ٹریکٹر پر ترنگا بوال یا سوال آخرکیوں؟ شاہد عادل قاسمی ارریہ

36

ٹریکٹر پر ترنگا بوال یا سوال آخرکیوں؟
شاہد عادل قاسمی ارریہ
27نومبر2020 سے ہی دیش میں ایک آندولن آئے دن ایک ہنگامی صورت اختیار کرتا جارہا ہے،کبھی مباحثہ ،کبھی مفاہمت ،کبھی تلخی،کبھی عدالت،کبھی پولیس تو کبھی کمیٹی کی آنکھ مچولی سے بھارت ہی نہیں پوری دنیاواقف ہے،درجن کے قریب نشستیں پھر بھی بے نتیجہ، کئی درجنوں کی شہادت پھر بھی لا حاصل،بڑے بزرگوں کے علاوہ خواتین اور بچوں کی زوردار اشتراکیت پھر بھی بےمعنی ہوتی نظر آئی
آج سے تقریبا 37سال قبل وہ کسان ریلی جو دلي کے بوٹ کلب میں مہندر سنگھ ٹکیٹ کی سرپرستی میں گنا کے دام میں اضافہ اور بجلی وپانی کے بلوں میں رعایت کو لیکر ہوئی تھی اس سے کہیں زیادہ اندوہناک صورت اب کی بار دیکھنے کو مل رہی ہے،اس وقت بھی حکومت نے کافی وقت لیا تھا ،مگر کسانوں کی
یکجھتی نے حکومت کو گھٹنے پر لادیا تھاجس باعث حکومت کو کسانوں کی مانگ کو پورا کرنا پڑا تھا،
موجودہ حکومت نے بھی تین قانون لاکر ملک کے کسانوں کوآج روڈ پر بٹھا دیا ہے،دسمبر اور جنوری کی خنك ٹھنڈک،اولے اور شبنم کی سرد لہریں اس پر برسات کا قہر،ایسا دلدوہ منظر کو دیکھ کر آنکھیں اشکبارہو گئیں مگر حکومت کی ڈ ٹھائی ابھی بھی اپنے عروج پر براجمان رہیں،ایک حکومت کا اپنے ماتحتوں سے کیسا سلوک ہوتا ہے اور اس حکومت نے کیسا برتاؤ کیا جگ ظاہر ہے،
وزیر داخلہ سے لیکر زرعی منتری تک کے مابین گفت و شنید ہوئی مگر بے نتیجہ رہی اس کو کیا نام دیا جائے، سبھی جانتے ہیں کہ زرعی معشیت ملک کا اہم اور مضبوط اسٹریم ہے، ملک کی اکثریت کا رشتہِ کسانوں سے مربوط ہے،ملک کاهر باشندہ کسانوں کے محتاج ہیں، پھر بھی ان اناج داتاوں کے ساتھ ایسا انصاف چہ معنی دارد ،
کسانوں کی مانگ منڈیوں کا اضافہ ،اناج اور فصلوں کے داموں میں بڑھوتری اور بجلی پانی کے بلوں میں رعایت ہو پھر اسی کے خلاف حکومت کا بل آخر کیوں،
ہم مانتے ہیں کہ حکومت اور کسان ہمیشہ دو الگ محور رہے ہیں ،گاہے بگاہے کسانوں کا آندولن رہا ہے کبھی ہریانہ پنجاب اترپردیش اور ملک کے جنوبی اور مغربی جانب سے احتجاج کا علم بلند ہوا ہے ،ملک کی تاریخ میں سو سال سے کسان احتجاج درج ہے مگر آج کا کسان آندولن قدرے مختلف ہے،شمالی بھارت سے اٹھا یہ طوفان آئے دن اپنی جانب ملک ہی نہیں پوری دنیا کو ملتفت کررہی ہے،ایسا احتجاج جس میں رنگ نہ کوئی روغن،ایسا آندولن جس میں قوم نہ کوئی دھرم،ایسی تحریک جس میں اونچ نہ کوئی نیچ،ایسا ردعمل جس میں ذات نہ کوئی چھووا چھات بلکہ ایک حسین گلدستہ جیسمین ہر طرح کے پھول لگے ہوئے ہیں ،ایک سچا ہندوستان جیسمین ہر رنگ کے کنول کھل رہے ہیں اور ایک لہلاتا باغیچہ اپنی کشش سے پورے عالم کو اپنے جانب متوجہ کیے ہوئے ہے،
موجودہ سرکار نے ستمبر 2020میں بڑی تیزی سے تین زرعی قانون کو پارلیمنٹ میں پاس کرلیا جس سے ملک کے کسانوں میں غم و غُصہ کا ماحول پیدا ہوگیا اور سخت سردی میں اپنی جانوں کی پرواہ کیے بنا دارالحکومت دہلی کا سفر کرلیا اور آج دوماہ ہونے جارہے ہیں ،نصف شتک سے زیادہ جانیں قربان ہوچکی ہیں پھر بھی جوان، تندرست کیا بوڑھے ،ضعیف،کمزور،بیمار،خواتین اور بچے بچیاں تک سڑکوں پے جمیے ہوئے ہیں،
اس احتجاج میں رواداری اور قومی یکجحتی کہ ایسا نمونہ دیکھا گیا جس سے سیکولرزم کا سینہ سوانچ سے اوپر ہوگیا ،ایک تصویر جو پوری دنیامیں وائرل ہوئی جس میں کچھ مسلم کسان نماز پڑھ رہے ہیں اور سکھ سمیدایک کے لوگ اس کی حفاظت کیلئے گھیرا بندی کیے ہوئے ہیں یہی اس مٹی کی پہچاں ہے ،یہی یہاں کی سنسکرتی ہے ، اسی کو گنگا جمنا تہذیب کہتے ہیں ،اسی باعث دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک انڈیا کو کہا جاتاہے،
سرکار کسانوں کو فائدہ پہنوچاناچاہتی ہے اور کسان اس کو اپنا حق تلفی سمجھتا ہے اور صاف لفظوں میں کہتا ہے کہ ہم نے فائدہ تو مانگا ہی نہیں ہے،سرکار کسانوں کے فصلوں کواچھے داموں نجی کمپنیوں میں فروخت کرنے کے فوائدبتاتی ہےتو کسان منڈیوں کی بڑہوتری کیلئے اپیل کرتا ہے،سرکار اناج ،دال،پیاز اور کھانے کے تیل کے ذخیرہ اندوزی کا سبق سمجھا تی ہے تو کسان ایم ایس پی کی بات کرتا ہے،سرکار کسانوں کو معاہده کاشتکاری کا فلسفہ سمجھا تی ہے تو کسان مستقبل کے خدشات کا اظہار کرتا ہے،
کافی سمجھنے سمجھانے کی کوششیں ہوئیں مگر نتیجہ صفر ہی رہا،
کسانوں کاخدشہ کسی حد تک درست بھی ہے، کیونکہ زرعی قوانین میں کئی بار پہلے بھی تبدیلیاں ہوئی ہیں ،مگر ہمیشہ سست رفتار ہی رہی ہے ،کسان مانیں تو کیسے مانیں، یہ ماضی میں بھی ٹھگے جا چکے ہیں ،غضب تواسی وقت ہوگیا تھا جب ان تینوں قوانین کی نفاذ پر حکومت کی حمایتی اور حلیف پارٹی *اکالی دل* نے اپنا رشتہِ توڑ لیا تھا،پھر بھی حکومت کے کانوں جوں تک بھی رینگا،
حکومت کے لیٹ لطیفے،ایک قدم آگے نہ پیچھے کی ضد نے آخر کسانوں کو یہ کہنے پر مجبور کردیا کہ *پہلے بل واپسی پھر گھر واپسی*
اس کشمکش میں بھارت کا یوم جمہوریہ آگیا،26جنوری کو ہندوستانی عوام مہا پرو کے طور پر منا تا ہے،حکومت مختلف جھانکیا ں پیش کرتی ہیں ،جوش و جنون کا ایک پاکیزہ جذبہ لیے پبلک اس دن ترنگے کو سلام کرتی ہے،مجاہدین ہند کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے،ہندوستانی آئین اور بابا بھیم راؤ امبیڈکر کو خصوصی طور پر یاد کرتی ہے، مگر موجودہ یوم جمہوریہ کی کیفیت ہی الگ سی محسوس ہورہی ہے،ایک ٹکراؤ کا ڈر،اتحاد اور سالمیت کے پارہ پارہ ہونے کاخوف ،ملک کی املاک کے ضائع ہونے کا خدشہ،اور کافی ساری وحشتیں اور دہشتیں لاکھوں دھڑکنوں میں اتپن ہورہی ہیں ،خدا کرے اس چمن پر کوئی بری نظر نہ لگے اور ملک کسی برے حالات کا شکار نہ ہو، مگر کسان اور حکومت کے بیچ جو تکرار ہے وہ باعث تشویش ضرور ہے، جس کا مشاہدہ گزشتہ دنوں ہوچکا ہے ،اللہ کرے کوئی تخریبی ذہن یا ناپاک سازش کامیاب نہ ہوسکے،
عروس البلاد کی انٹری کیلئے ناشک اور پونے سے ٹریکٹر کا خوبصورت منظر،پنجاب، ہریانہ اور اترپردیش سے دارالحکومت میں داخل ہونے کیلئے مختلف اقسام کے ٹریکٹر پر انڈیا کا لہلہاتا ترنگا، ایک الگ ہی پیغام دےرہا ہے،ٹریکٹر پر ٹریکٹر ،آگے، پیچھے ٹریکٹر،دائیں بائیں ٹریکٹر کیا دلکش نظارہ ہے،
آزاد ہندوستان کا پہلا ہوم جمہوریہ ہوگا جہاں بھاری تعداد میں کسان ٹریکٹر پر پریڈ نکالینگے،جھآنکیاں پیش کرینگے،منظر تو یقینا دلفریب ہوگا،ملک کی محبت اور یکجھتی کا عظیم نمونہ ہوگا،ڈیموکریسی کی بڑی جیت ہوگی مگر ضروری ہے کہ امن و شانتی کے ساتھ یہ اختتام پزیر ہوجائے ،ملک کا اثاثہ سبھی باشندوں کا ہے اس کی حفاظت سبھوں کے زمہ ضروری ہے اسلئے ہم تمام لوگ خواہ حکومت کے ہوں یا کسان کے ،پولس انتظامیہ ہو یا دیگر اعلی آفیسران، ہر ایک اس دن کو جمہوری انداز میں منائیں، خاص کر کسان آندولن کاری اس پر پینی نظر رکھیں،ہر حرکات و سکنات پر نظر بنائے رکھیں پولس اور پرسآشن کا اور ممکن تعاون کریں ،متعینہ روڈ پر ہی ٹریکٹر لے جائیں بنا کسی نقصان کے یوم جمہوریہ منائیں پھر تو آگے آپکا مطالبہ بھی ہے اور سرکار بھی ہے،
یقینا حکومت سنجیدگی سے اس قضیے کو حل کریگی اور کوئی راستہ ضرور نکلے گا –