جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتپھر عورت ہارگئی!

پھر عورت ہارگئی!

. پھر عورت ہار گئی

                                                 ظفرامام

       18/دسمبر؁2021ء بروز ہفتہ کی صبح کا وقت تھا،میرا فجر کا وقت نکلا جا رہا تھا،میں گرد و پیش سے بےخبر مسجد میں جاکر نماز ادا کرنے میں مصروف ہوگیا،دورانِ نماز میرے کانوں میں مسجد سے باہر بات کر رہے لوگوں کی آوازیں سنائی دیں ”بہت ظالم ہے،نہ جانے ظالم نے رات بھر بیچاری کو کتنا پیٹا ہوگا کہ اس نے زہر کھالی،اب اس کا بچ پانا تقریبا ناممکن ہی ہے “ ان آوازوں پر میرے کان کھڑے ہوئے، میں نے جلدی سے نماز سے فراغت حاصل کی اور مسجد سے نکل کر لوگوں سے معلوم کرنے لگا کہ زہر خورانی کا یہ کیا قصہ ہے؟میرے پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ گاندھی پاسوان (شوہر کا نام جو میرے گاؤں کے ہندو محلے کا باشندہ ہے)نے رات بھر اپنی بیوی کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے اس کی بیوی نے زہر کھالیا ہے اور اب جانکنی کے عالم میں ڈاکٹر کے پاس پڑی ہے۔

      ڈاکٹر کی کلینک وہاں سے کوئی خاص دور نہیں تھی،بس مجھ میں اور کلینک میں چند قدموں کا فاصلہ تھا جسے طے کرنے میں مجھے زیادہ وقت نہ لگا،جب وہاں پہونچا تو وہاں لوگوں کا ایک حشر بپا تھا،لوگوں کے اس حشرمیں تِل دھرنے کی جگہ بھی باقی نہیں بچی تھی،مریضہ پیٹھ کے بَل بیہوش پڑی تھی،اس کے متعلقین بشمول اس کا شوہر اس کے سرہانے بیٹھے واویلے کر رہے تھے،ساتھ ہی وہ رات کے واقعے پر طرح طرح کے تبصرے کر رہے تھے،اورخشم آلود نگاہوں سے شوہر کو گھور اور اسے کوس رہے تھے اور ڈاکٹر اسے بچانے کے لئے باری باری اپنا ہر نسخہ آزما رہا تھا۔

      زہر خورانی کی واردات میں زہر خور کے زندہ بچ نکلنے کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ کھائے ہوئے زہر کی مکمل طور پر الٹی کردے،اس کے لئے اس کے پیٹ میں زبردستی ایسی تلخ چیزیں پہونچائی جاتی ہیں جنہیں اس کا پیٹ کسی طور قبول نہیں کرتا اور دل پر عجیب طرح کی متلاہٹانہ کیفیت کے ساتھ اسے فوراً الٹی ہوجاتی ہے،اس کے لئے زہر کھانے والے کا ہوش میں ہونا ضروری ہوتا ہے،لیکن اس کیس میں زہر کھانے والی عورت بیہوش پڑی تھی جس کا الٹی کرنا ناممکن تھا،اسی لئے ڈاکٹر نے اس کی ناک میں پائپ ڈالی اور دوائی کے زور پر اسے الٹی کرائی،عجیب بات یہ ہوئی کہ الٹی میں زہر کا کوئی اثر نظر نہ آیا،بعد میں میں نے ڈاکٹر(جو میرے سگے ماموں تھے) سے پوچھا تھا کہ آپ کو کیا لگتا ہے کہ وہ زہر کھائی تھی؟ تو میرے ماموں نے مجھے بتایا تھا کہ مجھے زہر کی کوئی علامت مثلاً بدبو وغیرہ تو محسوس نہیں ہوئی۔

       ڈاکٹر گلوکوز پے گلوکوز چڑھائے جا رہا تھا مگر مریضہ کی حالت ابتر سے ابتر ہوتی چلی جا رہی تھی،حالت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر نے جواب دے دیا اور کہا کہ مجھ سے اس کا علاج نہیں ہوسکے گا کہیں اور لے جاؤ،جب تک گاڑی آتی اس وقت تک تاریخ کے پنوں میں اپنے شوہر کے تشدد سے ایک اورعورت کے ہار جانے کے ایک نئے قصے کا اضافہ ہو چکا تھا،اس کی گردن ایک طرف کو ڈھلک گئی تھی، اس کی سانسیں تھم اور آنکھیں پتھرا چکی تھیں، لواحقین نے اس کی لاش اٹھائی اور گھر لے گئے۔

        خبر ایک اڑتے ہوئے پنچھی کے مانند ہوا کرتی ہے، پھر جس خبر میں سنسنی کا عنصر شامل ہو جائے تو وہ خبر گھنٹوں کا سفر لمحوں میں طے کرلیتی ہے،یہاں بھی ایسے ہی ہوا، خبر ارد گرد جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی،دیہات میں لوگوں کو ایسی خبروں کا بڑی بےصبری سے انتظار ہوتا ہے،وہ خبر سنتے ہی اٹھ دوڑتے ہیں،دیکھتے ہی دیکھتے میت کا گھر لوگوں کے وجود سے اَٹ گیا،میت کے میکے والے بھی پہونچ گئے،وہ منظر بڑا دردناک تھا جب میت کا بوڑھا باپ پچھاڑیں کھا کھا کر اپنی جوان بیٹی کی لاش پر پڑ رہا تھا،سب کی آنکھیں نم تھیں، ہر کوئی اظہار افسوس کر رہا تھا،میت کے بھائی پہنچتے ہی چیخنے چلانے لگے کہ میری بہن نے زہر نہیں کھایا بلکہ اسے ماردیا گیا ہے، وہ ظالم کس بل میں دبکا بیٹھا ہے اسے باہر نکالو ہم جان کے بدلے میں جان لیں گے،نہیں تو پولیس کو اطلاع کریں گے،ان کی یہ دھمکی محض گیدڑ بھبکی نہیں تھی بلکہ واقعی اگر اسے وہ اس وقت پالیتے تو فوری اشتعال میں آکر اس کا گلا دبا بیٹھتے۔

       میت کے بھائیوں کا یہ کہنا بے بنیاد نہیں تھا بلکہ یہ مبنی بر حقیقت تھا کہ عورت نے زہر نہیں کھایا تھا بلکہ اسے قتل کیا گیا تھا،اس کے گلے پر انگلیوں کے نشان بڑے واضح تھے، زہر خورانی کے بعد انسان کے چہرے پر چھائیاں پڑجاتی ہیں،یہاں وہ بھی نہیں تھیں،شوہر نے اپنا جرم چھپانے کے لئے اس پر زہر خورانی کا چولا چڑھا دیا تھا،اور ڈھونگ یہ رچایا تھا کہ اس نے زہر کھا لیا ہے،لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ جرم سات پردوں کے پیچھے چھپ کر کیوں نہ کیا جائے انجام کار وہ عیاں ہو ہی جاتا ہے۔

       یہ واردات اس طرح پیش آئی کہ شوہر جس کی عمر تقریبا پچیس چھبیس سال تھی عورتوں کا شکاری تھا،یا یوں کہہ لیجیے کہ اس کا شمار ان لوگوں میں سے تھا جن کی نگاہیں پرائے مال پر اٹکی رہتی ہیں،باوجودیکہ اس کی بیوی انتہائی دلکش اور حسین تھی،اس کے نقش ونگار بھی کافی من موہن تھے،ساتھ ہی قدرت نےفطری طور پرحیا،نیک چلنی اور وفاشعاری کا خمیر بھی اس میں ودیعت کر رکھا تھا مگر شوہر کلی کلی کا رس چوسنے والا ایک بھونرا نکلا۔

      ایک نیک چلن اور وفا شعار بیوی جو اپنی کل کائنات اپنے شوہر ہی کو سمجھتی ہو اور جس کا جینا مرنا شوہر کی ذات سے ہی منتسب ہو وہ بھلا اس بات کو کیونکر برداشت کر سکتی تھی کہ کھلے عام اس کا شوہر کہیں اور گھاس کھاتا پھرے، اسی بات پر بیوی اپنے شوہر کو کافی سمجھاتی تھی،مگر شوہر اس کو ہنس کر ٹال دیا کرتا تھا، ابتداء میں بیوی کا رویہ تو نرمیانہ اور فہمیانہ رہا مگر جب شوہر کی عورتوں سے آشنائی ختم ہونے پر نہ آئی تو بیوی بھی پھٹنے پر آگئی،جب کبھی اسے موقع ملتا وہ شوہر پر پھٹ پڑتی،دیکھتے ہی دیکھتے وہ گھر شوہر بیوی کی توتکار اور ڈانگ ٹھاٹ کا اکھاڑا بن گیا،آئے دن دونوں میں اس بات کو لے کرجھگڑے ہوتے رہتے تھے،عورت بہرحال عورت تھی وہ صرف بول ہی سکتی تھی شوہر لڑنے مارنے پر اتر آتا اور اپنی بیوی کی باتوں کے جواب میں اس کی پٹائی کر دیتا،اور غصے سے کہتا کہ میں تجھے کسی دن قتل کرکے جیل چلا جاؤں گا اور وہیں دال روٹی کھاؤں گا۔

      پھر وقت گزرتا گیا، اس بیچ دونوں کے دو بچے بھی پیدا ہوگئے مگر پھر بھی شوہر کی آشنائی بےنکاحی بیویوں سے ٹوٹ کر اپنی بیوی سے مدغم نہ ہوسکی،بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ دونوں میں رسہ کشی اور تناؤ بڑھتا ہی چلا گیا اور پھر ایک وہ دن (17/ دسمبر 2021)آیا جب شوہر اپنی ایک بےنکاحی بیوی کو اپنی گاڑی پر بٹھا کر کافی دور ڈاکٹر کے یہاں لے گیا، ایک بیوی بھلا یہ کیسے برداشت کرسکتی تھی،شوہر کے آتے ہی وہ اس پر پھٹ پڑی،شوہر اس وقت شراب کے نشے میں دُھت تھا،آؤ دیکھا نا تاؤ اپنی بیوی کو پکڑ کر پیٹنا شروع کردیا،پاس پڑوس کے لوگوں نے بیچ بچاؤ کیا اور اس کی بیوی کو اٹھاکر اپنے گھر لے گئے مگر شوہر پر اس وقت بربریت کا بھوت سوار تھا،وہ روز روز کی کچ کچ سے ہمیشہ کے لئے خود کو پاک کرلینا چاہ رہا تھا،اس نے پڑوس کے گھر سے اپنی بیوی کے بالوں کی لٹوں کو اپنے شکنجے میں کسا اور اسے گھسیٹتے ہوئے اپنے گھر میں بند کرکے اندر سے چٹخنی چڑھا دی، باہر پڑوسی کب تک پہرہ دے سکتے تھے وہ اپنے گھروں میں جاکر سوگئے۔

      ادھر شوہر مکمل طور پر باؤلا ہوچکا تھا جس کے زیر اثر اس نے اپنی بیوی پر تشدد کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، نازک خاک سے بنی ایک عورت کب تک شوہر کے ظالمانہ پنجوں کا مقابلہ کرسکتی تھی،ناچار وہ ہار گئی اور عین اس وقت جب کائنات کے چراغ دان پرسحر کا چراغ روشن ہونے کو تھا اس کی زندگی کےچراغ کو اندھیریوں کے افق میں چھپنے میں صرف چند منٹوں کا فاصلہ رہ گیا۔

       شوہر نے جب دیکھا کہ اس کی زندگی کا چراغ بجھنے میں صرف ہوا کے ایک جھونکے کا منتظر ہے تو اس نے ڈھونگ یہ رچایا کہ اس نے رات زہر کھالیا ہے،اور اسے اٹھا کر ڈاکٹر کے پاس لایا،ڈاکٹر نے جواب دے دیا،ابھی دوسری جگہ لے جانے کی تدبیر ہی ہو رہی تھی کہ اچانک اس کی حالت غیر ہوگئی اور پھر گنتی کی چند سانسیں لینے کے بعد وہ اپنی زندگی کی جنگ ہار گئی،اس کے ساتھ ہی اس گھر کے ظلم کا قصۂ پارینہ بھی اپنے انجام کو پہونچ گیا۔

       یہ سچ ہے کہ ظلم کی ٹہنی سدا برگ و بار نہیں کھلاتی، اس گھر میں آج تک ظلم کے سوا ہماری نظروں نے کچھ نہیں دیکھا،اس سے پہلے اس کے باپ نے ہمیشہ اپنی ماں اور بہنوں پر ظلم کیا،بات بے بات وہ اپنی اس بہن کو مار مار کر بیہوش کردیتا جس کی وجہ سے اس گھر کا راشن پانی چلا کرتا تھا،بہن دن بھر در بدر کی ٹھوکریں اور لوگوں کے کوسنے سن سن کر دال چاول اکٹھا کرتی اور رات کو اپنے ظالم بھائی کا تختۂ ستم بنتی،اس کے جسم کا شاید کہ کوئی انگ ایسا نہیں ہوگا جس پر اس کے بھائی کی ضرب نہ لگی ہو،باپ کا یہ خون بیٹے کی طرف منتقل ہوگیا،اور بیٹا بھی اسی راستے پر چل نکلا جس راستہ کا رہرو کبھی اس کا باپ ہوا کرتا تھا،مگر خدا کی بے آواز لاٹھی اس گھر پر چلنے کے لئے کافی عرصے سے ٹوہ میں بیٹھی تھی جو گزشتہ ہفتے ایسی چلی کہ کبھی اس گھر کے مکینوں کے تصور میں بھی اس کا خیال نہیں گزرا تھا۔

        بہرحال اب عورت کے مقتولہ ہونے میں کسی کو شبہ نہیں رہا تھا،شوہر جو خود کو ڈان کہلاتا تھا پولیس اور سلاخوں کے تصور سے ہی کانپ اٹھا،اور کہیں جاکر دبک گیا،پولیس آئی،شوہر کے خلاف انہوں نے ایف آئی آر درج کی اور لاش کو اپنی حراست میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا،عین اس وقت جب پولیس ملزم کے گھر والوں کو الٹی میٹم دے کر چلنے کو تیار تھی ملزم اپنی پناہ گاہ سے باہر نکل آیا اور پولیس کے سامنے اقبال جرم کرلیا کہ میں نے اپنی بیوی کو قتل کیا ہے،پولیس اسے تھانے لے گئی اور لاٹھی ڈنڈوں سے اس کی خوب ضیافت کرنے کے بعد اسے حوالات میں بند کردیا،جہاں اب اس کی راتیں سلاخوں کے پیچھے ذلت و خواری کے ساتھ گزرنی ہیں،خدا کرے کہ عدالت اس کے لئے عمر قید کی سزا تجویز کرے یا اسے تختۂ دار پر لٹکائے،تاکہ اس قماش کے شوہروں کے لئے وہ تازیانۂ عبرت ثابت ہو۔

        اس واردات کا سب سے دلچسپ پہلو یہ تھا کہ ملزم کی وہی پھوپھی جس کے جسم کا کوئی حصہ بھائی کی مار سے خالی نہیں ہوگا، ان لوگوں کو کوس رہی تھی جو یہ کہتے تھے کہ بیوی نے زہر نہیں کھایا،بلکہ قتل ہوئی ہے،پھوپھی سر پٹک کر کہہ رہی تھی کہ اس نے زہر کھایا ہے، میرا بھتیجہ بےگناہ اور بری ہے۔

                                      ظفر امام کھجور باڑی

                                      دارالعلوم بہادرگنج

                                   24/ دسمبر ؁2021ء

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے