پرائی آگ… ہمارا گھر

35

تحریر :خورشید انور ندوی
آزادی فکر، آزادی اظہار پر نو آزاد فرانس یا یورپ کا اجارہ نہیں ہے.. پھکڑپن پھوہڑپن اور انسانی اخلاقیات سے باختگی کے آئیکونز دل آزاری اور اعلی ترین انسانوں کی بے حرمتی کو آزادی کا نام دے کر آزادی کی توہین کررہے ہیں.. سوپ تو سوپ چھلنی بھی ہنسے جس میں بہتر چھید کے مصداق، برہنگی کو عورت کی آزادی اور بدتہذیبی کو فکر ونظر اور اظہار وبیان کی آزادی باور کرتے کراتے ہیں..تھوڑی شرم ہوتی تو اپنی ہی پڑھ پڑھالیتے تو معلوم ہوجاتا کہ کل تک ان کے معاشرے میں نصف انسانیت کی کیا درگت تھی.. فرانس میں عورتوں کو ووٹنگ کا حق کب ملا ہے؟ عورت کو کچھ دے کر سب کچھ چھین لیا گیا.. آج وہ ان آزاد ملکوں میں نظام کفالت سے یکسر محروم ہے.. نارمل حالات میں مرد کے شانہ بہ شانہ زندگی کی کلفتیں جھیلنے پر مجبور ہے. زندگی کی بے رحم تمازتوں میں اپنے ہم زاد مرد کی طرح جھلسنے پر مجبور ہے جس کی وہ پیدائشی طور پر مستحق نہیں.. اور جس استحقاق کو رحمتوں کے اسی رسول نے اعتبار بخشا ہے جس کی بےحرمتی کرکے اس کے کروڑوں جاں نثاروں کی دل آزاری کی جارہی ہے.. لیکن بے حیائی ہی سارے معیار نیست و نابود کردیتی ہے.. رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی فرمان ہے:
“جب آنکھ کا پانی مرجائے تو جو چاہو کرو”
آج فرانس میں جو ہورہا ہے اس پر ہر طرف تھو تھو ہورہی ہے.. اقوام عالم کے سب سے بڑے ادارے کا بیانیہ بھی آچکا ہے، آزادی اظہار کو مذہب کے خلاف نہ استعمال کیا جائے، دل آزاری مسترد کی جانی چاہیے.. کئی غیر مسلم سربراہان مملکت نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے.. مہاتر محمد تو مفتیوں سے بھی آگے بڑھ کر کہا رسول اللہ کی بے حرمتی پر مسلمانوں کی طرف سے فرانسیسیوں کا قتل جائز ہے.. فرانس کا بدنہاد مائیکرونی بدھی کا بے عزت صدر اپنی بدگوئی سے خود پھنس چکا ہے.. لیکن ہمارے ملک میں ایسے لوگ اقتدار پر آ چکے ہیں جو نفرت اور عناد کو نظریاتی اساس فراہم کرنے کی تگ و دو میں ہیں.. یہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر پرائی آگ گھر میں لانے کے کام میں لگے ہوئے ہیں.. ہر اس کام کو پذیرائی بخش رہے ہیں جو مسلمانوں کے لئے باعث تکلیف ہو. اسرائیل سے ہر طرح کے گرم جوش تعلقات کے بنا ہندوستان ڈوبا جارہا تھا.. ترکی جیسا ملک ناٹو کا ممبر ہوتے ہوئے اور امریکہ کے شدید دباؤ کے باوجود روس کا اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم لے کر خود کو اچھی دفاعی پوزیشن میں لاچکا ہے اور اسرائیلی اینٹی میزائل کو ہی سارے درد کا مداوا سمجھ رہے ہیں.. اسرائیل سے گرم جوش تعلقات کی بنیاد دراصل مسلم اقلیت سے اس انداز میں نمٹنے کی پالیسی اپنانے کا پیش خیمہ ہے جو اسرائیل نہتے اندرون کے عربوں کے خلاف عرصے سے اپنائے ہوئے ہے.. اور جس کا خواب مسلم اقلیت دشمن انتہا پسند برسوں سے دیکھ رہے ہیں.. فرانس کی مذمت یا اس کے صدر کے بیہودہ موقف سے بیزاری خود اس کے دوست اور ہم صف بھی ڈھکے چھپے کررہے ہیں، اس صورت حال میں ہماری حکومت اور وزارت خارجہ کو آگے بڑھ بڑھ کر حمایت کا کیا جواز ہے.. ہمارے خارجہ سکریٹری ہرش شرنگلا صاحب پیرس میں بیٹھ کر اسلاموفوبیا کو ہوا دے رہے ہیں اور بد تمیزی کے خلاف بےہنگم انفرادی ردعمل کو اسلامی شدت پسند انفراسٹرکچر کی کارستانی گردان رہے ہیں.. اور باصرار ان واقعات کو اتفاقی قرار نہ دینے پر مصر ہیں، جس کی دعویدار خود فرانس کی ایجنسیاں بھی نہیں ہیں. لگتا ہے شرنگلا مہودے،نفرت اور عناد کی شرنکھلا کی توسیع ہیں اور وزارت خارجہ کے نمایندے نہیں ہیں.. ان کی یہ نئی کارستانی سفارتی اخلاقیات کے کس زمرے میں آتی ہے.. سفارتی آداب ٹمپر کو کم کرنے کا تقاضہ کرتے ہیں نہ کہ جلتی پر تیل چھڑکنے کا.. سفارت کاری کی ادبیات تک الگ ہوتی ہیں اور اس کا بیانیہ عام بیانیہ سے نرم سائشتہ اور مدھم ہوتا ہے.. ایک بڑے جمہوری ملک سے اس کی توقع کیوں کر رکھی جاسکتی ہے جس کی سوشل انخیئرنگ متنوع اور ہمہ رنگ ہو اور جس کے پاس طویل سفارت کاری کی بے مثال تاریخ ہو.. فرانس کے صدر کی ہرزہ سرائی اور ہٹ دھرمی سے اس ملک کی بہت بڑی اقلیت دل شکستہ ہے، پھر بھی ہماری حکومت نہ صرف یہ کہ اپنی آبادی کے جذبات کا خیال نہیں رکھ رہی ہے بلکہ اپنے اس روئیے سے دل آزاری کا سبب بن رہی ہے… اپنے سکریٹری خارجہ کے ذریعہ پرائی آگ اپنے گھر لانے کی بدعقلی کی مرتکب ہورہی ہے.. اس قابل نظرانداز واقعہ پر ایسی یکجہتی کے اظہار کا مطالبہ نہ ہی فرانس نے کیا نہ ہی اس کی امید رکھ رہا تھا…. کیا یہ بدترین عناد اور اپنی آبادی کے جذبات کی پرواہ نہ کرنے کا رویہ نہیں ہے.. ہماری وزارت خارجہ کی ذمہ داری حکومت فرانس تک اپنی ناقابل نظرانداز آبادی کے زخم خوردہ جذبات پہنچانے کی تھی،نہ کہ وہاں کی پرائی آگ یہاں لانے کی..