پپو یادو کو فوری رہا کیا جائے۔ ایس ڈی پی آئی

160

نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے بہار میں جن ادھیکار پارٹی کے رہنما پپو یادو کی گرفتاری کا سختی سے مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایم کے فیضی نے کہا ہے کہ گرفتاریاں، چھاپے اور نشانہ بنانا موجودہ این ڈی اے حکومت کا ہتھیار ہے۔ جو وہ اختلافی آوازوں کو دبانے اور ان پر قابو پانے کیلئے استعمال کررہی ہے اور پپو یادو کی گرفتاری اس کی تازہ مثال ہے۔ کہا جارہا ہے کہ پپو یادو کو لاک ڈاؤن کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھااور کہا گیا تھا کہ انہوں نے صبح سویرے پٹنہ میڈیکل کالج اسپتال کے قریب ہنگامہ آرائی کی تھی۔ بہار میں حکمران این ڈی اے کے شراکت داروں سے پپو یادو کو جو حمایت مل رہی ہے وہ خود ان کی گرفتاری کی ناجائز ہونے کی گواہی دیتی ہے۔ان کی گرفتاری کی اصل وجہ سرین کے بی جے پی رکن پارلیمان راجیو پرتاپ روڑھی کے ساتھ ان کا تنازعہ بتایا جاتا ہے، یادو نے حال ہی میں روڑھی پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے متعدد غیر استعمال شدہ ایمبولنسوں اپنی رہائش گاہ میں چھپا کر رکھا تھا۔ پپو یادو کو بعد میں ایک 32سال پرانے اغوا کے معاملے میں مادھے پورہ لے جایا گیا، یہ ناقابل ضمانت وارنٹ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دو ماہ قبل مادھے پورہ کی ایک عدالت نے اسے جاری کیا تھا۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے مزید کہا ہے کہ پپو یادو کی گرفتاری کو ایس ڈی پی آئی انتہائی قابل مذمت سمجھتی ہے اور نتیش حکومت سے سختی سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ پپو یادو کو فوری طور پر رہا کرے۔ ایم کے فیضی نے پپو یادو کی ان تمام سرگرمیوں کی مکمل حمایت کی پیش کش کی ہے جس میں وہ بہار کے عوام کیلئے مصروف عمل ہیں۔