ٹرین میں خواتین پر ایک شخص کا خنجر سے حملہ، 10 زخمی

29

جاپان کی پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ٹوکیو میں ایک ٹرین کے 10 مسافروں پر خنجر سے حملہ کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا ہے.

پولیس نے واضح کیا ہے کہ ٹرین میں ہونے والے اس حملے کا ٹوکیو میں جاری کھیلوں کے عالمی مقابلوں ’اولمپکس‘ سے تعلق نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق 36 سالہ شخص نے ہفتے کو پولیس کو بتایا کہ وہ ان خواتین کو قتل کرنا چاہتا تھا جو خوش دکھائی دیتی تھیں۔

پولیس کے مطابق حملہ آور کا نام یوسو کیسو شیما ہے۔

جاپان کے نشریاتی ادارے ‘این ایچ کے’ اور ذرائع ابلاغ کی دیگر رپورٹس کے مطابق یوسو کی شکار پہلی خاتون کی عمر 20 برس تھی جس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

ٹوکیو کے فائر ڈپارٹمنٹ کے مطابق 10 میں سے 9 زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں لے جایا گیا جب کہ ایک خاتون معمولی زخمی ہونے کی وجہ سے خود چلی گئی تھیں۔

فائر ڈپارٹمنٹ کے مطابق تمام زخمی خواتین ہوش میں تھیں۔

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں ان دنوں اولمپکس منعقد کی جا رہی ہیں جس جگہ پر ان خواتین پر حملہ کیا گیا وہ مقام نیشنل اسٹیڈیم سے 15 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔

’این ایچ کے‘ کی رپورٹ کے مطابق مشتبہ شخص نے فرار ہوتے وقت اپنا خنجر وہاں ہی چھوڑ دیا جس کے بعد اس نے قریبی اسٹور میں جا کر اپنی شناخت خبروں میں دکھائے جانے والے مشتبہ شخص کے طور پر کرائی۔

اس کا کہنا تھا کہ وہ بھاگ بھاگ کر تھک چکا ہے۔

B4A7BEF7 10A3 4326 8D04 B0BFF99D96D0 w250 r1 s

 

رپورٹس کے مطابق اسٹور کے مینیجر نے اس شخص کی شرٹ پر خون کے دھبے دیکھنے کے بعد پولیس کو مطلع کیا تھا۔ مشتبہ شخص نے ٹرین کا انتخاب اس لیے کیا کیوں کہ وہ وہاں زیادہ لوگوں کو نشانہ بنا سکتا تھا۔

حکام کے مطابق حملہ آور کے پاس کوکنگ آئل اور لائٹر بھی موجود تھا جس کا مقصد ٹرین کے ڈبے میں آگ لگانا تھا۔

ایک اسٹیشن پر جہاں ٹرین آ کر رکی، وہاں موجود ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ مسافر ٹرین سے باہر بھاگ رہے تھے جب کہ بعض طبی امداد کے لیے پکار رہے تھے۔

ایک اور عینی شاہد نے ’این ایچ کے‘ کو بتایا کہ واقعے کے بعد طبی عملے اور پولیس کے درجنوں اہلکار موقع پر پہنچ گئے تھے۔

جاپان میں فائرنگ کے ذریعے بہت کم ہلاکتیں دیکھنے میں آتی ہیں البتہ حالیہ برسوں میں خنجر کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

دو برس قبل 2019 میں ایک شخص نے ٹوکیو سے باہر بس کے انتظار میں کھڑی لڑکیوں کے گروپ پر خنجروں سے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد حملہ آور نے اپنے آپ کو بھی ہلاک کر لیا تھا۔

علاوہ ازیں 2018 میں ایک شخص نے بُلٹ ٹرین میں خنجر کے حملے سے ایک مسافر کو ہلاک اور دو مسافروں کو زخمی کر دیا تھا۔

اس سے قبل 2016 میں معذور افراد کے گھر کے سابق ملازم نے مبینہ طور پر 19 افراد کو قتل اور 20 سے افراد کو زخمی کر دیا تھا۔

اس خبر میں مواد امریکی خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ سے لیا گیا ہے۔