ہوممضامین ومقالاتپڑوسی کی آہ لگی ہے

پڑوسی کی آہ لگی ہے

پڑوسی کی آہ لگی ہے

وہ عورت میرے مکان کے قریب ہی رہتی ہے، جب ہم گھر سے نکلتے ہیں مجھےگھورتی ہے، میرا یہ یقین ہے کہ ہمیں اسی کی نظر لگی ہے،میرے اہل خانہ پریشان ہیں، اہلیہ خواب میں روزانہ گندی چیزیں دیکھتی ہے،بچے گھر آتے ہی عجیب کیفیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں، خانقاہ رحمانی مونگیر سے بھی ہم دعا درود لےکر آئے ہیں، باہر سب کچھ ٹھیک رہتا ہے، گھر آتے ہی پریشانی شروع ہوجاتی ہے۔ڈاکٹروں سے بھی رابطہ کیا ہے،جانچ بھی کروالی ہے،ہمیں کوئی بیماری نہیں لگی ہے، ایک یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ پڑوسی کی نظر لگی ہے،کوئی اچھا عامل بتائیے پلیز۰۰۰۔
مذکورہ بالا واقعہ ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا ہے،اسمیں دو باتیں قابل غور ہیں، پہلی یہ کہ ایک غریب عورت جو موصوف کے پڑوس میں رہتی ہے شک کی سوئی اسی کی جانب گھوم گئی ہے،؟ ایک غریب پر شک کرنا اوراسے مورد الزام ٹھہرانا یہ نیا نہیں ہے،بالخصوص نظر کے معاملے میں ہمیشہ سماج کے کمزور طبقہ ہی کو نشانہ بنایا جاتا ہے،بسا اوقات اس کا انجام بہت بھیانک سامنے آجاتا ہے،اور اخبارکی زینت یہ خبر بن جاتی ہے کہ” ایک غریب عورت کو گاؤں کےدبنگ لوگوں نے ڈائن سمجھ کر موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔
خدا کا شکر ہے کہ مسلم سماج سے مارڈالنے والی کوئی خبرنہیں آئی ہے،مگر یہ تلخ حقیقت ہے کہ اس وقت ہمارا معاشرہ بھی اسلامی پٹری سے اترگیاہےاورغیروں کےڈگرپر چلا گیا ہے، بےاعتمادی کی یہاں فضا قائم ہوگئی ہے، پڑوسی کا مطلب قریب رہنے والا ہے ،مگر آج وہ ہم سے بہت دور ہوگیا ہے،محبت کی جگہ نفرت ہے،جبکہ اسلام میں ایک پڑوسی سے محبت وتعلق بڑھانے کی تعلیم دی گئی ہے، ہدایا وتحائف سے محبت بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت فرمائی ہے، جب گھر میں سالن بناؤ تو پانی بڑھا دو،اور اس سے اپنے ہمسایہ کی خبر گیری کرو، (مسلم)
دوسری بات جو اس واقعہ میں غور کرنے کی ہے،بغیر کسی بیماری اور پریشانی کے ایک صاحب ایمان پریشان ہے،اپنے عالیشان مکان میں رہتا ہے، چہار دیواری میں محفوظ ہے،مال واسباب رکھتا ہے، باوجود اس کے وہ پریشان ہے،اور گھر کے قریب شخص سے دور ہے،اس کی وجہ ھمسایہ کی حق تلفی ہے۔
پڑوسی کے حقوق کی مذہب اسلام میں بڑی تاکید آئی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛جبریل نےمجھےپڑوسی کے بارے میں اتنی تاکید کی میں نےسمجھاکہیں ان کو وراثت کا حق نہ دلادیں،(متفق علیہ)
چنانچہ بیماری میں عیادت کرنا، تنگدستی میں مالی تعاون کرنا،خوشی میں مبارکباد دینا،غمی میں ہمدردی کرنا،موت پر جنازہ میں شرکت کرنا،
یہ وہ حقوق ہیں جنہیں بحیثیت پڑوسی ادا کرنا ایک ایمان والے کے لیے ضروری ہے، ان ذمہ داریوں سے آنکھیں چراناحق تلفی ہےاور ظلم ہے۔
آج جھونپڑی میں رہنے والی ایک غریب عورت بھوک اور فاقہ کی وجہ سے امید بھری نظروں سے دیکھ رہی ہے،اپنے درد اور تکلیف کی ہمیں دوااپنے خوشحال پڑوسی کو سمجھتی ہے،اور وہ حضرات مداوابننے کے بجائے تکلیف کا سامان بن جاتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اس شخص کو مومن نہیں کہا ہےجس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہیں ہے، (متفق علیہ )
ایمان واسلام کا مطلب امن وسلامتی بھی ہے،ہر وہ آدمی جو اسلام کے تقاضوں سے مسلمان ہوتے ہوئے بھی دور ہوتا ہےاسے عافیت کی زندگی نصیب نہیں ہوتی ہے، مذہب اسلام میں ایک مظلوم کی نظر نہیں بلکہ آہ لگتی ہے،یہ واقعی مصیبت اور نحوست کی چیز ہوتی ہے، مسلم سماج میں بھی یہ نحوست داخل ہوگئی ہے،اس کا احساس نہیں ہے، مرض کچھ اورہے،اور دوا کچھ اور کی جارہی ہے، آج عموما یہی ہوتا ہے کہ لوگ مظلومیں کی آہوں اور بددعاوں کا شکار ہورہے ہیں، یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ہے اور یہ کہتے ہیں کہ ہمیں فلاں کی نظر لگی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےنصیحت فرمائی کہ مظلوم کی بددعا سے بچتے رہنا کیونکہ اس کے اور خدا کے بیچ میں کوئی پردہ نہیں ہے( بخاری )
پڑوسی کےمکاں میں چھت نہیں ہے
مکاں اپنے بہت اونچے نہ رکھنا
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
رابطہ، 9973722710

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے