اس اسکالرشپ پر منحصر تھے۔
 حکومت کا یہ عمل صرف ظلم ہی نہیں بلکہ اس سے
 بڑھ کر بھی کچھ ہے۔ سب کچھ اچھا چل رہا تھا۔ درخواستیں طلب کی گئیں؛ ان کی چھان بین کی گئی
 اور وہ حکم کے منتظر تھے۔ بدقسمتی سے حکومت ہند نے پہلی تا آٹھویں جماعت تک کے طلباء کے لیے پری میٹرک اسکالرشپ واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان سب کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے اور ان کا مکمل انحصار اس اسکالرشپ پر تھا۔ نیز یہ اسکالرشپ ان طلباء کے لیے ایک بہت اہم محرک تھا۔ یہ ان کے لیے بڑا راحت تھا۔ میں حکومت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ غریب طلباء کو دی گئی اس اسکالرشپ کو واپس لے کر انہیں کیا فائدہ حاصل ہوگا۔ حکومت کا اس کو سہولت کو واپس لینے سے ان غریب طلبہ کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوگا۔ یہ ایک انسانیت کا مسئلہ ہے۔ میں حکومت سے عاجزی کے ساتھ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اس فیصلے کے ساتھ آگے نہ بڑھے اور اسے بحال کرے اور ان طلباء کے واجب الادا بقایا جات کو بھی ادا کرے۔
توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے