پارٹی بندی یہ عذاب خداوندی ہے

58

      *پارٹی بندی یہ عذاب خداوندی ہے*
قوم لوط پرآسمان سےپتھر کی بارش ہوئی ہے۔قارون کواللہ نے زمین میں دھنسادیاہے۔فرعون وہامان اور قوم نوح کو پانی میں ڈبودیاہے۔ایک زبردست چینخ اور چنگھاڑ نے قوم ثمودکاکام تمام کیاہے۔ان اقوام عالم کی خدائی گرفت ہوئی ہے جو ان سےسرزدگناہوں کی وجہ کر ہے،یہ عذاب خداوندی ہے ۔زمین والوں کی طرف سے جب بھی اجتماعی ظلم ہوا ہے،خداکے احکام کی صریح خلاف ورزی ہوئی ہے ۔موجود ومبعوث نبی کی توہین وتکذیب کی گئی ہے، خدا کی طرف سے ان پراجتماعی عتاب بھی نازل ہوا ہے،اسی کا نام عذاب ہے۔ قرآن نے کھول کھول کراس کو بیان کیا ہے۔
عذاب دراصل خدا کی ناراضگی کا نام ہے ۔یہی ناراضگی کبھی پتھر بن کر برس گئی ہے، کبھی طوفان میں تبدیل ہوئی، کبھی سیل رواں بن گئی ،کبھی خطرناک چینچ بن کرنافرمان قوم کے کلیجہ کو پھاڑ گئی ہے ۔اسے خدائی عتاب کہئے ،پکڑ کہئے،گرفت کہئے،بات توایک ہی ہے۔ان سب کےمجموعہ کا نام آسمانی عذاب ہے۔نوعیت کے اعتبار سے اس کی تین قسمیں ہیں ،قران میں لکھاہے؛تو کہہ اسی کو قدرت ہے اس پر کہ بھیجے تم پر عذاب اوپر سے یا تمہارے پاوں کے نیچے سے یا بھڑادے تم کو مختلف فرقے کرکے اور چکھادے ایک کو لڑائی ایک کی( سورة الأنعام :65)
درج بالا قرآنی آیت میں اوپر سے خدائی عذاب کی بات کہی گئی ہے۔ یہ پتھر کی بارش ہے، طوفانی ہوا ہے،تیزوتندآندھی ہے ،یہ عذاب خداوندی ہے جوانسان کےاوپرسےنازل شدہ ہے، بہت ساری قومیں ان کےذریعہ ہلاک وبرباد کی گئی ہیں۔جنکا سرسری تذکرہ اوپر گذر گیا ہے ۔دوسری قسم عذاب کی جس سےبہت سی اقوام وملل تہ تیغ کردی گئی ہیں ،انکے پاوں کے نیچے سےاسے برپاکیاگیاہے،زلزلہ، سیلاب، زمین میں دھنسادینا اور گھسادینا ہے ۔ان دونوں عذاب کا تعلق پچھلی امتوں سے ہے۔امت محمدیہ پر خدا کا خاص کرم ہے کہ آقائے مدنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے یہ دونوں طرح کے عذاب اس امت سے اٹھالئے گئے ہیں ۔لیکن ایک نئی اورتیسری قسم عذاب الہی کی مذکورہ آیت میں بیان کی گئی ہے،مفسرین نے اسے  امت محمدیہ کے لئےخاص کہا ہے ،اس کا تذکرہ مذکورہ آیت قرآن میں اخیر میں کیا گیا ہے وہ یہ کہ  “بھڑادے مختلف فرقے کرکے اور چکھادے ایک کو لڑائی ایک کی “یہ دراصل گروہ بندی ، پارٹی بندی اور فرقہ بندی کا نام ہے ۔یہ عذاب کی تیسری قسم ہے جو امت محمدیہ میں اس وقت ہندوستان سمیت پوری دنیا میں موجودہے۔پڑوسی ملک سےتوعجیب غریب خبریں آرہی ہیں ،وہاں فرقہ بندی کی گویاانتہاہے۔ایک دوسرےکی گردن زدنی کی بات کی جارہی ہے،حیرت کی بات توہےکہ جولوگ اس کےخلاف آوازاٹھارہےہیں انہیں اپنی جان کوبھی شدید خطرہ ہے۔اسےمذہب کےنام پرپرموٹ کیاجارہاہے،جبکہ نہ یہ اسلام ہےاورنہ یہ قرآن کہتاہے،بلکہ قران کی زبان میں یہ عذاب خداوندی ہےجس سےیہ سبھی دوچارہیں،اللهم احفظنامن ذالك ۔اپنےوطن عزیزمیں بھی صورتحال اسی نوعیت کی پیداکرنےکی حالیہ کچھ سالوں کوششیں کی جارہی ہیں اور بہت حدتک کامیابی بھی ملی ہے۔امت میں شیرازہ بندی شریعت اسلامیہ میں اس کی اجازت قطعی نہیں ہے۔یہاں بھی اس وقت اسی میں یہ امت مبتلا ہوگئی ہے ۔
تیسری عذاب خداوندی کی قسم اتنی شنیع ہے کہ پچھلی امتوں کی ہلاکت کا ذریعہ بننے والے عذاب کی دونوں قسموں کے نازل کرنے کا بھی یہ ذریعہ بن جاتی ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ اس سے اس امت کا استیصال نہیں ہوگا مگر اس کا شکار جزوی طور پر یہ امت رہی ہے اور موجودہ وقت میں نظر آتی ہے ۔
 خدائی ناراضگی ہی ہے جس سے آسمانی آفات کا سامناہے،اس کی نحوست سے امت محمدیہ کے لئےزمین باوجود اپنی وسعت کے تنگ ہوگئی ہے ۔
اپنے وطن عزیز بھارت میں ہمیں اس وقت کوشش اسی بات کی ہورہی ہے کہ آپس میں یہ قوم متحد نہ ہونے پائے جس کا کھل کر سبرامنیم سوامی کے ذریعے 2019 کے لوک سبھا الیکشن سے پیشتر اعلان بھی کیا گیا ہے ۔اسی کو سنکر اس امت میں بیداری بھی دیکھنے میں آئی تھی، بریلویوں، دیوبندیوں، صوفیوں، سنیوں نے کلمہ واحدہ کی بنیاد پر اتحاد کی کوششیں بھی کیں، مگر اس پر بھی نظر لگ گئی ہے ۔علمائے کرام پھر سے ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار نظر آنے لگے ہیں ۔حکومت وقت نظریاتی طور پر ایک دوسرے کو لڑانے اور ٹکرانے میں لگی ہوئی ہے ۔حکومت ایک ایک تنظیم اور ایک ادارے کے کئی ٹکڑے چاہتی ہے ۔یہ وقت انتشار واختلاف سے واپس آجانے کا متقاضی ہے ۔اس عذاب سے نکلنے کی واحد شکل یہی ہے ۔ اس وقت ملک وملت کی تصویر اسی سے بدلنے والی ہے ۔                        آئیے اس عنوان پر کوشش کرکے دیکھتے ہیں۔ اپنی قوم میں صلاحیت کی کمی نہیں ہے۔ضرورت فقط اس کےصحیح سمت میں استعمال کرنےکی ہے۔اس وقت ہنگامی کام تویہی ہے۔اس آخری قسم عذاب کی جو آخری امت پرمسلط ہے، اس سے نجات اور چھٹکاریے کے لئےدعااوردوادونوں کی ضرورت یے۔ارباب حل عقدواکابرین عمائدین وعلمائےدین سےاس تحریرکےذریعہ گذارش کی جاتی ہے۔بدون اس کےپیش آمدہ حالات سے نکلنے کے لئے کوئی سبیل نہیں ہے اورنہ آئندہ کسی خیرکی امید کی جاسکتی ہے۔قرآن کی بات ہے جو آخری کتاب یے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خدا کا وعدہ بھی ہے کہ آپ کی موجودگی میں کوئی عذاب آپ کی امت پر نہیں آسکتا ہے ۔مفسرین نے اس وعدہ کو آپ کی حیات مبارکہ کے ساتھ خاص کیا ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ آپ صلعم نے کہا ہے کہ جب تک تمہاری وابستگی  کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ سے ہے یہ تمہارے لئے صراط مستقیم کی دلیل  ہے۔گویا زندگی میں سنت وشریعت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت قیامت تک کے لئے ہرہر امتی کو نصیب ہے۔اس کے ذریعے خداکی ناراضگی اور عذاب الہی سے حفاظت بھی مقصود ہے۔
       فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
      کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ