پانچ افسانچے- پانچ رنگ : از- ذاکرہ شبنم کرناٹک

98

          ١-” قیمتی جہیز”

    عارفہ کی شادی چار دن قبل بہت خوش اسلوبی کے ساتھ انجام پاٸی. اُس کے ابّو نےاُسے اچھی تعلیم وتربیت سے آراستہ کیا تھا، وہ دینی مدرسہ سے فارغ التحصیل عالمہ تھی- جس پر اُس کے میکے والوں کے ساتھ ساتھ سسرال والوں کو بھی ناز تھا، سبھی بہت خوش تھے… مگر سسرال میں آۓ اِن چار ہی دنوں میں آس پڑوس کی عورتوں کا دلہن کی منہ دکھاٸی کے لۓ آناجانا اور کہنا سننا بھی بہت ہو رہا تھا…آج بھی اُس کے قریب بیٹھی عورتیں باتیں کرنے لگیں، کہ دلہن تو ماشااللہ بہت پیاری ہے- مگر دلہن کے والدین نے دلہن کو جہیز میں کچھ بھی خاص نہیں دیا ہے،کوٸی بھی قیمتی چیز اپنی بیٹی کو نہیں دی ہے… عارفہ دو تین دن سے یہ سب کانا پھوسی سن رہی تھی، آج اُس سے رہا نہیں گیا وہ اپنی جگہ سے اُٹھی اور اپنے کمرے میں جا کر “قرآنِ مجید فرقانِ حمید” اپنے ہاتھوں میں سنبھالے سینے سے لگاۓ سب کے درمیان واپس چلی آٸی- اور کہنے لگی: یہ ہے جو میرے والدین نے دیا ہے مجھے، میرا قیمتی جہیز اللہ کی نازل کردہ کتاب، دستورِ حیات،اسِ میں اللہ رب العزت نے وہ طاقت موجزن کر رکھی ہے، کہ جس کے سہارے میں ساری زندگی صبر اور شکر کے ساتھ گذار سکتی ہوں الحمداللہ…..!!

سبھی عورتیں اپنی نظریں جھکاۓ ایک ایک کر کے وہاں سے کھسکتی چلی گیٸں……!!!

٢-                “آہ- یہ مفلسی”

  کچھ ماہ پہلے کی بات ہے وہ ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کا انتظار کر رہا تھا، ٹی اسٹال سے چاۓ لی اور ایک جگہ بیٹھ کر پینے لگا، ابھی چاۓ ختم بھی نہ ہونے پاٸی تھی ایک چار پانچ سال کا بچہ بوسیدہ سے جگہ جگہ پھٹے ہوۓ کپڑوں میں ملبوس اُس کے پاس آکر کھڑا ہوگیا….اُس نے سوچا اُس بچہ کو کچھ پیسے دے دوں، اِس سے پہلے کہ وہ اپنی جیب سے پیسے نکالتا بچہ نے اُس کے ہاتھ سے کپ مانگ لیا، پھر لمحوں میں دوڑ بھی گیا -اور اُسے کچھ عجیب سا لگا کہ اُس بچہ نے پیسے دینے تک کا انتظار نہیں کیا، ڈسبین میں ڈالنے والےکپ کو لیتے ہی ٹہرے بنا لمحہ بھر میں نہ جانے کہاں دوڑ گیا….اِتنے میں اُس کی ٹرین بھی آگٸ اوروہ جا کے ٹرین میں بیٹھ گیا- ٹرین بس نکلنے ہی والی تھی- کھڑکی سے اُسکی نظریں یہ حیرت زدہ منظر دیکھتی رہ گیٸں کہ پلیٹ فارم کے ٹی اِسٹال کے پیچھے وہی معصوم بچہ بہت سارے کپ جمع کۓ ہوۓ بیٹھا ایک ایک کپ اُٹھاۓ جارہا تھا اور اُس میں بچے ہوۓ چاۓ کے جھوٹے قطرے اپنے منہ میں ڈالے جارہا تھا…..!!!

٣-                   ” برتھ ڈے”

   اطہر اورشاداب دونوں ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے- اور بہت اچھے دوست بھی تھے،آج شاداب کا برتھ ڈے تھا، اسکول کے بعد شاداب کی ضد کے آگے آج اطہر اُسے منع نہیں کر پایا…. شاداب خوشی خوشی اپنے ساتھ اطہر کو لۓ اپنے گھر میں داخل ہوتے ہوۓ اپنی امّی کو زور زور سے آواز دینے لگا امّی دیکھو تو آج میرے برتھ ڈے پر شاداب بھی آیا ہے، میری ضد پر آج شاداب کو آنا ہی پڑا…..

پھر شاداب کے ابو بھی کیک لیکر آگۓ – شاداب نے خوشی خوشی اپنے نام کا بناخوبصورت کیک کاٹا  اور سارےجمع دوست احباب کی خاطر داری کی گٸ سب کو کیک وغیرہ کھلایا گیا… اطہر کو دیر ہورہی تھی اُس نے شاداب اور اُس کے امّی ابّو سے اجازت چاہی، شاداب کی امّی اطہر سے مخاطب ہوٸیں، اطہر بیٹا تم پہلی بار شاداب کی برتھ ڈے پارٹی میں آۓ ہو اس سے پہلے کبھی نہیں آۓ، تمہارا برتھ ڈے کب ہے؟کیا تمہارا برتھ ڈے نہیں منایا جاتا؟

آنٹی ایسی بات نہیں ہے ہم بھی برتھ ڈے مناتے ہیں، شاداب کی امّی نےمسکراتے ہوۓ فوراً پوچھا پھر تم نے اپنے دوست شاداب کو کبھی نہیں بلایا؟…اطہر  مسکراتے ہوۓ کہنے لگا آنٹی وہ ہم لوگ کچھ الگ طریقہ سے برتھ ڈے مناتے ہیں…شاداب کی امّی تعجب کے ساتھ پوچھ بیٹھی-الگ طریقہ سے وہ کیسے بیٹا؟

آنٹی ہمارے گھر میں چاہے کسی کا بھی جنم دن ہو اُس دن سبھی روضہ رکھتے ہیں ابّو ہمارے لۓ نۓ کپڑےاور گفٹ بھی لاتے ہیں، ہمارا پسندیدہ کھانا بنوایا جاتا ہے،افطاری اور بعد نماز کے ابّو ہم سب کے لۓ اللہ تعالٰی سےخوب دعا مانگتے ہیں…. آنٹی ہمارےابّو کہتے ہیں کہ اٍس طرح اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرنے سے اللہ تعالٰی ہماری آنے والی زندگی میں کامیابی عطا فرماٸیں گے،اور ہمیں اپنی حفظ وامان میں رکھیں گے….

اطہر کی باتیں سن کر شاداب کے امّی ابّو دونوں ایک دوسرے کو حیرت سے تکے جارہےتھے….!!!

٤-                   “منظر پیارا لگا”

عیدالفطر کے بعد فون میں انکل سے بات ہورہی تھی- وہ پوچھنے لگے کہ رمضان المبارک کیسے گذرا…میں نے کہا اِس بار کورونا واٸرس کی وجہہ سے لاک ڈاٶن کے چلتے مسجدیں بند اور تراویح گھروں میں پڑھی گیٸں اِسلۓ مایوسی چھاٸی رہی، انکل زندگی میں پہلی بار یہ سب دیکھنےکو ملا بڑا ہی عجیب سا ماحول رہا….

میری بات پر وہ ہنستے ہوۓ کہنے لگے-کہ- بیٹا مجھے تو بڑا مزہ آیا…تعجب کے ساتھ میری زبان سے نکلا،انکل مزہ آیا؟..پھر انکل کی آواز آٸی، بیٹا احتیاط کی خاطر مسجدیں بند ہوٸی تھیں مگر اللہ کی کرنی دیکھیۓ اللہ نے ہر گھر کو مسجد بنادیا تھا…..

روزانہ میرا بیٹا ہر نماز اور تراویح میں اِمام بنتا اور ہم سب مقتدی،اور مجھے یہ منظر بڑا پیارا لگا…..!!!

٥-              “اِسٹیٹس(Stetus)”

میری پراٸمری اسکول کی ٹیچر آپا جن کا ہم سب بہت احترام کرتے ہیں- شروع سے ہی وہ میری پسندیدہ رہیں، ہر لحاظ سے قابلِ قدر اُن سے ہمیں صرف علم ہی نہیں ملا بلکہ قدم قدم پر ادب اور تہذیب کا بھی درس اُنکی شخصیت سے ہمیں ملتا رہا ہے- اب تو وظیفہ یاب بھی ہو گیٸں ہیں- یہ میری خوش قسمتی ہے کہ آج بھی میں اُن کے بہت قریب ہوں،جب بھی من کرتا ہے فون پر تو بات ہوتی ہی ہے، اُن سے ملنے بھی چلی جاتی ہوں ،اور ڈھیر ساری دعاٸیں لے کر آتی ہوں….آپا بھی مجھ سے بڑی محبت کرتی ہیں، میری تخلیقات بہت چاہت سے پڑھتی ہیں،اور بہت خوش ہوتی ہیں- جب بھی اُن سے ملتی ہوں، میں کچھ نہ کچھ سیکھتی ہی رہی ہوں….آج بھی اُن کی یاد آٸی تو اُن سے ملنے کے لۓ چلی گٸ، اکثر وہ میرے تخلیقی سفر پر ہی گفتگو کرتیں، میں نے ایسے ہی ٹاپک بدلتے ہوۓ اُن سے کہا، آپا میرے فون پر ڈالے گۓ اِسٹیٹس آپ پابندی سے دیکھتی ہیں،میں خوش ہوجاتی ہوں اِس بات پر….تو اُنہوں نے کہا مجھے تمہارے اِسٹیٹس بہت پسند آتے ہیں- شکریہ آپا میں نےخوش ہوتے ہوۓ شکریہ ادا کیا- پھر وہ کہنے لگیں میرے جتنے بھی اِسٹوڈنس کے نمبر میرے پاس ہیں، میں سب کے اِسٹیٹس دیکھتی ہوں- اِس مُٹھّی بھر موباٸیل میں بھی کٸ کمال چُھپے ہوۓ ہیں، واٹس ایپ کے اِسٹیٹس (stetus)سے سبھی کے اِسٹیٹس کا پتہ چل ہی جاتا ہے…..!!!