ٹوکیو اولمپک میں کلائمیٹ چینج بنیگا کھلاڑیوں کے لئے تکلیف کا باعث 

171

ٹوکیو اولمپک میں کلائمیٹ چینج بنیگا کھلاڑیوں کے لئے تکلیف کا باعث

اولمپک کھیلوں کی پہچان ان پانچ چھلوں (Rings) سے ہوتی ہے جو بالترتیب آپس میں پھنسے ہوئے ہوتے ہیں لیکن سائنسدانوں کی مانیں تو رواں سال جولائی میں جاپان کے شہر ٹوکیو میں منعقد ہونے والے اولمپک کھیلوں میں وہ پانچ چھلے آگ کے شعلوں سے کم نہیں ہونگے
دراصل دنیا کے چند منتخب کھلاڑیوں کی تائید یافتہ ایک نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے انتباہ دیا ہے کہ کلائمیٹ چینج (موسمیاتی تبدیلی) کے نتیجے میں گرمی اور امس کی اعلی سطح جولائی میں ٹوکیو اولمپک کے مساہمین کے لئے سنگین خطرہ پیدا کرسکتی ہے
’برٹش ایسوسی ایشن فور سسٹینبلٹی ان اسپورٹس‘ (BASIS) اور لیڈس یونیورسٹی میں پریسٹلی انٹر نیشنل سینٹر فار کلائمیٹ نیز پوسٹ ماؤتھ یونیورسٹی کی ماحولیاتی لیبارٹری کے سائینسدانوں کی اس تحقیق کا عنوان ہے ’رینگس آف فائر: ہاؤ ہیٹ کڈ امپکٹ دی 2021 ٹوکیو اولمپک‘ (آگ کے چھلے: ٹوکیو اولمپک 2021 کو گرمی کیسے متاثر کرسکتی ہے) ، اس تحقیق میں شامل کھلاڑیوں میں خاص طور پر ٹرائی ایتھلیٹ، روورس(ملاح)، ٹینس کھلاڑی اور میراتھن دوڑ کے مساہمین قابل ذکر ہیں، اس تحقیق میں سائنسدانوں نے کھلاڑیوں کو گرمی کی شدت سے نپٹنے کیلئے صلاح و مشورے بھی دئیے ہیں،
معاملہ کی سنگینی کو اس بات سے سمجھا جاسکتا ہے کہ جاپان کی دارالحکومت ٹوکیو اس مرتبہ اولمپک کھیلوں کا میزبان ہے اور وہاں اوسطا سالانہ درجہ حرارت میں 1900 کے بعد سے 2.86 ڈگری سیلسیس کا اضافہ ہوا ہے جو دنیا کے اوسط سے تین گنا تیزی کے ساتھ ہوا ہے،
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 1990 کی دہائی سے ٹوکیو میں زیادہ سے زیادہ یومیہ درجہ حرارت 35 ڈگری سیلسیس سے زائد ہونا عام بات ہوگیا ہے جبکہ 2018 میں ایک سنگدل گرم شہر ہونا ٹوکیو میں(بغیر کلائمیٹ چینج کے) نا ممکن ہوتا۔
معروف برطانوی ملاح میل ولسن اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”مجھے لگتا ہے کہ ہم یقینی طور پر ایک پر خطر علاقے میں آرہے ہیں … یہ ایک سنگین موقع ہے جب آپ کھلاڑیوں کو لائن پار کرتے ہوئے دیکھتے ہیں اور انکے جسم تھک کر گرجاتے ہیں اور پھر نہیں اٹھ پاتے ہیں ۔
پوسٹ ماؤتھ یونیورسٹی کے شعبہ صحت و ریاضت و کھیل کود کی ماحولیاتی لیبارٹری میں ہیومن اینڈ ایپلائڈ فزیولوجی کے پروفیسر مائیک ٹپٹن کا کہنا ہے کہ” اولمپک کے منتظمین کو مذکورہ تحقیق میں دئیے گئے انتباہ کو سنجیدگی سے لینا چاہیے ورنہ انکو کھلاڑیوں کے لئے سخت خطرہ کا سامنا کرنا پڑیگا“
برطانوی تھرائٹلین فیڈریشن کے ہیڈ کوچ بین بائٹ کہتے ہیں” کہ دوڑ کے دن 2-1 ڈگری کا فرق پروگرام کے محفوظ انعقاد پر اثرانداز ہوگا“
بہرحال اس تحقیق کے نتیجے میں میراتھن دوڑ اور سائیکلنگ کے انعقاد کو ٹھنڈی آب و ہوا والے علاقوں میں منتقل کردیا گیا ہے لیکن دیگر کھیلوں کو جولائی میں آگے بڑھنے سے پہلے سیکورٹی جانچ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جبکہ آى او سی (IOC) کو عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کی بنا پر آئیندہ اولمپک کی میزبانی کے انتخاب میں موسمیاتی اعداد و شمار کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت پڑسکتی ہے، 2019 ایتھلیٹکس چیمپئن شپ دوحہ میں گرتے ہوئے کھلاڑیوں کی تصویریں ابھی ذہن سے نہیں نکل سکی ہے اور منتظمین اس بات کا اعتراف بھی کرچکے ہیں کہ ٹوکیو میں گرمی اور امس کی سطح ایک برا خواب ثابت ہوسکتی ہے
بیجنگ 2008 اولمپکس کی کھلاڑی اور اب تک کی دوسری سب سے تیز دوڑنے والی برطانوی خاتون کھلاڑی مارا یاموئچی کہتی ہے کہ ”مجھے پوری امید ہے کہ کھلاڑیوں کی نئی نسل اولمپک میراتھن میں محفوظ طریقے سے حصہ لے سکیں گے جیسا کہ خوش قسمتی کی بنیاد پر میں ایسا کرسکی تھی ، لیکن گرم ماحول ہونے کی وجہ سے میراتھن دوڑ کے شرکاء کو گرمی کا عادی ہونا پڑیگا“
2021 اہم انعقادات کا سال ہے جسمیں نومبر میں اسکاٹ لینڈ کے گلاسگو میں اقوام متحدہ کا سالانہ COP26 کلائمیٹ کانفرنس کا انعقاد ہونا ہے، تمام ممالک کے ذریعے تیل،گیس اور کوئلے کے استعمال میں تخفیف کے لئے کچھ اہم اہداف کے اعلان کی امید کی جارہی ہے جبکہ کوئلے کا سب سے زیادہ استعمال کرنے والا جاپان ابھی تک صاف ایندھن کو اختیار کرنے کی مخالفت کررہا ہے
  ۔BASIS کے CEO رسیل سیمور کہتے ہیں کہ ”اب وقت آگیا ہے کہ عالمی کھیل انعقادات کے منتظمین کو کھیلوں کی میزبانی طے کرتے وقت موسم اور ماحولیاتی پائیداری کو ملحوظ رکھنا ہوگا جیساکہ ہمیں اس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم کلائمیٹ چینج کو معمولی پریشانی کے طور پر سمجھنے والے رویے کو جاری نہیں رکھ سکتے ہیں نیز کھلاڑیوں اور شائقین کے لئے خطرہ ایک اہم تشویش کا باعث ہے
بشکریہ کلائمیٹ کہانی ڈاٹ کام
مترجم: محمد علی نعیم رازی
9410626398