بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتپاپولر فرنٹ کے بعد اگلا نمبر کون ؟؟؟

پاپولر فرنٹ کے بعد اگلا نمبر کون ؟؟؟

پاپولر فرنٹ کے بعد اگلا نمبر کون ؟؟؟

احساس نایاب ( شیموگہ ، کرناٹک )

گزشتہ روز ملک بھر میں پی ایف آئی اور ایس ڈی آئی کے مختلف ٹھکانوں پر این آئی اے اور ای ڈی نے مقامی پولس کی مدد سے چھاپے ماری کی ہے ،
اطلاع کے مطابق اب تک ملک کے پندرہ ریاستوں میں 90 سے ذائد الگ الگ مقامات پر این آئی اے اور ای ڈی نے مشترکہ طور پر چھاپے ماری کی اور پی ایف آئ کے سو سے ذائد کارکنان کو گرفتار کیا ہے ۔
پی ایف آئی دفاتر کے علاوہ پی ایف آئی کے قومی ، ریاستی اور مقامی لیڈران کے گھروں پر بھی چھاپہ ماری ہوئی ہے اور بڑی تعداد میں ‘پی ایف آئی’ کے بڑے رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔
گزشتہ شب 3 بجے کے قریب شروع ہوئی اس ظالمانہ کاروائی کا اثر ملک بھر میں دیکھنے کو ملا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گودی میڈیا کے مطابق این آئی اے اور ای ڈی کی جانب سے پی ایف آئی کے خلاف یہ اب تک کی سب سے بڑی اور کامیاب کاروائ بتائی جارہی ہے اور پی ایف آئی پر کئی سنگین الزامات لگاتے ہوئے تنظیم کو بین کرنے کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اس پوری کاروائی کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں پی ایف آئی کارکنان کی جانب سے چھاپہ ماری کی سخت مذمت کرتے ہوئے پرزور احتجاج کیا گیا ، امت شاہ تیری تانا شاہی نہیں چلے گی اور این آئی اے گو بیک کے نعرے لگائے گئے، احتجاجیوں کی جانب سے بلگام ہائی وے بند کرنے کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں، اس کے علاوہ پی ایف آئی نے جمعہ کا دن کیرلا بند کی اپیل کی تھی جو ایک حد تک کامیاب بھی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔
فی الحال جوابی کاروائی کے طور پر پی ایف آئی کی جانب سے پریس رلیز جاری کیا گیا ہے …… جس میں
” پاپولر فرنٹ آف انڈیا نیشنل ایگزیکٹیو کونسل نے این آئی اے اور ای ڈی کے ملک گیر چھاپوں، غیر منصفانہ گرفتاریوں اور ہندوستان بھر میں اس کے قومی اور ریاستی رہنماؤں کو ہراساں کرنے اور تنظیم کے اراکین اور حامیوں کے خلاف کاروائی کی شدید مذمت کی گئ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
این آئی اے کے بے بنیاد دعوے اور سنسنی خیزی کا مقصد صرف اور صرف دہشت کا ماحول پیدا کرنا ہے ۔
پاپولر فرنڈ نے مزید کہا ہے کہ مرکزی ایجنسیوں کو کٹھ پتلیوں کے طور پر استعمال کرنے والی بےلگام حکومت کے اس طرح کے خوفناک ہتھکنڈوں سے عوامی محاذ کو کبھی ڈرایا نہیں جائے گا، تنظیم اپنے موقف پر ثابت قدم رہے گی اور ہمارے پیارے ملک کے آئین کی جمہوری اقدار اور روح کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی” ۔۔۔۔۔۔۔۔
پی ایف آئی کے علاوہ ، جماعت اسلامی ہند سمیت ملک کی کئی تنظیموں کی جانب سے بھی اس ظالمانہ کاروائی کی شدید مذمت کی گئی ہے اور اس قسم کی کاروائیوں کو ایجنسیوں کا اسلاموفوبک اور ناجائز استعمال بتایا جارہا ہے ۔۔۔۔۔۔

عوام کا کہنا ہے کہ پی ایف آئی ملک کی ایک ایسی تنظیم ہے جو
اقلیتوں کے حق میں آواز اٹھاتی ہے ،
حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کرتی ہے
بھوک سے آزادی ، ظلم سے آزادی اور خوف سے آزادی کی بات کرتی ہے ۔۔۔۔۔
پی ایف آئی ، بی جے پی اور سنگھ پریوار کی دہشتگردی اور مظالم کے خلاف کھُل کر بولتی ہے اور بہت ہی کم وقت میں پی ایف آئی نے عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے ۔۔۔۔۔
پی ایف آئی کی بڑھتی مقبولیت سے بی جے پی اور سنگھ پریوار خوفزدہ ہیں اور اس طرح کی کاروائیاں اُسی خوف کا نتیجہ ہیں
حکومت اس طرح کے حربوں سے ملک میں ڈر خوف کا ماحول بنانا چاہتی ہے ۔۔۔۔۔۔
عنقریب ہونے والے انتخابات کے لئے پی جے ہی کے پاس کوئی مدعہ نہیں رہا، نہ ہی ملک میں کسی قسم کے تعمیراتی کام ہوپائے ہیں ،
بےروزگاری اور بڑھتی مہنگائی کی وجہ عوام پریشان ہے، حکومت سے ناراض ہے اور اس کا سیدھا اثر آنے والے انتخابات پر پڑے گا، ممکن ہے اس بار بی جے پی کو ہار کی صورت دیکھنی پڑے ۔۔۔۔۔
یہی وجہ ہے کہ عوام کو گمراہ کرنے ، بنیادی مدعوں سے دھیان ہٹانے کے خاطر جان بوجھ کر اس طرح کے غیرضروری و بےبنیاد ایشوس بنائے جارہے ہیں اور ملک کی ایک سو تیس کروڑ عوام کو ڈائریکٹ ان ڈائریکٹ یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ جو بھی حکومت کی نااہلی ناکامیوں پر سوال کرے گا، سنگھ پریوار کے خلاف بولنے کی جرات کرے گا دیر سویر اُس کے ساتھ بھی یہی سارے حربے استعمال کئے جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔
اور بی جے پی حکومت ملک کی جانچ ایجنسیوں و دیگر شعبوں کو اپنے سیاسی مفاد کے لئے یونہی استعمال کرتی رہے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔
آج بیشک پی ایف آئی نشانہ پر ہے ، لیکن عنقریب ملک کی ہر تنظیم ، ہر جماعت اور ہر وہ شخص ان کے نشانہ پر ہوگا جس کا ضمیر زندہ ہے جو غیرتمند ہے جس کے اندر ّمظلوم کو مظلوم اور ظالم کو ظالم کہنے کی ہمت ہے ۔۔۔۔۔۔۔
رہی بات این آئی اے کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تو اس کی حقیقت آنے والا وقت ہی بتائے گا
لیکن جہاں تک زمینی سطح پر پی ایف آئی کا رول کردار رہا ہے وہ بیشک قابل ستائش ہے ، بالخصوص کووڈ پنڈمک کے دوران پی ایف آئی کیدرس نے جس طرح سے اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر بےمثال خدمات انجام دئے ہیں بھارت کی تاریخ بھارت کی سر زمین اسے کبھی فراموش نہیں کرسکتی ۔۔۔۔۔
جہاں خود گھر والوں نے اپنوں کی لاشوں کو چھونے سے انکار کردیا، وارثوں کے ہوتے ہوئے لاشون کو لاوارثوں کی طرح سڑکوں پر پھینکا جارہا تھا، اُس وقت بلاتفریق مذہب و ملت یہی پی ایف آئ کے نوجوان تھے جنہونے پورے ادب و احترام کے ساتھ ان لاوارث لاشوں کو اپنے کاندھوں پر اٹھا کر شمشان گھاٹوں تک پہنچایا اور ان کے عقیدے کے مطابق آخری رسومات ادا کئے،
ملک بھر میں جتنے بھی سمشان ہیں وہان جب سڑھی گلی لاشوں کی امبار پڑی تھی ، اُن لاشوں کی چتاؤں کو آگ دینے، انہیں دفنانے والے یہی نوجوان تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
کووڈ متاثرہ مریضوں کے لئے ایمبولینس سے لے کر وینٹلیشن، آکسیجنس کا انتظام کرنے ، اُن کی خدمت کرنے والے بھی یہی مسلم تنظیموں کے نوجوان تھے ۔۔۔۔۔۔
بھارت اور بھارت کی عوام آخر کیسے ان کی خدمات کو فراموش کرے گی ؟؟؟
سیلاب زدہ علاقوں میں روتے بلکتے اُن چہروں کو کیسے بھولا جاسکتا ہے ، جنہیں محفوظ مقامات تک پہنچانے کے خاطر مسلم تنظیموں کے انہیں نوجوانوں نے ہر بار اپنی جانیں جوکھم میں ڈالی ہیں ، خود کمر سے اوپر تک سیلاب میں ڈوب کر لڑکھڑاتی اُن کشتیوں کو سہارا دیا ہے جن میں سوار بچے بوڑھے خواتین خوف سے کانپ رہے تھے ، یا اُن کاندھوں کو کیسے بھولا جاسکتا ہے جن پہ بٹھاکر کئی جانیں بچائی گئ ۔۔۔۔۔۔
اُن بےسہارا بیمار لوگوں کے لئے کھانے پانی دوائی کا انتظام کیا گیا ، حتی کے کیچڑ سے لت پت اُن کے گھروں کی صفائی تک ان مسلم تنظیموں نے کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ گھر تو گھر مندروں کا کیچڑ صاف کرنے والے بھی یہی مسلم نوجوان ہیں ۔۔۔۔۔۔
ملک میں پیش آنے والی ہر ناگہانی سورتحال میں یہی ہیں جو ہر طوفان کے آگے چٹان بن کر ڈٹ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
انسان تو انسان یہ گڈھے میں پھنسے جانور کو بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے، بغیر وقت ذائع کئے مرہم پٹی لے کر ریسکیو کے لئے نکل جاتے ہیں،۔۔۔۔۔
اُس وقت نہ مذہب دھرم دیکھا جاتا ہے نہ ہی اونچ نیچ ، سب کا صرف ایک ہی رشتہ ہوتا ہے انسانیت اور ہمدردی کا ، اُس وقت تو کسی کے دل و دماغ میں ہندوراشٹر یا مسلم راشٹر کا خیال تک نہیں آتا ۔۔۔۔۔۔۔ پھر یہ سب الیکشن کے قریب ہی کیوں ؟؟؟؟

آٹھ مہینوں میں انتخابات ہونے والے ہیں تو کس شاطرانہ طریقے سے ان کی تمام خدمات کو فراموش کرکے ان پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا جارہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ افسوس صد افسوس
اگر واقعی میں یہ دہشتگرد ہیں تو
یتی نرسمہانند کون ہے ؟؟؟
جس نے مدارس کو بم سے اڑادینے کی بات کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
وہ بی جے پی ایم ایل اے کون ہے ؟؟؟
جس نے ترنگے کی توہین کرتے ہوئے لال قلعہ پر بھگوا جھنڈا لگانے کی بات کہی تھی ۔۔۔۔۔۔
اُس نپور شرما نامی دہشتگرد کو کیسے بھلایا جاسکتا ہے جس کی گندی زبان نے پورے ملک میں آگ لگادی ، عالمی سطح پر بھارت کو شرمندہ کرنا چاہا ۔۔۔۔۔۔۔
بی جے پی کے وہ تمام لیڈران کون ہیں جو مسلم خواتین کو اُن کے گھروِں سے اغوا کرکے ریپ کرنے کے لئے بھیڑ کو اکساتے ہیں ۔۔۔۔۔ ؟؟؟
حاملہ خواتین کا پیٹ چیرنے کی بات دہرائی جاتی ہے ۔۔۔۔۔ ؟؟؟
وہ کون ہیں جو کھلے عام ملا کاٹے جائینگے جیسے اشتعال انگیز نعرے لگاتے ہیں ۔۔۔۔۔
راشٹرپتا گاندھی جی کے پتلے کو گولی ماری جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔
آخر یہ سب کون ہیں ؟؟؟
کہاں کی پیداوار ہیں ؟؟؟
جو گاندھی کے قاتل بھارت کے پہلے دہشتگرد گوڈسے نامی قاتل کی پوجا کرتے ہیں ؟؟؟
اسکول میں پڑھائی کرنے والے معصوم بچوں کے ہاتھوں میں کتابوں کی جگہ نفرتی ہتھیار دینے والی اُن ہندو تنظیموں کے خلاف کیوں کوئی کاروائی نہیں کی جاتی ؟؟؟
آر ایس ایس کے کئی کارکنان دہشگر تنظیموں کے ساتھ ملوث پائے گئے ہیں آخر اس پر بین کیوں نہیں لگایا جاتا ؟؟؟
بین کرنا تو بہت دور کی بات ہے آر ایس ایس پہ کسی قسم کی کاروائی تک نہیں کی جاتی، نہ ہی ان کے گھروں دفاتر میں این آئی اے یا ای ڈی کا چھاپہ پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ بھارت میں بی جے پی واحد ایسی پارٹی ہے جو الیکشنس سے لے کر الیکشنس کے بعد پارٹیاں توڑنے جوڑنے کے چکر میں کروڑوں کی رقم پانی کی طرح بہارہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ افسوس ای ڈی کی رسائی یہاں تک نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔
خیر ملک کے حالات جس کی لاٹھی اُسی کی بھینس والے ہوچکے ہیں ۔۔۔۔۔۔
ایسے میں یہی خاموشی رہی تو یقین جانیں کوئی نہیں بچے گا ایک ایک کرکے سب کا نمبر ضرور آئے گا پھر بلڈوزر بھی چلیں گے، ڈٹنشن کیمپس بھی بھرے جائیں گے اور اُس وقت رونے کے سوا کچھ نہ بچے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ وقت آجائے
بول کے لب آزاد ہیں تیرے
بول کے اب خاموشی جرم ہے تیری
بول کے تو اب بھی زندہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے