پروفیسر خالد سعید کی خدمات ناقابل فراموش : مفتی ثناء الہدی قاسمی

66

 

حاجی پور (پریس ریلیز) “کاروان ادب “حاجی پور کے صدر مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدر آباد کے سابق صدر شعبہ اردو پروفیسر خالد سعید کے انتقال پر اپنے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروفیسر خالد سعید اردو کے نامور شاعر، ادیب، ناقد اور محقق تھے- انہوں نے ریاست میں غیر اردو دانوں کو اردو سکھانے کا ایک مثالی کارنامہ انجام دیا تھا- انہوں نے بحیثیت بانی صدر شعبہ اردو اور بحیثیت کارگذار وائس چانسلر (مانو) اردو زبان اور یونیورسٹی کی بیش بہا خدمات انجام دی تھیں – ان کی یہ خدمات ناقابل فراموش ہیں جنہیں عرصہ دراز تک یاد رکھا جائے گا -مفتی صاحب نے پروفیسر خالد سعید کے ساتھ سولن ہماچل پردیش میں سی آئی آئی ال کے ذریعہ منعقد ایک ورک شاپ میں انیس روزہ رفاقت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کے وہ انتہائی ملنسار اور خوش اخلاق انسان تھے یہ ورک شاپ کھیل کھیل میں بچوں کو کیسے پڑھائیں کےعنوان پر تھا. اس موقع سے جو کھیل انہوں نے بنائے اس سے انکے اخاذ ذہن کا پتہ چلتا تھا. “کاروان ادب “کے سکریٹری انوارالحسن وسطوی نے پروفیسر خالد سعید کے لیے پیش اپنے تعزیتی کلمات میں کہا ہے کہ پروفیسر موصوف ایک کامیاب استاد، مشہور شاعر،مستند ناقد اور ایک ماہر ادیب کے ساتھ ساتھ بہت مخلص انسان اور باغ و بہار طبیعت کے مالک تھے – انہوں نے مختلف جہتوں سے اپنی خدمات کے انمٹ نشان چھوڑے ہیں جنھیں تا دیر یاد رکھا جائے گا – موصوف نے پروفیسر خالد سعید کی حاجی پور تشریف آوری کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ 12.اپریل1998 کو حاجی پور کے وکالت خانہ ہال میں جب اردو کے ممتاز شاعر وادیب پدم شری ڈاکٹر کلیم عاجز پر سمینار کا انعقاد کیا گیا تھا تو اس موقع سے پروفیسر خالد سعید ڈاکٹر ممتاز احمد خان (مرحوم) کی دعوت پر بحیثیتِ مہمان خصوصی َسمینار میں شریک ہونے تھے- اس موقع سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ “ڈاکٹر کلیم عاجز نے اپنی شاعری اور نثر میں جس اسلوب کو اختیار کیا وہ ہر کسی کو میسر نہیں ہو سکتا -” پھر 14 اپریل 1998کو ڈاکٹر ممتاز احمد خان نے اپنی رہائش گاہ “ساجدہ منزل” باغ ملی میں ان کے اعزاز میں ایک ادبی نشست کا بھی انعقاد کیا تھا – اس موقع پر پروفیسر خالد سعید نے” کرناٹک میں اردو کی صورتحال ” پر ایک نہایت مفصل و معلوماتی لکچر دیا تھا، جس سے سامعین محظوظ ہو ئے تھے – موصوف نے اس موقع سے انجمن کی کارروائی رجسٹر پر اپنے قیمتی تاثرات بھی تحریر کیے تھے جو ریکارڈ میں محفوظ ہے – پروفیسر خالد سعید اس زمانہ میں کرناٹک کا لج (بیدر) کے صدر شعبہ اردو تھے اور علمی مطالعہ کی غرض سے خدا بخش پبلک اورینٹل لائبریری، پٹنہ تشریف لائے ہوئے تھے – واضح ہو کہ پروفیسر خالد سعید کا 26 مئ 2021 کو حیدرآباد میں انتقال ہوگیا – وہ گردہ کے مرض میں مبتلا تھے – ان کی نماز جنازہ اور تدفین گلبرگہ (کرناٹک) میں انجام پذیر ہوئی جہاں ان کا آبائی وطن تھا – “کاروان ادب” کے دیگر ذمہ داران نے بھی پروفیسر خالد سعید کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے- یہ اطلاع کارواں کے جوائنٹ سکریٹری (ناظم نشر و اشاعت) محمد قمر عالم ندوی نے اپنے پریس ریلیز میں دی ہے –